<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:21:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:21:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چندریان 3 اور دیدۂ عبرت نگاہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210441/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور بھارت کے مابین روایتی چپقلش اپنی جگہ، لیکن چندریان سوم (چندریان 3) مشن کی کامیابی پر بھارت کو مبارک باد تو بنتی ہے۔ امید ہے کہ اس ’نیوٹرل اظہارِ خیال‘ پر مجھ ناچیز پر کوئی ’لیبل‘ تو نہیں لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کی اطلاعات کے مطابق، چندریان 3 مشن کا لینڈر ’وکرم‘ چاند کی سطح پر باحفاظت اترنے میں کامیاب ہوچکا ہے اور اس میں رکھی گئی چاند گاڑی یعنی ’پرگیان روور‘ بھی چاند کی سطح پر اتاری جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2513074817ee2f7.gif'  alt='  ویڈیو&amp;mdash; اِسرو  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ویڈیو— اِسرو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکرم لینڈر جس جگہ اترا ہے، وہ چاند کے جنوبی قطب سے قریب ہے۔ اس سے پہلے تک انسان کی بنائی ہوئی کوئی چیز یہاں نہیں اتری تھی۔ گویا اس کامیابی کے ساتھ ہی بھارت وہ پہلا ملک بھی بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی سے اپنا لینڈر اتارا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1694713817916473530"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;چاند کا تاریک رُخ&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;چاند کا جنوبی قطب اور اس کے آس پاس کا علاقہ بہت خاص ہے۔ چاند کا یہ حصہ زمین سے دکھائی نہیں دیتا اور سورج کی روشنی بھی یہاں بہت کم پہنچ پاتی ہے۔ اسی لیے اسے ’چاند کا تاریک رُخ‘ (ڈارک سائیڈ آف دی مون) بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں چاند کے اس علاقے میں پانی کی وافر مقدار کے اشارے مل چکے ہیں جو (ممکنہ طور پر) برف کی شکل میں، زیرِ سطح موجود ہے۔ اگر کسی طرح یہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کس قدر پانی ہے، تو شاید مستقبل بعید میں چاند پر انسانی بستیاں بسانے میں بھی خاصی مدد مل جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قصہ مختصر یہ کہ ہمیں فراخ دلی سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ بھارت نے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں واقعتاً ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
اس پورے قصے میں وکرم لینڈر کا چاند پر اُترنا تو صرف ایک پہلو ہے، ورنہ چندریان 3 مشن کی کامیابی میں خلائی راکٹ (اسپیس لانچ وہیکل) بنانے سے لے کر پیچیدہ ٹیکنالوجی اور مشن کنٹرول تک، ایسا بہت کچھ ہے کہ جس کے بارے میں عام لوگ نہیں جانتے (اور شاید جاننا بھی نہیں چاہتے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تکنیکی تفصیل میں جائے بغیر، صرف اتنا سمجھ لیجیے چندریان مشن اپنے آپ میں سیکڑوں نہیں تو درجنوں ٹیکنالوجیز کا مجموعہ ہے؛ جن میں ہر ٹیکنالوجی، دوسری کے ساتھ بخوبی مربوط (integrated) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25095319a91cfba.jpg'  alt='  چندریان 3&amp;mdash; تصویر: اِسرو  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چندریان 3— تصویر: اِسرو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;ہم کہاں کھڑے ہیں؟&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251015035e9e2c5.png'  alt='پاکستان کی جانب سے بھیجا جانے والا پہلا راکٹ (1962ء)     ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان کی جانب سے بھیجا جانے والا پہلا راکٹ (1962ء)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج لگ بھگ ہر پاکستانی ایک سوال ضرور کر رہا ہے کہ بھارت چاند پر پہنچ گیا، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارا خلائی پروگرام آگے کیوں نہیں بڑھ پایا؟ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو پچھلے چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر گشت کر رہا ہے اور جسے یہاں دہرانا ہمارے لیے ’مناسب‘ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک جواب اور ہے جسے پڑھنے، برداشت کرنے اور ہضم کرنے کے لیے اعلیٰ ظرفی کے ساتھ ساتھ دیدۂ عبرت نگاہ کی بھی ضرورت ہے تاکہ آنے والے برسوں میں ہم سے وہ غلطیاں نہ ہوں جو ہم آج تک کرتے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کے صفحات سے کچھ مناظر آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ ان واقعات کو پڑھ کر غصے کے مارے لال پیلے ہوتے ہیں، عبرت حاصل کرتے ہیں، یا پھر ’سانوں کی‘ کہہ کر جان چھڑاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;باپ کے خطوط، بیٹی کے نام&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;1929ء میں ایک کتاب شائع ہوتی ہے جس کا عنوان &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.amazon.com/Letters-Father-Daughter-Jawaharlal-Nehru/dp/0670058165"&gt;&lt;strong&gt;’لیٹرز فرام اے فادر ٹو ہز ڈاٹر‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (باپ کے خطوط، بیٹی کے نام) ہے۔ یہ اُن 30 خطوط کا مجموعہ ہے جو کانگریسی رہنما جواہر لعل نہرو نے 1928ء میں اپنی دس سالہ بیٹی ’اندرا‘ کو لکھے تھے تاکہ اسے جدید زمانے کا علم و شعور دے سکیں۔ خطوط کا یہ مجموعہ (جو آج بھی خاصا مقبول ہے) سائنس سے لے کر انسانی تاریخ تک درجنوں موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ کانگریسی قیادت اپنی نئی نسل کو فکری و علمی طور پر خوب سے خوب تر بنانے کے معاملے میں کس قدر سنجیدہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;مجھے ایم آئی ٹی دے دو!&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;برصغیر میں پاکستان اور بھارت کے نام سے دو آزاد ملک وجود میں آچکے ہیں۔ امریکا نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کو دورے کی دعوت دی ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم دورۂ امریکا پر پہنچتے ہیں۔ امریکی حکام انہیں گھماتے ہیں، پھراتے ہیں، اپنے یہاں کی چیزیں دکھاتے ہیں اور آخر میں پوچھتے ہیں: آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ جواب میں پاکستانی وزیرِ اعظم کچھ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.presidency.ucsb.edu/documents/statement-the-president-upon-signing-the-pakistan-wheat-aid-act"&gt;&lt;strong&gt;غذائی اور دفاعی امداد کی فرمائش کرتے ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔ فرمائش پوری ہوتی ہے۔ پاکستان کو امریکی طیارے ملتے ہیں اور لاک ہیڈ مارٹن والے انجینئرنگ سے متعلق اپنی کچھ تنصیبات بھی پاکستان میں لگاتے ہیں۔ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1952-54v01p1/d196"&gt;&lt;strong&gt;غذائی تعاون&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے تحت جب گندم سے بھرا ہوا پہلا امریکی جہاز کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتا ہے تو اونٹوں کے گلوں میں خصوصی تختیاں لٹکائی جاتی ہیں جن پر ’تھینک یو یو ایس اے‘ لکھا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25102506664b2ed.jpg'  alt='  اونٹوں کے گلوں میں خصوصی تختیاں لٹکی ہیں&amp;mdash; تصویر: ڈان اخبار  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اونٹوں کے گلوں میں خصوصی تختیاں لٹکی ہیں— تصویر: ڈان اخبار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پہلے بھارتی وزیرِ اعظم بھی امریکی دورے پر جاتے ہیں۔ انہیں بھی گھمایا پھرایا جاتا ہے، امریکا میں بننے والی چیزیں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے وغیرہ دکھائے جاتے ہیں۔ امریکی حکام ان سے بھی وہی سوال کرتے ہیں: آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ اس پر بھارتی وزیرِ اعظم (جواہر لعل نہرو) کا جواب آج تک مشہور ہے کہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hup.harvard.edu/catalog.php?isbn=9780674504714"&gt;&lt;strong&gt;مجھے ایم آئی ٹی دے دو!&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، المعروف ایم آئی ٹی، امریکا کا مشہور اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی ادارہ ہے)۔ نتیجتاً امریکی تعاون سے ہندوستان میں ایم آئی ٹی کی طرز پر اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے بنائے جاتے ہیں۔ (ان ہی میں سے ایک ’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ (آئی آئی ٹی) ہے جو آج اپنے تعلیمی معیار کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہو چکا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2510452139594c6.jpg'  alt='  بھارتی شہر کھرگپور میں قائم ہونے والا پہلا آئی آئی ٹی&amp;mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بھارتی شہر کھرگپور میں قائم ہونے والا پہلا آئی آئی ٹی— تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;ہمارا ماڈل راکٹ اور پی آئی اے سیارگاہ&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;یہ 1984ء ہے کراچی میں عالمی صنعتی نمائش لگی ہوئی ہے۔ (یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل کراچی ایکسپو سینٹر قائم ہے) نمائش میں پاکستانی خلائی تحقیقی ادارے ’سُپارکو‘ (اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیرک ریسرچ کمیشن) کا اسٹال بھی ہے جہاں دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ایک ماڈل راکٹ بھی رکھا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ لگی تختی پر (انگریزی میں) ’اسپیس لانچ وہیکل (ایس ایل وی)‘ لکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم جیسے اردو میڈیم، سرکاری اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے لیے یہ نام خاصا اجنبی اور عجیب و غریب ہے۔ ویسے بھی زندگی میں پہلی بار کسی راکٹ کا ماڈل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سُپارکو کے تحت مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے کے لیے ’خلائی راکٹ‘ (ایس ایل وی) کے منصوبے پر بھی کام ہورہا ہے۔ یہ منصوبہ ایک ماڈل سے آگے نہیں بڑھ پایا۔۔۔ اور بالآخر اپنی موت آپ مرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251131366130c52.jpg'  alt='  پی آئی اے پلینیٹریم (1985ء)&amp;mdash; تصویر: ڈان  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پی آئی اے پلینیٹریم (1985ء)— تصویر: ڈان&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی نمائش کے موقع پر ’پی آئی اے سیارگاہ‘ (پی آئی اے پلینٹیریم) کا افتتاح بھی بہت دھوم دھام سے کیا گیا تھا۔ آج بھی جب آپ یونیورسٹی روڈ پر ایکسپو سینٹر کے سامنے سے گزرتے ہیں تو برابر میں پلینٹیریم کا سفید لیکن گرد آلود گنبد خاموشی سے نوحہ خواں دکھائی دیتا ہے۔ یہ بچوں اور نوجوانوں میں فلکیات (ایسٹرونومی) اور خلائی علوم (اسپیس سائنسز) کا شوق پیدا کرنے کے لیے بہت اچھا قدم تھا۔ افسوس کہ 1984ء میں جو پروگرام یہاں دکھائے جاتے تھے۔ 30، 35 سال بعد تک وہی پروگرام چلائے جاتے رہے۔ اب تو شاید وہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ پلینٹیریم کے احاطے میں واقع باغ کو شادی ہال میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ باقی کی ان کہی کہانی آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;ناسا میں بھارتی سائنسدان&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;1991ء کا سال شروع ہوچکا ہے۔ سوویت یونین کا اختتام قریب ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ) کے سرکاری نیوز لیٹر میں ایک خصوصی مضمون شائع ہوتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’نیشنل ایئروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن‘ (ناسا) میں لگ بھگ 35 فیصد سائنسدان اور انجینئرز بھارتی نژاد ہیں۔ (یہ نیوز لیٹر پاکستان کے تمام اخبارات و جرائد کو بھیجا جاتا تھا۔ راقم ان دنوں ماہنامہ سائنس میگزین کا ایڈیٹر تھا اور اس نے یہ مضمون خود پڑھا تھا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرد جنگ کے دوران بھارت، سوویت یونین کا اتحادی اور امریکا کا مخالف رہا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود، بھارتی سائنسدانوں اور انجینئروں کی اتنی بڑی تعداد ناسا میں کیسے بھرتی ہوئی؟ جو فوائد بھارت نے امریکا مخالف ہوتے ہوئے اٹھائے، پاکستان وہ فوائد امریکی اتحادی ہونے پر بھی کیوں حاصل نہ کرسکا؟&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;آرتی پربھارکر&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;1993ء کا سال آن پہنچا ہے۔ امریکی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nist.gov/history/directors-national-bureau-standards-1901-1988-and-national-institute-standards-and"&gt;&lt;strong&gt;’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (نِسٹ) میں ایک نئی ڈائریکٹر نے عہدہ سنبھالا ہے۔ یہ بھارتی نژاد آرتی پربھارکر ہیں جن کی عمر اس وقت صرف 34 سال ہے۔ یہ نِسٹ کی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون ڈائریکٹر بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم ’فاسٹ فارورڈ‘ کرکے سیدھے 2023ء میں پہنچتے ہیں، آج آرتی پربھارکر 64 سال کی ہوچکی ہیں۔ وہ اکتوبر 2022ء سے امریکی صدر جو بائیڈن کی مشیر برائے سائنس ہونے کے علاوہ، وائٹ ہاؤس میں ’آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی‘ (او ایس ٹی پی) کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.whitehouse.gov/ostp/directors-office/"&gt;&lt;strong&gt;ڈائریکٹر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; بھی بن چکی ہیں۔ ویسے آرتی پربھارکر 2012ء سے 2017ء تک امریکا کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.defense.gov/About/Biographies/Biography/Article/602751/dr-arati-prabhakar/"&gt;&lt;strong&gt;’ڈیفنس ایڈوانسڈ پروجیکٹس ایجنسی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (ڈارپا) کی ڈائریکٹر بھی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251142100be8871.jpg'  alt='   آرتی بربھاکر&amp;mdash; تصویر: وائٹ ہاؤس   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آرتی بربھاکر— تصویر: وائٹ ہاؤس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;ونڈوز 95&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;1990ء میں مائیکروسافٹ نے بھارت میں قدم رکھا اور حیدرآباد دکن میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.wikipedia.org/wiki/Microsoft_India"&gt;&lt;strong&gt;’مائیکروسافٹ انڈیا ڈیولپمنٹ سینٹر‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (ایم ایس آئی ڈی سی) قائم کیا۔ چند سال کے اندر اندر یہاں کام بہت بڑھ جاتا ہے، یہاں تک کہ مائیکروسافٹ ونڈوز 95 آپریٹنگ سسٹم کی پروگرامنگ کا بیشتر حصہ بھی یہیں انجام دیا جاتا ہے۔ گرافیکل یوزر انٹرفیس (جی یو آئی) والا یہ آپریٹنگ سسٹم دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا میں مقبول ہوجاتا ہے اور بھارتی پروگرامرز بھی عالمی سطح پر اپنی مہارت کا سکّہ منوا لیتے ہیں۔ (اس دوران یہ بحث بھی شروع ہوجاتی ہے کہ حیدرآباد دکن اور بنگلور میں سے کس شہر کو ’بھارتی سلیکون ویلی‘ قرار دیا جائے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25114500a27549d.jpg'  alt='  مائیکروسافٹ انڈیا ڈیولپمنٹ سینٹر&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مائیکروسافٹ انڈیا ڈیولپمنٹ سینٹر—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس آئی ڈی سی اس وقت امریکا سے باہر مائیکرو سافٹ کا سب سے بڑا سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سینٹر بھی ہے جہاں 18 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں اور جس کی شاخیں 11 بھارتی شہروں میں موجود ہیں۔ برسبیلِ تذکرہ یہ بھی بتاتے چلیں کہ 2022ء میں بھارت نے صرف &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.statista.com/statistics/320753/indian-it-software-and-services-exports/"&gt;&lt;strong&gt;سافٹ ویئر ایکسپورٹس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی مد میں 178 ارب ڈالر کمائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;تحقیق کے لیے بارہ آنے!&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;اتفاق کہیے یا قسمت کی ستم ظریفی، کہ 1995ء ہی میں حکومتِ پاکستان کو ورلڈ بینک کی جانب سے ایک عدد ’حکم نامہ‘ (aide memoire) موصول ہوتا ہے جس میں مختلف اصلاحات ’تجویز‘ کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سائنسی تحقیق کے سب سے بڑے ادارے ’پاکستان کونسل فار سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ‘ (پی سی ایس آئی آر) کو چھوٹے چھوٹے مختلف اداروں میں توڑ دیا جائے کیونکہ اپنی موجودہ حیثیت میں یہاں تحقیق (ریسرچ) کا کوئی کام نہیں ہورہا اور یہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اس پر کچھ ہلچل ہوئی۔ پاکستان ایسوسی ایشن فار دی سائنٹسٹس اینڈ سائنٹفک پروفیشنز (پی اے ایس ایس پی) کے تحت ایک سیمینار بھی ہوا (جس میں سابق وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، جناب جاوید جبار کو بطورِ خاص مدعو کیا گیا تھا)۔ مقررین نے پی سی ایس آئی آر کی تاریخ دوہرائی، کارنامے گنوائے اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سمپوزیم میں (غالباً) ڈاکٹر مرزا ارشد علی بیگ نے اعداد و شمار کی مدد سے بتایا کہ پی سی ایس آئی آر کے سالانہ بجٹ میں سے ملازمین کی تنخواہیں اور دوسرے تمام اخراجات نکالنے کے بعد، تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے لیے صرف بارہ آنے (75 پیسے) یومیہ فی سائنسدان بچتے ہیں۔ سمپوزیم کے بعد اخبارات میں بھی اس پر کچھ مضامین شائع ہوئے۔ (اس بارے میں راقم کی ایک تحریر، روزنامہ جنگ کے سنڈے ایڈیشن میں شائع ہوئی تھی۔)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251210502e36af9.gif'  alt='  بتایا گیا کہ تحقیق و ترقی کے لیے صرف بارہ آنے یومیہ فی سائنسدان بچتے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بتایا گیا کہ تحقیق و ترقی کے لیے صرف بارہ آنے یومیہ فی سائنسدان بچتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس کے بعد۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ پی سی ایس آئی آر آج تک ویسے کا ویسا ہی ہے۔ پاکستان کے سائنسی منظرنامے پر اس ادارے کا ہونا یا نہ ہونا، دونوں ہی برابر ہیں۔ یہ پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کا سفید ہاتھی بن چکا ہے، بلکہ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب اس ادارے کو واقعی بند کر دینا چاہیے کیونکہ ’مُردے کو بھی جلدی دفنا دینا چاہیے، اگر وہ زیادہ دیر رکھا رہے تو بدبو دینے لگتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;انٹرنیٹ کا سیلاب&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;1996ء سے پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ابتداء میں صرف ’پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن‘ (پی ٹی سی ایل) ہی سے انٹرنیٹ کنکشن مل سکتا ہے۔ کراچی میں ’گیٹ وے ایکسچینج‘ (نزد ریوالی) سے انٹرنیٹ کنکشن کے فارمز دستیاب ہیں۔ ہر فارم چار صفحات پر مشتمل ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ صارفین سے نہ جانے کون کون سی معلومات درکار ہیں۔ اس پر یہ ہدایت بھی ہے کہ فارم کی 4 کاپیاں بنوائی جائیں اور ضروری دستاویزات منسلک کرنے کے بعد وہیں جمع کروائی جائیں کہ جہاں سے فارم لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک کاپی تو پی ٹی سی ایل والوں کے پاس رہے گی۔ باقی کی 3 کاپیوں میں سے ایک کسی ’’حساس وفاقی ادارے‘‘ کو دی جائے گی جو یہ جانچ پڑتال کرے گا کہ درخواست دہندہ کہیں کوئی غدار یا دہشت گرد تو نہیں۔ دوسری کاپی وزارتِ داخلہ کے پاس محفوظ رہے گی اور تیسری کاپی، درخواست دہندہ کے قریبی تھانے کو بھیجی جائے گی جو اس فرد کے ’چال چلن‘ کی تصدیق کرے گا۔ اگر ’سب کچھ ٹھیک‘ ہوا تو 4 سے 6 مہینے میں انٹرنیٹ کنکشن دے دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2512222640411db.jpg'  alt='  مئی 1996ء میں دان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا عکس  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مئی 1996ء میں دان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا عکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور لوگوں کی بڑی تعداد انٹرنیٹ تک رسائی کی خواہش مند تھی۔ یہ دیکھتے ہوئے کچھ نجی اداروں نے بھی اس میدان میں سرمایہ کاری کا سوچا اور حکومت سے بات کی۔ بہت آناکانی کے بعد، بالآخر حکومتِ پاکستان نے نجی اداروں (پرائیویٹ آئی ایس پیز) کو لائسنس دینے کا فیصلہ کیا، لیکن بھاری زرِ ضمانت کے علاوہ ٹیکس بھی لگا دیے۔ دراصل پاکستانی بیوروکریسی اس جدید ٹیکنالوجی سے کوئی فائدہ اٹھانے کی بالکل بھی خواہش مند نہیں تھی۔ اس کے برعکس، وہ اپنے تئیں انٹرنیٹ کے انقلاب پر بند باندھنا چاہتے تھے۔ لیکن انٹرنیٹ تو ایک سیلاب تھا جو پابندیوں کے سارے بند توڑتا ہوا، آگے ہی بڑھتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری سطح پر مناسب پالیسی نہ ہونے کے باعث ہم ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے بھی مستفید نہ ہوسکے، بلکہ ہم نے زیادہ نقصان ہی اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;ادھورا ’2010ء پروگرام‘&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;1998ء میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.jstor.org/stable/41260118"&gt;’پاکستان 2010ء‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے عنوان سے ایک جامع قومی منصوبے کا آغاز ہوا جس کا مقصد مختلف شعبوں میں اصلاحات کرنا تھا۔ کم از کم میرے مشاہدے میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی سرکاری منصوبے میں ’دشمن کو جواب دینے‘ کے بجائے ’اپنے لیے خود کچھ کرنے‘ کی خواہش نظر آئی۔ اس منصوبے میں گورننس (سرکاری اداروں کے انتظام اور طریقہ کار)، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کو خصوصی اہمیت دی گئی تھی۔ طے یہ ہوا تھا کہ پہلے مسائل کو بخوبی سمجھا جائے اور ان کے ممکنہ حل تلاش کیے جائیں، تاکہ اگلے مرحلے میں پالیسی سازی اور دیگر اقدامات کے ذریعے درست طور پر اصلاحات کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ تو یہ ہے کہ خود مسلم لیگ (ن) کے اپنے بیشتر وزرا اس پروگرام سے ناخوش تھے اور اپنی نجی محفلوں میں اسے وسائل کی بربادی قرار دیتے تھے، لیکن میاں نواز شریف سے احسن اقبال صاحب کی قربت کے باعث کھل کر کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ’2010ء پروگرام‘ کی کانفرنسوں، سیمیناروں اور سمپوزیم وغیرہ میں مدعو کیے جانے والے اکثر وزرا فی الفور معذرت کر لیا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی اس پروگرام نے اُڑان بھی نہیں بھری تھی کہ 12 اکتوبر 1999ء کے روز میاں نواز شریف کی حکومت چلی گئی، جنرل پرویز مشرف (مرحوم) نے مارشل لا لگا دیا اور یہ پروگرام بھی ختم ہوگیا۔ ان دنوں اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں شُنید تھی کہ جنرل مشرف اس پروگرام کو جاری رکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے جناب احسن اقبال کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی گئی۔ لیکن انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وابستگی کو ترجیح دی۔ البتہ، مشرف دورِ حکومت میں 2010ء پروگرام کے خد و خال سے بڑی حد تک استفادہ ضرور کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;بایوٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور جمہوریت&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن کو سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر بنایا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی سائنسدان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اسی کے ساتھ ’یونیورسٹی گرانٹس کمیشن‘ (یو جی سی) کو تبدیل کرکے ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ (ایچ ای سی) بنا دیا گیا اور ڈاکٹر عطا الرحمٰن اس کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔ یہی وہ دور تھا کہ جب قومی سطح کے دو نئے کمیشن قائم کیے گئے پہلا  نیشنل کمیشن آن بایوٹیکنالوجی (2002ء) اور دوسرا نیشنل کمیشن آن نینو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (2005ء)۔ اوّل الذکر کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر انور نسیم تھے جبکہ دوسرے کمیشن کی سربراہی ڈاکٹر این ایم بٹ کو سونپی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25141059f9c27c6.jpg'  alt='  ہمارے یہاں جمہوریت نے آتے ہی ڈکٹیٹر کے بائیوٹیکنالوجی اور نینوٹیکنالوجی کیمشنز بن کروا دیے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہمارے یہاں جمہوریت نے آتے ہی ڈکٹیٹر کے بائیوٹیکنالوجی اور نینوٹیکنالوجی کیمشنز بن کروا دیے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بایوٹیکنالوجی کے مختلف ادارے بہت پہلے ہی سے کام کر رہے تھے۔ بایوٹیکنالوجی کمیشن نے ان اداروں میں جاری منصوبوں کو مربوط اور نتیجہ خیز بنانے پر خصوصی توجہ دی، جس کا بہت فائدہ بھی ہوا۔ دوسری جانب نینوٹیکنالوجی ہمارے لیے ایک نئی چیز تھی جس کے لیے مناسب افرادی قوت تیار کرنا ضروری تھا۔ غرض کہ یہ دونوں کمیشن اپنی اپنی جگہ کام کرنے لگے اور بہتری کی امید نظر آنے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن 2008ء میں انتخابات کے بعد ’جمہوریت آگئی‘ اور ہر وہ چیز ناپسندیدہ قرار پائی جو ایک ڈکٹیٹر نے شروع کی تھی۔ بات صرف بلدیاتی نظام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تباہی پر نہیں رکی بلکہ 2009ء میں بایوٹیکنالوجی کمیشن اور نینو ٹیکنالوجی کمیشن بھی بند کروا دیے گئے۔۔۔ خس کم، جہاں پاک!&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt; بوب بالارام&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;19 اپریل 2021ء کے روز مریخ کی فضاؤں میں ناسا کے تیار کردہ ہیلی کاپٹر ’انجینوئٹی‘ نے پہلی پرواز کی۔ یہ کسی دوسرے سیارے پر انسان کی ایجاد کردہ اوّلین ’اُڑن مشین‘ بھی تھی۔ اس منصوبے کے سربراہ اور چیف انجینئر &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://mars.nasa.gov/people/profile/index.cfm?id=23327"&gt;&lt;strong&gt;’بوب بالارام‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھے جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، مدراس سے پڑھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2513233598a46f6.jpg'  alt='  مریخ پر ناسا کا ہیلی کاپٹر انجینوئٹی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مریخ پر ناسا کا ہیلی کاپٹر انجینوئٹی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا پہنچ کر انہوں نے مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کی، پی ایچ ڈی کیا اور ناسا میں شمولیت اختیار کی۔ جلد ہی انہوں نے اپنی قابلیت منوائی اور ترقی کی منزلیں طے کرنے لگے۔ انجینوئٹی ہیلی کاپٹر بھی ان ہی کا ڈیزائن کیا ہوا ہے جس پر انہوں نے 2014ء میں دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر، کام شروع کیا تھا۔ روبوٹکس اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں وہ نہ صرف امریکا، بلکہ دنیا بھر میں معتبر سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);"&gt;
&lt;font size="8"&gt;&lt;p style="color:#FAFAFA; text-align: center"&gt;ہم کیا کریں؟&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنی چاہئیں۔ مطلب یہ کہ ہم خود کو انفرادی اور اجتماعی، ہر لحاظ سے درست کریں۔ نظامِ تعلیم سے لے کر معاشرت اور معیشت تک، ایک ایک چیز کو درست کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اپنے معاملات کو اس لیے درست کریں کیونکہ ہمیں اپنے ملک کو خوب سے خوب تر بنانا ہے۔ اس لیے نہیں کہ کسی دشمن کو جواب دینا ہے۔ جس جگہ واقعی جواب دینے کی ضرورت ہے، وہاں ڈٹ کر جواب دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25141515078e835.jpg'  alt='  تعلیمی نظام میں بہتری سے حالات سدھر سکتے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تعلیمی نظام میں بہتری سے حالات سدھر سکتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سیاست دانوں کو اپنی سوچ درست کرنی ہے تو بیوروکریسی کو بھی ’چبڑ چبڑ انگریزی‘ والے مزاج سے چھٹکارا پانا ہے۔ جہاں تک ایک عام پاکستانی کا تعلق ہے تو اسے بھی صحیح معنوں میں انسان بننے اور متوازن رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت چاند پر پہنچ گیا اور ہم اب تک وہیں کھڑے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہم ویسے ہی رہنا چاہتے ہیں جیسے ہم ہیں یعنی کہ محنت بھی نہ کرنی پڑے اور اعلیٰ ترین کامیابی بھی مل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ تو یہ ہے کہ ہم تو آپس میں دست و گریباں رہ گئے، غداری اور حبّ الوطنی کے سرٹیفکیٹ ہی بانٹتے رہ گئے لیکن ہمارا پڑوسی ملک بہت آگے نکل گیا۔ دیکھا جائے تو آج اقوامِ عالم کی دوڑ میں ہم کہیں بھی نہیں۔۔۔ شاید ہم کسی کونے میں بیٹھے اپنے ’شاندار ماضی‘ کا نشہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالات سدھر سکتے ہیں، ہم بہتر کیا بہترین بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر ہم میں بگاڑ بہت زیادہ ہوچکا ہے جسے سدھارنے کے لیے ہمیں خلوصِ دل سے بہت محنت کرنی ہوگی، جان توڑ محنت۔ لیکن اپنی ترجیحات کی درستی شاید اب بھی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوسکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور بھارت کے مابین روایتی چپقلش اپنی جگہ، لیکن چندریان سوم (چندریان 3) مشن کی کامیابی پر بھارت کو مبارک باد تو بنتی ہے۔ امید ہے کہ اس ’نیوٹرل اظہارِ خیال‘ پر مجھ ناچیز پر کوئی ’لیبل‘ تو نہیں لگے گا۔</p>
