<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 02:48:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 02:48:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس: ویگنر گروپ میں بغاوت، یوکرین جنگ میں اہم کمانڈر سرگئی سرووکِن برطرف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210343/</link>
      <description>&lt;p&gt;یوکرین جنگ میں روس کے اہم کمانڈر اور ایرو اسپیس فورس کے سربراہ جنرل سرگئی سرووکِن کو جون میں ویگنر فوجی گروپ کی ناکام بغاوت کے بعد عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اپنے بے رحم طریقوں کی وجہ سے ’جنرل آرماجیڈن‘ کے نام سے مشہور جنرل سرگئی سرووکِن کے ویگنر فوجی گروپ کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور افواہیں تھیں کہ گروپ کی جانب سے روس کی فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی میڈیا کے مطابق سرگئی سرووکین کی جگہ اب کرنل وکٹر افضل ایرو اسپیس فورس کے چیف آف اسٹاف کا عارضی طور پر عہدہ سنبھالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگئی سرووکین افغانستان پر سوویت یونین حملے سے شروع ہونے والی ماسکو کی جنگوں کا تجربہ کار، ماسکو کی یوکرین پر جنگ میں ایک سرکردہ کمانڈر اور طویل عرصے سے وزارت دفاع میں ویگنر گروپ کے اتحادی کے طور پر کام کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی میں ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے روسی فوجی رہنماؤں پر اپنی افواج فراہم کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا تھا جہاں سرگئی سرووکین کو سرکاری طور پر ویگنر گروپ اور فوج کے درمیان ثالث کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر 23 اور 24 جون کی درمیانی رات جب ویگنر گروپ کے سربراہ یوگینی پریگوزین نے روس کی فوجی کمان کو گرانے کا مطالبہ کیا تو سرگئی سرووکین نے کرائے کے فوجی گروپ سے ایک انتہائی غیر معمولی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد یوگینی پریگوزن نے اپنی افواج واپس کیں اور کریملن کے ساتھ بیلاروس جلاوطن ہونے کے معاہدے پر اتفاق کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگئی سرووکین اس کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس سے قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے یا ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں جولائی میں روس کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز اور سابق فوجی افسر نے کہا تھا کہ سرگئی سرووکین آرام کر رہے ہیں اور وہ عملی طور پر میدان میں موجود نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یوکرین جنگ میں روس کے اہم کمانڈر اور ایرو اسپیس فورس کے سربراہ جنرل سرگئی سرووکِن کو جون میں ویگنر فوجی گروپ کی ناکام بغاوت کے بعد عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>غیرملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اپنے بے رحم طریقوں کی وجہ سے ’جنرل آرماجیڈن‘ کے نام سے مشہور جنرل سرگئی سرووکِن کے ویگنر فوجی گروپ کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور افواہیں تھیں کہ گروپ کی جانب سے روس کی فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p>روسی میڈیا کے مطابق سرگئی سرووکین کی جگہ اب کرنل وکٹر افضل ایرو اسپیس فورس کے چیف آف اسٹاف کا عارضی طور پر عہدہ سنبھالیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206605"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سرگئی سرووکین افغانستان پر سوویت یونین حملے سے شروع ہونے والی ماسکو کی جنگوں کا تجربہ کار، ماسکو کی یوکرین پر جنگ میں ایک سرکردہ کمانڈر اور طویل عرصے سے وزارت دفاع میں ویگنر گروپ کے اتحادی کے طور پر کام کر رہا تھا۔</p>
<p>مئی میں ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے روسی فوجی رہنماؤں پر اپنی افواج فراہم کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا تھا جہاں سرگئی سرووکین کو سرکاری طور پر ویگنر گروپ اور فوج کے درمیان ثالث کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208079"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پھر 23 اور 24 جون کی درمیانی رات جب ویگنر گروپ کے سربراہ یوگینی پریگوزین نے روس کی فوجی کمان کو گرانے کا مطالبہ کیا تو سرگئی سرووکین نے کرائے کے فوجی گروپ سے ایک انتہائی غیر معمولی اپیل کی۔</p>
<p>24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد یوگینی پریگوزن نے اپنی افواج واپس کیں اور کریملن کے ساتھ بیلاروس جلاوطن ہونے کے معاہدے پر اتفاق کرلیا۔</p>
<p>سرگئی سرووکین اس کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس سے قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے یا ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p>بعدازاں جولائی میں روس کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز اور سابق فوجی افسر نے کہا تھا کہ سرگئی سرووکین آرام کر رہے ہیں اور وہ عملی طور پر میدان میں موجود نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210343</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Aug 2023 21:10:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/231826357adf08c.jpg?r=182720" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/231826357adf08c.jpg?r=182720"/>
        <media:title>سرگئی سرووکین نے اس کے بعد عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہوئے، جس سے سخت قیاس آرائیاں ہوئیں کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے یا ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے: فائل فوٹو: روسی وزارت دفاع
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
