<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:14:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:14:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی کی چینی صدر سے ملاقات، لائن آف ایکچوئل کنٹرول سمیت سرحدی مسائل پر گفتگو</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210433/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جوہانسبرگ میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ سے بات کی اور انہیں لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی) کے حوالے سے سرحدی مسائل سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر  ایجنسی رائٹرز کے مطابق بھارتی خارجہ سیکریٹری ونے کواترا نے کہا کہ مودی اور شی جن پنگ نے اپنے متعلقہ عہدیداروں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایات دینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2020 میں ہمالیہ کی سرحد پر دونوں اطراف کے فوجیوں کی جھڑپوں کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات تین سال سے زیادہ عرصے سے کشیدہ ہیں،  ان جھڑپوں میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209251"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ کچھ عرصہ قبل ہونے والی کشیدگی کے بعد حالیہ عرصے سے تقریباً 3ہزار کلومیٹر پر پھیلی سرحد پر صورت حال پرسکون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونے کواترا نے کہا کہ برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر مودی نے چینی صدر کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ حل نہ ہونے والے مسائل پر بھارت کے خدشات سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں امن و آشتی برقرار رکھنا لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا احترام بھارت-چین تعلقات معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع ہے جب مودی نے شی جن پنگ کے ساتھ براہ راست یہ معاملہ اٹھایا ہے جہاں اس سے قبل بھارت اپنے دوسرے وزرا کے ذریعے بھی چین کو یہی پیغام کئی بار پہنچا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208540"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت نے حال ہی میں کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ سال انڈونیشیا میں جی20 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بات چیت کی تھی لیکن اس موقع پر انہوں نے صرف شائستگی سے تبادلہ خیال کیا تھا اور تعلقات مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹر کے مطابق بھارت اور چین کے درمیان سرحدی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کئی سطح پر بات چیت ہوئی ہے لیکن ابھی تک کوئی حل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں کے جوہانسبرگ کے سفر سے عین قبل دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں نے اس معاملے پر پیش رفت کے لیے ہمالیہ کی سرحد پر 5 دن تک بات چیت کی، اگرچہ دونوں فریقین نے کہا تھا کہ بات چیت مثبت رہی ہے لیکن فوجیوں کی واپسی پر کوئی بات نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے وزرائے خارجہ اور دفاع نے اس سال کے اوائل میں جی20 اور شنگھائی تعاون تنظیم ڈائیلاگ کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا اور اپنے بھارتی ہم منصبوں سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جوہانسبرگ میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ سے بات کی اور انہیں لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی) کے حوالے سے سرحدی مسائل سے آگاہ کیا۔</p>
<p>خبر  ایجنسی رائٹرز کے مطابق بھارتی خارجہ سیکریٹری ونے کواترا نے کہا کہ مودی اور شی جن پنگ نے اپنے متعلقہ عہدیداروں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایات دینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>جون 2020 میں ہمالیہ کی سرحد پر دونوں اطراف کے فوجیوں کی جھڑپوں کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات تین سال سے زیادہ عرصے سے کشیدہ ہیں،  ان جھڑپوں میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209251"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>البتہ کچھ عرصہ قبل ہونے والی کشیدگی کے بعد حالیہ عرصے سے تقریباً 3ہزار کلومیٹر پر پھیلی سرحد پر صورت حال پرسکون ہے۔</p>
<p>ونے کواترا نے کہا کہ برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر مودی نے چینی صدر کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ حل نہ ہونے والے مسائل پر بھارت کے خدشات سے آگاہ کیا۔</p>
<p>سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں امن و آشتی برقرار رکھنا لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا احترام بھارت-چین تعلقات معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>یہ پہلا موقع ہے جب مودی نے شی جن پنگ کے ساتھ براہ راست یہ معاملہ اٹھایا ہے جہاں اس سے قبل بھارت اپنے دوسرے وزرا کے ذریعے بھی چین کو یہی پیغام کئی بار پہنچا چکا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208540"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی حکومت نے حال ہی میں کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ سال انڈونیشیا میں جی20 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بات چیت کی تھی لیکن اس موقع پر انہوں نے صرف شائستگی سے تبادلہ خیال کیا تھا اور تعلقات مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔</p>
<p>رپورٹر کے مطابق بھارت اور چین کے درمیان سرحدی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کئی سطح پر بات چیت ہوئی ہے لیکن ابھی تک کوئی حل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں کے جوہانسبرگ کے سفر سے عین قبل دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں نے اس معاملے پر پیش رفت کے لیے ہمالیہ کی سرحد پر 5 دن تک بات چیت کی، اگرچہ دونوں فریقین نے کہا تھا کہ بات چیت مثبت رہی ہے لیکن فوجیوں کی واپسی پر کوئی بات نہیں ہوئی۔</p>
<p>چین کے وزرائے خارجہ اور دفاع نے اس سال کے اوائل میں جی20 اور شنگھائی تعاون تنظیم ڈائیلاگ کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا اور اپنے بھارتی ہم منصبوں سے ملاقات کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210433</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Aug 2023 00:46:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/242321589e2e791.jpg?r=232355" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/242321589e2e791.jpg?r=232355"/>
        <media:title>یہ پہلا موقع ہے جب مودی نے شی جن پنگ کے ساتھ براہ راست یہ معاملہ اٹھایا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