<p>اب تک کی اطلاعات کے مطابق، چندریان 3 مشن کا لینڈر ’وکرم‘ چاند کی سطح پر باحفاظت اترنے میں کامیاب ہوچکا ہے اور اس میں رکھی گئی چاند گاڑی یعنی ’پرگیان روور‘ بھی چاند کی سطح پر اتاری جاچکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2513074817ee2f7.gif'  alt='  ویڈیو&mdash; اِسرو  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ویڈیو— اِسرو</figcaption>
    </figure></p>
<p>وکرم لینڈر جس جگہ اترا ہے، وہ چاند کے جنوبی قطب سے قریب ہے۔ اس سے پہلے تک انسان کی بنائی ہوئی کوئی چیز یہاں نہیں اتری تھی۔ گویا اس کامیابی کے ساتھ ہی بھارت وہ پہلا ملک بھی بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی سے اپنا لینڈر اتارا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1694713817916473530"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">چاند کا تاریک رُخ</font></p></div>
<p>چاند کا جنوبی قطب اور اس کے آس پاس کا علاقہ بہت خاص ہے۔ چاند کا یہ حصہ زمین سے دکھائی نہیں دیتا اور سورج کی روشنی بھی یہاں بہت کم پہنچ پاتی ہے۔ اسی لیے اسے ’چاند کا تاریک رُخ‘ (ڈارک سائیڈ آف دی مون) بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>ماضی میں چاند کے اس علاقے میں پانی کی وافر مقدار کے اشارے مل چکے ہیں جو (ممکنہ طور پر) برف کی شکل میں، زیرِ سطح موجود ہے۔ اگر کسی طرح یہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کس قدر پانی ہے، تو شاید مستقبل بعید میں چاند پر انسانی بستیاں بسانے میں بھی خاصی مدد مل جائے گی۔</p>
<p>قصہ مختصر یہ کہ ہمیں فراخ دلی سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ بھارت نے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں واقعتاً ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
اس پورے قصے میں وکرم لینڈر کا چاند پر اُترنا تو صرف ایک پہلو ہے، ورنہ چندریان 3 مشن کی کامیابی میں خلائی راکٹ (اسپیس لانچ وہیکل) بنانے سے لے کر پیچیدہ ٹیکنالوجی اور مشن کنٹرول تک، ایسا بہت کچھ ہے کہ جس کے بارے میں عام لوگ نہیں جانتے (اور شاید جاننا بھی نہیں چاہتے)۔</p>
<p>تکنیکی تفصیل میں جائے بغیر، صرف اتنا سمجھ لیجیے چندریان مشن اپنے آپ میں سیکڑوں نہیں تو درجنوں ٹیکنالوجیز کا مجموعہ ہے؛ جن میں ہر ٹیکنالوجی، دوسری کے ساتھ بخوبی مربوط (integrated) ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25095319a91cfba.jpg'  alt='  چندریان 3&mdash; تصویر: اِسرو  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چندریان 3— تصویر: اِسرو</figcaption>
    </figure></p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">ہم کہاں کھڑے ہیں؟</font></p></div>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251015035e9e2c5.png'  alt='پاکستان کی جانب سے بھیجا جانے والا پہلا راکٹ (1962ء)     ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان کی جانب سے بھیجا جانے والا پہلا راکٹ (1962ء)</figcaption>
    </figure></p>
<p>آج لگ بھگ ہر پاکستانی ایک سوال ضرور کر رہا ہے کہ بھارت چاند پر پہنچ گیا، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارا خلائی پروگرام آگے کیوں نہیں بڑھ پایا؟ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو پچھلے چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر گشت کر رہا ہے اور جسے یہاں دہرانا ہمارے لیے ’مناسب‘ نہیں ہے۔</p>
<p>تاہم ایک جواب اور ہے جسے پڑھنے، برداشت کرنے اور ہضم کرنے کے لیے اعلیٰ ظرفی کے ساتھ ساتھ دیدۂ عبرت نگاہ کی بھی ضرورت ہے تاکہ آنے والے برسوں میں ہم سے وہ غلطیاں نہ ہوں جو ہم آج تک کرتے آئے ہیں۔</p>
<p>تاریخ کے صفحات سے کچھ مناظر آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ ان واقعات کو پڑھ کر غصے کے مارے لال پیلے ہوتے ہیں، عبرت حاصل کرتے ہیں، یا پھر ’سانوں کی‘ کہہ کر جان چھڑاتے ہیں۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">باپ کے خطوط، بیٹی کے نام</font></p></div>
<p>1929ء میں ایک کتاب شائع ہوتی ہے جس کا عنوان <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.amazon.com/Letters-Father-Daughter-Jawaharlal-Nehru/dp/0670058165"><strong>’لیٹرز فرام اے فادر ٹو ہز ڈاٹر‘</strong></a> (باپ کے خطوط، بیٹی کے نام) ہے۔ یہ اُن 30 خطوط کا مجموعہ ہے جو کانگریسی رہنما جواہر لعل نہرو نے 1928ء میں اپنی دس سالہ بیٹی ’اندرا‘ کو لکھے تھے تاکہ اسے جدید زمانے کا علم و شعور دے سکیں۔ خطوط کا یہ مجموعہ (جو آج بھی خاصا مقبول ہے) سائنس سے لے کر انسانی تاریخ تک درجنوں موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ کانگریسی قیادت اپنی نئی نسل کو فکری و علمی طور پر خوب سے خوب تر بنانے کے معاملے میں کس قدر سنجیدہ تھی۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">مجھے ایم آئی ٹی دے دو!</font></p></div>
<p>برصغیر میں پاکستان اور بھارت کے نام سے دو آزاد ملک وجود میں آچکے ہیں۔ امریکا نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کو دورے کی دعوت دی ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم دورۂ امریکا پر پہنچتے ہیں۔ امریکی حکام انہیں گھماتے ہیں، پھراتے ہیں، اپنے یہاں کی چیزیں دکھاتے ہیں اور آخر میں پوچھتے ہیں: آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ جواب میں پاکستانی وزیرِ اعظم کچھ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.presidency.ucsb.edu/documents/statement-the-president-upon-signing-the-pakistan-wheat-aid-act"><strong>غذائی اور دفاعی امداد کی فرمائش کرتے ہیں</strong></a>۔ فرمائش پوری ہوتی ہے۔ پاکستان کو امریکی طیارے ملتے ہیں اور لاک ہیڈ مارٹن والے انجینئرنگ سے متعلق اپنی کچھ تنصیبات بھی پاکستان میں لگاتے ہیں۔ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1952-54v01p1/d196"><strong>غذائی تعاون</strong></a> کے تحت جب گندم سے بھرا ہوا پہلا امریکی جہاز کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتا ہے تو اونٹوں کے گلوں میں خصوصی تختیاں لٹکائی جاتی ہیں جن پر ’تھینک یو یو ایس اے‘ لکھا ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25102506664b2ed.jpg'  alt='  اونٹوں کے گلوں میں خصوصی تختیاں لٹکی ہیں&mdash; تصویر: ڈان اخبار  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اونٹوں کے گلوں میں خصوصی تختیاں لٹکی ہیں— تصویر: ڈان اخبار</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی طرح پہلے بھارتی وزیرِ اعظم بھی امریکی دورے پر جاتے ہیں۔ انہیں بھی گھمایا پھرایا جاتا ہے، امریکا میں بننے والی چیزیں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے وغیرہ دکھائے جاتے ہیں۔ امریکی حکام ان سے بھی وہی سوال کرتے ہیں: آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ اس پر بھارتی وزیرِ اعظم (جواہر لعل نہرو) کا جواب آج تک مشہور ہے کہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hup.harvard.edu/catalog.php?isbn=9780674504714"><strong>مجھے ایم آئی ٹی دے دو!</strong></a> (میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، المعروف ایم آئی ٹی، امریکا کا مشہور اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی ادارہ ہے)۔ نتیجتاً امریکی تعاون سے ہندوستان میں ایم آئی ٹی کی طرز پر اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے بنائے جاتے ہیں۔ (ان ہی میں سے ایک ’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ (آئی آئی ٹی) ہے جو آج اپنے تعلیمی معیار کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہو چکا ہے)۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2510452139594c6.jpg'  alt='  بھارتی شہر کھرگپور میں قائم ہونے والا پہلا آئی آئی ٹی&mdash; تصویر: وکی پیڈیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بھارتی شہر کھرگپور میں قائم ہونے والا پہلا آئی آئی ٹی— تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">ہمارا ماڈل راکٹ اور پی آئی اے سیارگاہ</font></p></div>
<p>یہ 1984ء ہے کراچی میں عالمی صنعتی نمائش لگی ہوئی ہے۔ (یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل کراچی ایکسپو سینٹر قائم ہے) نمائش میں پاکستانی خلائی تحقیقی ادارے ’سُپارکو‘ (اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیرک ریسرچ کمیشن) کا اسٹال بھی ہے جہاں دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ایک ماڈل راکٹ بھی رکھا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ لگی تختی پر (انگریزی میں) ’اسپیس لانچ وہیکل (ایس ایل وی)‘ لکھا ہے۔</p>
<p>ہم جیسے اردو میڈیم، سرکاری اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے لیے یہ نام خاصا اجنبی اور عجیب و غریب ہے۔ ویسے بھی زندگی میں پہلی بار کسی راکٹ کا ماڈل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سُپارکو کے تحت مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے کے لیے ’خلائی راکٹ‘ (ایس ایل وی) کے منصوبے پر بھی کام ہورہا ہے۔ یہ منصوبہ ایک ماڈل سے آگے نہیں بڑھ پایا۔۔۔ اور بالآخر اپنی موت آپ مرگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251131366130c52.jpg'  alt='  پی آئی اے پلینیٹریم (1985ء)&mdash; تصویر: ڈان  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پی آئی اے پلینیٹریم (1985ء)— تصویر: ڈان</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی نمائش کے موقع پر ’پی آئی اے سیارگاہ‘ (پی آئی اے پلینٹیریم) کا افتتاح بھی بہت دھوم دھام سے کیا گیا تھا۔ آج بھی جب آپ یونیورسٹی روڈ پر ایکسپو سینٹر کے سامنے سے گزرتے ہیں تو برابر میں پلینٹیریم کا سفید لیکن گرد آلود گنبد خاموشی سے نوحہ خواں دکھائی دیتا ہے۔ یہ بچوں اور نوجوانوں میں فلکیات (ایسٹرونومی) اور خلائی علوم (اسپیس سائنسز) کا شوق پیدا کرنے کے لیے بہت اچھا قدم تھا۔ افسوس کہ 1984ء میں جو پروگرام یہاں دکھائے جاتے تھے۔ 30، 35 سال بعد تک وہی پروگرام چلائے جاتے رہے۔ اب تو شاید وہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ پلینٹیریم کے احاطے میں واقع باغ کو شادی ہال میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ باقی کی ان کہی کہانی آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">ناسا میں بھارتی سائنسدان</font></p></div>
<p>1991ء کا سال شروع ہوچکا ہے۔ سوویت یونین کا اختتام قریب ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ) کے سرکاری نیوز لیٹر میں ایک خصوصی مضمون شائع ہوتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’نیشنل ایئروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن‘ (ناسا) میں لگ بھگ 35 فیصد سائنسدان اور انجینئرز بھارتی نژاد ہیں۔ (یہ نیوز لیٹر پاکستان کے تمام اخبارات و جرائد کو بھیجا جاتا تھا۔ راقم ان دنوں ماہنامہ سائنس میگزین کا ایڈیٹر تھا اور اس نے یہ مضمون خود پڑھا تھا)۔</p>
<p>سرد جنگ کے دوران بھارت، سوویت یونین کا اتحادی اور امریکا کا مخالف رہا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود، بھارتی سائنسدانوں اور انجینئروں کی اتنی بڑی تعداد ناسا میں کیسے بھرتی ہوئی؟ جو فوائد بھارت نے امریکا مخالف ہوتے ہوئے اٹھائے، پاکستان وہ فوائد امریکی اتحادی ہونے پر بھی کیوں حاصل نہ کرسکا؟</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">آرتی پربھارکر</font></p></div>
<p>1993ء کا سال آن پہنچا ہے۔ امریکی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nist.gov/history/directors-national-bureau-standards-1901-1988-and-national-institute-standards-and"><strong>’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی‘</strong></a> (نِسٹ) میں ایک نئی ڈائریکٹر نے عہدہ سنبھالا ہے۔ یہ بھارتی نژاد آرتی پربھارکر ہیں جن کی عمر اس وقت صرف 34 سال ہے۔ یہ نِسٹ کی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون ڈائریکٹر بھی ہیں۔</p>
<p>اب ہم ’فاسٹ فارورڈ‘ کرکے سیدھے 2023ء میں پہنچتے ہیں، آج آرتی پربھارکر 64 سال کی ہوچکی ہیں۔ وہ اکتوبر 2022ء سے امریکی صدر جو بائیڈن کی مشیر برائے سائنس ہونے کے علاوہ، وائٹ ہاؤس میں ’آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی‘ (او ایس ٹی پی) کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.whitehouse.gov/ostp/directors-office/"><strong>ڈائریکٹر</strong></a> بھی بن چکی ہیں۔ ویسے آرتی پربھارکر 2012ء سے 2017ء تک امریکا کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.defense.gov/About/Biographies/Biography/Article/602751/dr-arati-prabhakar/"><strong>’ڈیفنس ایڈوانسڈ پروجیکٹس ایجنسی‘</strong></a> (ڈارپا) کی ڈائریکٹر بھی رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251142100be8871.jpg'  alt='   آرتی بربھاکر&mdash; تصویر: وائٹ ہاؤس   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آرتی بربھاکر— تصویر: وائٹ ہاؤس</figcaption>
    </figure></p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">ونڈوز 95</font></p></div>
<p>1990ء میں مائیکروسافٹ نے بھارت میں قدم رکھا اور حیدرآباد دکن میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.wikipedia.org/wiki/Microsoft_India"><strong>’مائیکروسافٹ انڈیا ڈیولپمنٹ سینٹر‘</strong></a> (ایم ایس آئی ڈی سی) قائم کیا۔ چند سال کے اندر اندر یہاں کام بہت بڑھ جاتا ہے، یہاں تک کہ مائیکروسافٹ ونڈوز 95 آپریٹنگ سسٹم کی پروگرامنگ کا بیشتر حصہ بھی یہیں انجام دیا جاتا ہے۔ گرافیکل یوزر انٹرفیس (جی یو آئی) والا یہ آپریٹنگ سسٹم دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا میں مقبول ہوجاتا ہے اور بھارتی پروگرامرز بھی عالمی سطح پر اپنی مہارت کا سکّہ منوا لیتے ہیں۔ (اس دوران یہ بحث بھی شروع ہوجاتی ہے کہ حیدرآباد دکن اور بنگلور میں سے کس شہر کو ’بھارتی سلیکون ویلی‘ قرار دیا جائے)۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25114500a27549d.jpg'  alt='  مائیکروسافٹ انڈیا ڈیولپمنٹ سینٹر&mdash;تصویر: وکی پیڈیا  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مائیکروسافٹ انڈیا ڈیولپمنٹ سینٹر—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایم ایس آئی ڈی سی اس وقت امریکا سے باہر مائیکرو سافٹ کا سب سے بڑا سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سینٹر بھی ہے جہاں 18 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں اور جس کی شاخیں 11 بھارتی شہروں میں موجود ہیں۔ برسبیلِ تذکرہ یہ بھی بتاتے چلیں کہ 2022ء میں بھارت نے صرف <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.statista.com/statistics/320753/indian-it-software-and-services-exports/"><strong>سافٹ ویئر ایکسپورٹس</strong></a> کی مد میں 178 ارب ڈالر کمائے تھے۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">تحقیق کے لیے بارہ آنے!</font></p></div>
