<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 02:55:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 02:55:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس کا 47سال بعد چاند پر بھیجا گیا پہلا مشن کریش ہو گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210145/</link>
      <description>&lt;p&gt;روس کا 47 سالوں میں چاند کا پہلا مشن اس وقت ناکام ہو گیا جب اس کا لیونا-25 خلائی جہاز قابو سے باہر ہو گیا اور چاند پر اترنے سے قبل چاند پر گر کر تباہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روس کی ریاستی خلائی کارپوریشن روسکوسموس نے کہا کہ ان کا جہاز سے رابطہ ہفتہ کو ایک مسئلے کے بعد 11 بجکر 57 منٹ پر منقطع ہو گیا تھا کیونکہ جہاز کو پری لینڈنگ کے مدار میں چھوڑ دیا گیا تھا، اس جہاز کی پیر کو لینڈنگ کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسکوسموس نے ایک بیان میں کہا کہ اپریٹس ایک غیر متوقع مدار میں چلا گیا اور چاند کی سطح سے ٹکرانے کے بعد اس کا وجود ختم ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/isro/status/1693181653273940240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کہا گیا ہے کہ لیونا-25 کرافٹ کے ضائع ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی بین ڈپارٹمنٹل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جہاں اس مشن نے روس میں یہ امیدیں پیدا کردی تھیں کہ وہ چاند کی بڑی طاقت کی دوڑ میں ایک بار پھر شامل ہونے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ناکامی نے روس کی ایک مرتبہ پھر چاند تک رسائی کی دوڑ میں شامل ہونے کی امیدوں کو برا دھچکا پہنچایا جہاں ماضی کی سپرپاور نے 1957 میں زمین کا چکر لگانے کے لیے پہلا سیٹلائٹ اسپٹنک-1 لانچ کیا تھا اور 1961 میں سوویت خلاباز یوری گاگرین خلا میں سفر کرنے والے پہلے انسان بن گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب روس کی 20 کھرب ڈالر کی معیشت کو کئی دہائیوں کے سب سے بڑے بیرونی چیلنج کا سامنا ہے جہاں ایک طرف اسے مغربی پابندیوں کے دباؤ کا خطرہ ہے تو دوسری جانب دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی زمینی جنگ کا خطرہ درپیش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ چاند کے مشن کافی مشکل ہیں اور بہت سی امریکی اور سوویت کوششیں ناکام ہو چکی ہیں تاہم روس نے 1976 میں لیونا-24 کے بعد سے چاند کے مشن کی کوشش نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت چاند تک رسائی کی اس دوڑ میں بھارت کا چیلنج درپیش ہے جس کا چندریان-3 خلائی جہاز اس ہفتے چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیونا-25 کی ناکامی کی خبر منظرعام پر آتے ہی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے ایکس(سابقہ ٹوئٹر)پر پیغام میں کہا کہ چندریان-3 کو 23 اگست کو لینڈ ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی حکام نے امید ظاہر کی تھی کہ لیونا-25 مشن یہ ثابت کردے گا کہ روس سوویت یونین کے بعد آنے والے زوال اور یوکرین کی جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود خلا میں سپر پاورز کا مقابلہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>روس کا 47 سالوں میں چاند کا پہلا مشن اس وقت ناکام ہو گیا جب اس کا لیونا-25 خلائی جہاز قابو سے باہر ہو گیا اور چاند پر اترنے سے قبل چاند پر گر کر تباہ ہو گیا۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روس کی ریاستی خلائی کارپوریشن روسکوسموس نے کہا کہ ان کا جہاز سے رابطہ ہفتہ کو ایک مسئلے کے بعد 11 بجکر 57 منٹ پر منقطع ہو گیا تھا کیونکہ جہاز کو پری لینڈنگ کے مدار میں چھوڑ دیا گیا تھا، اس جہاز کی پیر کو لینڈنگ کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>روسکوسموس نے ایک بیان میں کہا کہ اپریٹس ایک غیر متوقع مدار میں چلا گیا اور چاند کی سطح سے ٹکرانے کے بعد اس کا وجود ختم ہو گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/isro/status/1693181653273940240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اس میں کہا گیا ہے کہ لیونا-25 کرافٹ کے ضائع ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی بین ڈپارٹمنٹل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جہاں اس مشن نے روس میں یہ امیدیں پیدا کردی تھیں کہ وہ چاند کی بڑی طاقت کی دوڑ میں ایک بار پھر شامل ہونے جا رہا ہے۔</p>
<p>اس ناکامی نے روس کی ایک مرتبہ پھر چاند تک رسائی کی دوڑ میں شامل ہونے کی امیدوں کو برا دھچکا پہنچایا جہاں ماضی کی سپرپاور نے 1957 میں زمین کا چکر لگانے کے لیے پہلا سیٹلائٹ اسپٹنک-1 لانچ کیا تھا اور 1961 میں سوویت خلاباز یوری گاگرین خلا میں سفر کرنے والے پہلے انسان بن گئے تھے۔</p>
<p>یہ معاملہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب روس کی 20 کھرب ڈالر کی معیشت کو کئی دہائیوں کے سب سے بڑے بیرونی چیلنج کا سامنا ہے جہاں ایک طرف اسے مغربی پابندیوں کے دباؤ کا خطرہ ہے تو دوسری جانب دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی زمینی جنگ کا خطرہ درپیش ہے۔</p>
<p>اگرچہ چاند کے مشن کافی مشکل ہیں اور بہت سی امریکی اور سوویت کوششیں ناکام ہو چکی ہیں تاہم روس نے 1976 میں لیونا-24 کے بعد سے چاند کے مشن کی کوشش نہیں کی۔</p>
<p>اس وقت چاند تک رسائی کی اس دوڑ میں بھارت کا چیلنج درپیش ہے جس کا چندریان-3 خلائی جہاز اس ہفتے چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا ہے۔</p>
<p>لیونا-25 کی ناکامی کی خبر منظرعام پر آتے ہی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے ایکس(سابقہ ٹوئٹر)پر پیغام میں کہا کہ چندریان-3 کو 23 اگست کو لینڈ ہونا تھا۔</p>
<p>روسی حکام نے امید ظاہر کی تھی کہ لیونا-25 مشن یہ ثابت کردے گا کہ روس سوویت یونین کے بعد آنے والے زوال اور یوکرین کی جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود خلا میں سپر پاورز کا مقابلہ کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210145</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Aug 2023 00:35:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/2100332362ad29c.jpg?r=003343" type="image/jpeg" medium="image" height="1125" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/2100332362ad29c.jpg?r=003343"/>
        <media:title>روس نے 1976 میں لیونا-24 کے بعد سے چاند کے مشن کی کوشش نہیں کی تھی— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
