<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:30:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:30:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹیلیجنس بیورو بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے، جسٹس اطہر من اللہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209974/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان  نے ریمارکس دیے کہ ہم نے ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے، رپورٹ کے مطابق 175 ارب روپے کا نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رپورٹ میں ایک مجموعی تخمینہ دیا گیا مگر سوسائٹیوں سے وضاحت طلب نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ایف آئی اے کیسے نجی بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں ، آئی بی بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے، ان اداروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے، ہاؤسنگ سوسائٹی چلانا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1071964"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس  نے کہا کہ اگر آئی بی کی ہاؤسنگ سوسائٹی ہوگی تو اس کے ساتھ کون مقابلہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں، اس معاملے پر الگ سے از خود نوٹس ہو سکتا ہے، دیکھتے ہیں از خود نوٹس لینا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہو گا ہمارے سامنے کوئی درخواست آ جائے، ہم از خود نوٹس لینے میں محتاط ہیں ، از خود نوٹس کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق کیس کے دوران پیش کی گئی ایک رپورٹ میں  وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بتایا تھا کہ پاکستان میں 6 ہزار غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں، ملک میں مجموعی طور پر 667 میں سے 279 کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے معاملات کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔</p>
<p>دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان  نے ریمارکس دیے کہ ہم نے ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے، رپورٹ کے مطابق 175 ارب روپے کا نقصان ہوا۔</p>
<p>جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رپورٹ میں ایک مجموعی تخمینہ دیا گیا مگر سوسائٹیوں سے وضاحت طلب نہیں کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ایف آئی اے کیسے نجی بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟</p>
<p>جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں ، آئی بی بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے، ان اداروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے، ہاؤسنگ سوسائٹی چلانا نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1071964"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چیف جسٹس  نے کہا کہ اگر آئی بی کی ہاؤسنگ سوسائٹی ہوگی تو اس کے ساتھ کون مقابلہ کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں، اس معاملے پر الگ سے از خود نوٹس ہو سکتا ہے، دیکھتے ہیں از خود نوٹس لینا ہے یا نہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہو گا ہمارے سامنے کوئی درخواست آ جائے، ہم از خود نوٹس لینے میں محتاط ہیں ، از خود نوٹس کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ سے متعلق کیس کے دوران پیش کی گئی ایک رپورٹ میں  وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بتایا تھا کہ پاکستان میں 6 ہزار غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں، ملک میں مجموعی طور پر 667 میں سے 279 کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے معاملات کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209974</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Aug 2023 13:49:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/181311265a31535.png?r=132842" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/181311265a31535.png?r=132842"/>
        <media:title>جسٹس اطہر من اللہ نے کہا اداروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے، ہاؤسنگ سوسائٹی چلانا نہیں— فائل فوٹو: اسلام آباد ہائی کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