<p>اتفاق کہیے یا قسمت کی ستم ظریفی، کہ 1995ء ہی میں حکومتِ پاکستان کو ورلڈ بینک کی جانب سے ایک عدد ’حکم نامہ‘ (aide memoire) موصول ہوتا ہے جس میں مختلف اصلاحات ’تجویز‘ کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سائنسی تحقیق کے سب سے بڑے ادارے ’پاکستان کونسل فار سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ‘ (پی سی ایس آئی آر) کو چھوٹے چھوٹے مختلف اداروں میں توڑ دیا جائے کیونکہ اپنی موجودہ حیثیت میں یہاں تحقیق (ریسرچ) کا کوئی کام نہیں ہورہا اور یہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اس پر کچھ ہلچل ہوئی۔ پاکستان ایسوسی ایشن فار دی سائنٹسٹس اینڈ سائنٹفک پروفیشنز (پی اے ایس ایس پی) کے تحت ایک سیمینار بھی ہوا (جس میں سابق وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، جناب جاوید جبار کو بطورِ خاص مدعو کیا گیا تھا)۔ مقررین نے پی سی ایس آئی آر کی تاریخ دوہرائی، کارنامے گنوائے اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>اس سمپوزیم میں (غالباً) ڈاکٹر مرزا ارشد علی بیگ نے اعداد و شمار کی مدد سے بتایا کہ پی سی ایس آئی آر کے سالانہ بجٹ میں سے ملازمین کی تنخواہیں اور دوسرے تمام اخراجات نکالنے کے بعد، تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے لیے صرف بارہ آنے (75 پیسے) یومیہ فی سائنسدان بچتے ہیں۔ سمپوزیم کے بعد اخبارات میں بھی اس پر کچھ مضامین شائع ہوئے۔ (اس بارے میں راقم کی ایک تحریر، روزنامہ جنگ کے سنڈے ایڈیشن میں شائع ہوئی تھی۔)</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/251210502e36af9.gif'  alt='  بتایا گیا کہ تحقیق و ترقی کے لیے صرف بارہ آنے یومیہ فی سائنسدان بچتے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بتایا گیا کہ تحقیق و ترقی کے لیے صرف بارہ آنے یومیہ فی سائنسدان بچتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اور اس کے بعد۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ پی سی ایس آئی آر آج تک ویسے کا ویسا ہی ہے۔ پاکستان کے سائنسی منظرنامے پر اس ادارے کا ہونا یا نہ ہونا، دونوں ہی برابر ہیں۔ یہ پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کا سفید ہاتھی بن چکا ہے، بلکہ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب اس ادارے کو واقعی بند کر دینا چاہیے کیونکہ ’مُردے کو بھی جلدی دفنا دینا چاہیے، اگر وہ زیادہ دیر رکھا رہے تو بدبو دینے لگتا ہے‘۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">انٹرنیٹ کا سیلاب</font></p></div>
<p>1996ء سے پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ابتداء میں صرف ’پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن‘ (پی ٹی سی ایل) ہی سے انٹرنیٹ کنکشن مل سکتا ہے۔ کراچی میں ’گیٹ وے ایکسچینج‘ (نزد ریوالی) سے انٹرنیٹ کنکشن کے فارمز دستیاب ہیں۔ ہر فارم چار صفحات پر مشتمل ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ صارفین سے نہ جانے کون کون سی معلومات درکار ہیں۔ اس پر یہ ہدایت بھی ہے کہ فارم کی 4 کاپیاں بنوائی جائیں اور ضروری دستاویزات منسلک کرنے کے بعد وہیں جمع کروائی جائیں کہ جہاں سے فارم لیا گیا تھا۔</p>
<p>وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک کاپی تو پی ٹی سی ایل والوں کے پاس رہے گی۔ باقی کی 3 کاپیوں میں سے ایک کسی ’’حساس وفاقی ادارے‘‘ کو دی جائے گی جو یہ جانچ پڑتال کرے گا کہ درخواست دہندہ کہیں کوئی غدار یا دہشت گرد تو نہیں۔ دوسری کاپی وزارتِ داخلہ کے پاس محفوظ رہے گی اور تیسری کاپی، درخواست دہندہ کے قریبی تھانے کو بھیجی جائے گی جو اس فرد کے ’چال چلن‘ کی تصدیق کرے گا۔ اگر ’سب کچھ ٹھیک‘ ہوا تو 4 سے 6 مہینے میں انٹرنیٹ کنکشن دے دیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2512222640411db.jpg'  alt='  مئی 1996ء میں دان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا عکس  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مئی 1996ء میں دان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا عکس</figcaption>
    </figure></p>
<p>انٹرنیٹ کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور لوگوں کی بڑی تعداد انٹرنیٹ تک رسائی کی خواہش مند تھی۔ یہ دیکھتے ہوئے کچھ نجی اداروں نے بھی اس میدان میں سرمایہ کاری کا سوچا اور حکومت سے بات کی۔ بہت آناکانی کے بعد، بالآخر حکومتِ پاکستان نے نجی اداروں (پرائیویٹ آئی ایس پیز) کو لائسنس دینے کا فیصلہ کیا، لیکن بھاری زرِ ضمانت کے علاوہ ٹیکس بھی لگا دیے۔ دراصل پاکستانی بیوروکریسی اس جدید ٹیکنالوجی سے کوئی فائدہ اٹھانے کی بالکل بھی خواہش مند نہیں تھی۔ اس کے برعکس، وہ اپنے تئیں انٹرنیٹ کے انقلاب پر بند باندھنا چاہتے تھے۔ لیکن انٹرنیٹ تو ایک سیلاب تھا جو پابندیوں کے سارے بند توڑتا ہوا، آگے ہی بڑھتا گیا۔</p>
<p>سرکاری سطح پر مناسب پالیسی نہ ہونے کے باعث ہم ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے بھی مستفید نہ ہوسکے، بلکہ ہم نے زیادہ نقصان ہی اٹھایا۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">ادھورا ’2010ء پروگرام‘</font></p></div>
<p>1998ء میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.jstor.org/stable/41260118">’پاکستان 2010ء‘</a></strong> کے عنوان سے ایک جامع قومی منصوبے کا آغاز ہوا جس کا مقصد مختلف شعبوں میں اصلاحات کرنا تھا۔ کم از کم میرے مشاہدے میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی سرکاری منصوبے میں ’دشمن کو جواب دینے‘ کے بجائے ’اپنے لیے خود کچھ کرنے‘ کی خواہش نظر آئی۔ اس منصوبے میں گورننس (سرکاری اداروں کے انتظام اور طریقہ کار)، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کو خصوصی اہمیت دی گئی تھی۔ طے یہ ہوا تھا کہ پہلے مسائل کو بخوبی سمجھا جائے اور ان کے ممکنہ حل تلاش کیے جائیں، تاکہ اگلے مرحلے میں پالیسی سازی اور دیگر اقدامات کے ذریعے درست طور پر اصلاحات کی جاسکیں۔</p>
<p>سچ تو یہ ہے کہ خود مسلم لیگ (ن) کے اپنے بیشتر وزرا اس پروگرام سے ناخوش تھے اور اپنی نجی محفلوں میں اسے وسائل کی بربادی قرار دیتے تھے، لیکن میاں نواز شریف سے احسن اقبال صاحب کی قربت کے باعث کھل کر کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ’2010ء پروگرام‘ کی کانفرنسوں، سیمیناروں اور سمپوزیم وغیرہ میں مدعو کیے جانے والے اکثر وزرا فی الفور معذرت کر لیا کرتے تھے۔</p>
