<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 04:30:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 04:30:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اسٹیکرز کے نئے فیچر کی آزمائش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209800/</link>
      <description>&lt;p&gt;واٹس ایپ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹیکرز کے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ آئے روز اپنی ایپلی کیشن میں نئے فیچرز کا اضافہ کرتا رہتا ہے، قبل ازیں واٹس ایپ نے ایک ہی ایپ پر واٹس ایپ کے متعدد اکاؤنٹس چلانے کی آزمائش شروع کی تھی، اس فیچر کے ذریعے صارفین ایک ہی فون میں کئی واٹس ایپ اکاؤنٹس پر لاگ ان ہو سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب واٹس ایپ نے نئے فیچر کا اضافہ کیا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی مدد سے صارفین اپنی پسند کے مطابق اسٹیکرز تیار کر سکیں گے یعنی آپ جو اسٹیکر آپ چاہتے ہیں اس کو تحریری طور پر بیان کرنا ہوگا اور پھر اسی کے مطابق اے آئی اسٹیکر تیار ہوسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کی ویب بیٹا انفو کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://wabetainfo.com/whatsapp-beta-for-android-2-23-17-14-whats-new/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ فیچر ابھی آزمائشی مرحلے میں جو صرف چند اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے  واٹس ایپ بیٹا (beta) ورژن کے صارفین کے لیے محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہے کہ واٹس ایپ نے اس فیچر کے لیے کون سے اے آئی ماڈل کا انتخاب کیا ہے، کیونکہ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اسٹیکرز کی تیار کے لیے میٹا کی جانب سے پیش کردہ محفوظ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر مختلف اے آئی ماڈلز جیسے مڈ جرنی یا ڈیل ای سے ملتا جلتا نظر آتا ہے جس میں تحریر لکھ کر تصاویر تیار کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فیچر-کے-استعمال-کرنے-کا-طریقہ" href="#فیچر-کے-استعمال-کرنے-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیچر کے استعمال کرنے کا طریقہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1609483999d8958.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ نے اس نئے فیچر کا اسکرین شاٹ شئیر کیا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسٹیکر بورڈ کھلتے ہی create کے نام سے نیا آپشن نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آپشن کو کلک کرتے ہی ڈسکرپشن باکس اوپن ہوگا جس کے تحت صارفین ایسی پرسنلائزڈ تصاویر تیار کر سکیں گے جن کو دوستوں یا گروپس میں اسٹیکر کے طور پر شیئر کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے کسی کو ڈیزائن یا آرٹ کا ماہر ہونا لازمی نہیں ہے، اگر آپ کو اسٹیکر تیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تفصیل لکھ کر درج کریں جس کے بعد اس کا اینیمیٹڈ اے آئی ورژن تیار ہوسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی کی مدد سے اسٹیکرز تیار کرنے کے فیچر کا اعلان کرنے کے بعد تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ واٹس ایپ پر کس طرح کی تصاویر اور اسٹیکرز تیار اور شئیر کیے جاسکتے ہیں کیونکہ ماضی میں واٹس ایپ نے وائرل اور گمراہ کن پیغامات اور تصاویر کے علاوہ  کووڈ 19 کے دوران جھوٹی خبروں اور پیغامات کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کارروائی شروع کی تھی اور اس حوالے سے کمپنی کی جانب سے اقدامات بھی کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ویب انفو کی رپورٹ کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ ان اسٹیکرز کے بارے میں یہ جاننا آسان ہوگا کہ انہیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اسٹیکرز میں اے آئی کا واٹر مارک موجود ہوگا تاکہ صارفین کو معلوم ہوسکے کہ انہیں اے آئی ماڈل سے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے اور صرف محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اس فیچر کا تمام صارفین کے لیے متعارف کروایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واٹس ایپ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹیکرز کے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی ہے۔</p>
