<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:11:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:11:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں لوگوں پر حملہ کرنے والے اہلکار کا نفسیاتی علاج جاری ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210021/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں جس اہلکار کو عوام کو مارتے اور بدزبانی کرتے ہوئے دیکھا گیا، وہ نفسیاتی بیماری کا شکار ہے جس کا علاج کروایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل آج سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج وائرل ہوئی تھی جس میں موٹرسائیکل پر سوار پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کو ایک یوٹیوبر کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے، یوٹیوبر نے پولیس اہلکار کو روک کر اس سے کئی بار گاڑی کی نمبر پلیٹ نہ ہونے کے بارے میں سوال کیا جس پر پولیس اہلکار آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے یوٹیوبر پر مکے بازی کرتے ہوئے جائے وقوع پر جمع ہونے والے دوسرے لوگوں کو مغلظات بکنے کے ساتھ ساتھ بدتمیزی بھی کی تھی، اس موقع پر پولیس اہلکار کو مداخلت کی کوشش کرنے والے افراد کو بھی مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے یوٹیوبر کو دھکے دیے اور گھونسے مارے اور جب اس دوران یوٹیوبر نے پنجاب پولیس کے سربراہ کا ذکر کیا تو انہوں نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو بھی گالی دے ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OfficialDPRPP/status/1692531954934222875"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پولیس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے اس واقعے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ جس شخص سے سوالات پوچھے جا رہے تھے وہ ایک کانسٹیبل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ یہ پولیس اہلکار نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے اور اس کا علاج کیا جا رہا ہے، یہ اہلکار پہلے ڈیوٹی سے غیرحاضر بھی رہ چکا ہے اور اس وقت بھی اس کی دماغی حالت ٹھیک کرنے، سکون بخشنے اور مکمل علاج کرنے کے لیے علاج کا عمل شروع کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ دو لاکھ سے زائد پولیس فورس کی ہیلتھ اسکریننگ کے بعد 10 بیماریوں کا علاج معالجہ تکمیل کے مراحل میں ہے اور پولیس کے تمام کانسٹیبلز کو بھی یقین دلایا کہ ان میں سے کسی کو بھی سائیکو سوشل پروفائلنگ کے بعد ان کی ملازمت سے برطرف نہیں کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پولیس افسران اور اہلکار نفسیاتی پروفائلنگ کے بعد غیر ضروری طور پر خوفزدہ ہیں لیکن سائیکو سوشل پروفائلنگ کا مقصد کسی ملازم کو نقصان پہنچانا یا انہیں نوکری سے برخاست کرنا نہیں بلکہ متاثرہ ملازمین کو علاج اور مشاورت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ جن ملازمین میں نفسیاتی عارضےکی تشخیص ہو گی انہیں متعلقہ پیشہ ورانہ افراد کے پاس بھیجا جائے گا اور مشاورتی سیشن کے بعد ان کی ضروریات کے مطابق علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سائیکو سوشل پروفائلنگ ایک طویل عمل ہے جسے مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں جس اہلکار کو عوام کو مارتے اور بدزبانی کرتے ہوئے دیکھا گیا، وہ نفسیاتی بیماری کا شکار ہے جس کا علاج کروایا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل آج سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج وائرل ہوئی تھی جس میں موٹرسائیکل پر سوار پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کو ایک یوٹیوبر کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے، یوٹیوبر نے پولیس اہلکار کو روک کر اس سے کئی بار گاڑی کی نمبر پلیٹ نہ ہونے کے بارے میں سوال کیا جس پر پولیس اہلکار آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے یوٹیوبر پر مکے بازی کرتے ہوئے جائے وقوع پر جمع ہونے والے دوسرے لوگوں کو مغلظات بکنے کے ساتھ ساتھ بدتمیزی بھی کی تھی، اس موقع پر پولیس اہلکار کو مداخلت کی کوشش کرنے والے افراد کو بھی مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اہلکار نے یوٹیوبر کو دھکے دیے اور گھونسے مارے اور جب اس دوران یوٹیوبر نے پنجاب پولیس کے سربراہ کا ذکر کیا تو انہوں نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو بھی گالی دے ڈالی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OfficialDPRPP/status/1692531954934222875"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پنجاب پولیس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے اس واقعے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ جس شخص سے سوالات پوچھے جا رہے تھے وہ ایک کانسٹیبل ہے۔</p>
<p>صوبائی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ یہ پولیس اہلکار نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے اور اس کا علاج کیا جا رہا ہے، یہ اہلکار پہلے ڈیوٹی سے غیرحاضر بھی رہ چکا ہے اور اس وقت بھی اس کی دماغی حالت ٹھیک کرنے، سکون بخشنے اور مکمل علاج کرنے کے لیے علاج کا عمل شروع کر چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ دو لاکھ سے زائد پولیس فورس کی ہیلتھ اسکریننگ کے بعد 10 بیماریوں کا علاج معالجہ تکمیل کے مراحل میں ہے اور پولیس کے تمام کانسٹیبلز کو بھی یقین دلایا کہ ان میں سے کسی کو بھی سائیکو سوشل پروفائلنگ کے بعد ان کی ملازمت سے برطرف نہیں کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پولیس افسران اور اہلکار نفسیاتی پروفائلنگ کے بعد غیر ضروری طور پر خوفزدہ ہیں لیکن سائیکو سوشل پروفائلنگ کا مقصد کسی ملازم کو نقصان پہنچانا یا انہیں نوکری سے برخاست کرنا نہیں بلکہ متاثرہ ملازمین کو علاج اور مشاورت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ جن ملازمین میں نفسیاتی عارضےکی تشخیص ہو گی انہیں متعلقہ پیشہ ورانہ افراد کے پاس بھیجا جائے گا اور مشاورتی سیشن کے بعد ان کی ضروریات کے مطابق علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سائیکو سوشل پروفائلنگ ایک طویل عمل ہے جسے مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210021</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Aug 2023 23:57:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/18223435d1cc595.jpg?r=223512" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/18223435d1cc595.jpg?r=223512"/>
        <media:title>پولیس اہلکار نے سوال پوچھنے والے یوٹیوبر کو تشدد کا نشانہ بنایا — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