<p>ابھی اس پروگرام نے اُڑان بھی نہیں بھری تھی کہ 12 اکتوبر 1999ء کے روز میاں نواز شریف کی حکومت چلی گئی، جنرل پرویز مشرف (مرحوم) نے مارشل لا لگا دیا اور یہ پروگرام بھی ختم ہوگیا۔ ان دنوں اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں شُنید تھی کہ جنرل مشرف اس پروگرام کو جاری رکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے جناب احسن اقبال کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی گئی۔ لیکن انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وابستگی کو ترجیح دی۔ البتہ، مشرف دورِ حکومت میں 2010ء پروگرام کے خد و خال سے بڑی حد تک استفادہ ضرور کیا گیا تھا۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">بایوٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور جمہوریت</font></p></div>
<p>جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن کو سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر بنایا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی سائنسدان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اسی کے ساتھ ’یونیورسٹی گرانٹس کمیشن‘ (یو جی سی) کو تبدیل کرکے ’اعلیٰ تعلیمی کمیشن‘ (ایچ ای سی) بنا دیا گیا اور ڈاکٹر عطا الرحمٰن اس کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔ یہی وہ دور تھا کہ جب قومی سطح کے دو نئے کمیشن قائم کیے گئے پہلا  نیشنل کمیشن آن بایوٹیکنالوجی (2002ء) اور دوسرا نیشنل کمیشن آن نینو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (2005ء)۔ اوّل الذکر کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر انور نسیم تھے جبکہ دوسرے کمیشن کی سربراہی ڈاکٹر این ایم بٹ کو سونپی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25141059f9c27c6.jpg'  alt='  ہمارے یہاں جمہوریت نے آتے ہی ڈکٹیٹر کے بائیوٹیکنالوجی اور نینوٹیکنالوجی کیمشنز بن کروا دیے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہمارے یہاں جمہوریت نے آتے ہی ڈکٹیٹر کے بائیوٹیکنالوجی اور نینوٹیکنالوجی کیمشنز بن کروا دیے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان میں بایوٹیکنالوجی کے مختلف ادارے بہت پہلے ہی سے کام کر رہے تھے۔ بایوٹیکنالوجی کمیشن نے ان اداروں میں جاری منصوبوں کو مربوط اور نتیجہ خیز بنانے پر خصوصی توجہ دی، جس کا بہت فائدہ بھی ہوا۔ دوسری جانب نینوٹیکنالوجی ہمارے لیے ایک نئی چیز تھی جس کے لیے مناسب افرادی قوت تیار کرنا ضروری تھا۔ غرض کہ یہ دونوں کمیشن اپنی اپنی جگہ کام کرنے لگے اور بہتری کی امید نظر آنے لگی۔</p>
<p>لیکن 2008ء میں انتخابات کے بعد ’جمہوریت آگئی‘ اور ہر وہ چیز ناپسندیدہ قرار پائی جو ایک ڈکٹیٹر نے شروع کی تھی۔ بات صرف بلدیاتی نظام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تباہی پر نہیں رکی بلکہ 2009ء میں بایوٹیکنالوجی کمیشن اور نینو ٹیکنالوجی کمیشن بھی بند کروا دیے گئے۔۔۔ خس کم، جہاں پاک!</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center"> بوب بالارام</font></p></div>
<p>19 اپریل 2021ء کے روز مریخ کی فضاؤں میں ناسا کے تیار کردہ ہیلی کاپٹر ’انجینوئٹی‘ نے پہلی پرواز کی۔ یہ کسی دوسرے سیارے پر انسان کی ایجاد کردہ اوّلین ’اُڑن مشین‘ بھی تھی۔ اس منصوبے کے سربراہ اور چیف انجینئر <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://mars.nasa.gov/people/profile/index.cfm?id=23327"><strong>’بوب بالارام‘</strong></a> تھے جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، مدراس سے پڑھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2513233598a46f6.jpg'  alt='  مریخ پر ناسا کا ہیلی کاپٹر انجینوئٹی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مریخ پر ناسا کا ہیلی کاپٹر انجینوئٹی</figcaption>
    </figure></p>
<p>امریکا پہنچ کر انہوں نے مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کی، پی ایچ ڈی کیا اور ناسا میں شمولیت اختیار کی۔ جلد ہی انہوں نے اپنی قابلیت منوائی اور ترقی کی منزلیں طے کرنے لگے۔ انجینوئٹی ہیلی کاپٹر بھی ان ہی کا ڈیزائن کیا ہوا ہے جس پر انہوں نے 2014ء میں دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر، کام شروع کیا تھا۔ روبوٹکس اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں وہ نہ صرف امریکا، بلکہ دنیا بھر میں معتبر سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<div style="background: linear-gradient(to bottom left, #003399 0%, #ccffff 100%);">
<font size="8"><p style="color:#FAFAFA; text-align: center">ہم کیا کریں؟</font></p></div>
<p>اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنی چاہئیں۔ مطلب یہ کہ ہم خود کو انفرادی اور اجتماعی، ہر لحاظ سے درست کریں۔ نظامِ تعلیم سے لے کر معاشرت اور معیشت تک، ایک ایک چیز کو درست کریں۔</p>
<p>ہم اپنے معاملات کو اس لیے درست کریں کیونکہ ہمیں اپنے ملک کو خوب سے خوب تر بنانا ہے۔ اس لیے نہیں کہ کسی دشمن کو جواب دینا ہے۔ جس جگہ واقعی جواب دینے کی ضرورت ہے، وہاں ڈٹ کر جواب دیا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/25141515078e835.jpg'  alt='  تعلیمی نظام میں بہتری سے حالات سدھر سکتے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تعلیمی نظام میں بہتری سے حالات سدھر سکتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگر سیاست دانوں کو اپنی سوچ درست کرنی ہے تو بیوروکریسی کو بھی ’چبڑ چبڑ انگریزی‘ والے مزاج سے چھٹکارا پانا ہے۔ جہاں تک ایک عام پاکستانی کا تعلق ہے تو اسے بھی صحیح معنوں میں انسان بننے اور متوازن رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>بھارت چاند پر پہنچ گیا اور ہم اب تک وہیں کھڑے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہم ویسے ہی رہنا چاہتے ہیں جیسے ہم ہیں یعنی کہ محنت بھی نہ کرنی پڑے اور اعلیٰ ترین کامیابی بھی مل جائے۔</p>
<p>سچ تو یہ ہے کہ ہم تو آپس میں دست و گریباں رہ گئے، غداری اور حبّ الوطنی کے سرٹیفکیٹ ہی بانٹتے رہ گئے لیکن ہمارا پڑوسی ملک بہت آگے نکل گیا۔ دیکھا جائے تو آج اقوامِ عالم کی دوڑ میں ہم کہیں بھی نہیں۔۔۔ شاید ہم کسی کونے میں بیٹھے اپنے ’شاندار ماضی‘ کا نشہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>حالات سدھر سکتے ہیں، ہم بہتر کیا بہترین بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر ہم میں بگاڑ بہت زیادہ ہوچکا ہے جسے سدھارنے کے لیے ہمیں خلوصِ دل سے بہت محنت کرنی ہوگی، جان توڑ محنت۔ لیکن اپنی ترجیحات کی درستی شاید اب بھی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوسکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210441</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Aug 2023 15:35:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علیم احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/251420462631751.jpg?r=142252" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/251420462631751.jpg?r=142252"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/251422385427f61.jpg?r=142252" type="image/jpeg" medium="image" height="800" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/251422385427f61.jpg?r=142252"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