<p>واٹس ایپ آئے روز اپنی ایپلی کیشن میں نئے فیچرز کا اضافہ کرتا رہتا ہے، قبل ازیں واٹس ایپ نے ایک ہی ایپ پر واٹس ایپ کے متعدد اکاؤنٹس چلانے کی آزمائش شروع کی تھی، اس فیچر کے ذریعے صارفین ایک ہی فون میں کئی واٹس ایپ اکاؤنٹس پر لاگ ان ہو سکیں گے۔</p>
<p>تاہم اب واٹس ایپ نے نئے فیچر کا اضافہ کیا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی مدد سے صارفین اپنی پسند کے مطابق اسٹیکرز تیار کر سکیں گے یعنی آپ جو اسٹیکر آپ چاہتے ہیں اس کو تحریری طور پر بیان کرنا ہوگا اور پھر اسی کے مطابق اے آئی اسٹیکر تیار ہوسکے گا۔</p>
<p>واٹس ایپ کی ویب بیٹا انفو کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://wabetainfo.com/whatsapp-beta-for-android-2-23-17-14-whats-new/">رپورٹ</a></strong> کے مطابق یہ فیچر ابھی آزمائشی مرحلے میں جو صرف چند اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے  واٹس ایپ بیٹا (beta) ورژن کے صارفین کے لیے محدود ہے۔</p>
<p>یہ واضح نہیں ہے کہ واٹس ایپ نے اس فیچر کے لیے کون سے اے آئی ماڈل کا انتخاب کیا ہے، کیونکہ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اسٹیکرز کی تیار کے لیے میٹا کی جانب سے پیش کردہ محفوظ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ فیچر مختلف اے آئی ماڈلز جیسے مڈ جرنی یا ڈیل ای سے ملتا جلتا نظر آتا ہے جس میں تحریر لکھ کر تصاویر تیار کی جاتی ہیں۔</p>
<h3><a id="فیچر-کے-استعمال-کرنے-کا-طریقہ" href="#فیچر-کے-استعمال-کرنے-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیچر کے استعمال کرنے کا طریقہ</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/1609483999d8958.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>واٹس ایپ نے اس نئے فیچر کا اسکرین شاٹ شئیر کیا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسٹیکر بورڈ کھلتے ہی create کے نام سے نیا آپشن نظر آئے گا۔</p>
<p>اس آپشن کو کلک کرتے ہی ڈسکرپشن باکس اوپن ہوگا جس کے تحت صارفین ایسی پرسنلائزڈ تصاویر تیار کر سکیں گے جن کو دوستوں یا گروپس میں اسٹیکر کے طور پر شیئر کیا جا سکے گا۔</p>
<p>اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے کسی کو ڈیزائن یا آرٹ کا ماہر ہونا لازمی نہیں ہے، اگر آپ کو اسٹیکر تیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تفصیل لکھ کر درج کریں جس کے بعد اس کا اینیمیٹڈ اے آئی ورژن تیار ہوسکے گا۔</p>
<p>اے آئی کی مدد سے اسٹیکرز تیار کرنے کے فیچر کا اعلان کرنے کے بعد تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ واٹس ایپ پر کس طرح کی تصاویر اور اسٹیکرز تیار اور شئیر کیے جاسکتے ہیں کیونکہ ماضی میں واٹس ایپ نے وائرل اور گمراہ کن پیغامات اور تصاویر کے علاوہ  کووڈ 19 کے دوران جھوٹی خبروں اور پیغامات کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کارروائی شروع کی تھی اور اس حوالے سے کمپنی کی جانب سے اقدامات بھی کیے گئے تھے۔</p>
<p>تاہم ویب انفو کی رپورٹ کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ ان اسٹیکرز کے بارے میں یہ جاننا آسان ہوگا کہ انہیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>ان اسٹیکرز میں اے آئی کا واٹر مارک موجود ہوگا تاکہ صارفین کو معلوم ہوسکے کہ انہیں اے آئی ماڈل سے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ فیچر ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے اور صرف محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اس فیچر کا تمام صارفین کے لیے متعارف کروایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209800</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Aug 2023 12:27:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/160956586b168ad.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/160956586b168ad.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: آئی اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
