<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 22:54:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 22:54:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار حاصل ہے، سیکریٹری جنرل پیپلز پارٹی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210613/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی (پی پی پی) نیئر بخاری نے کہا ہے کہ صدر مملکت کے پاس انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار ہے، آئین کے تحت صدر کو تاریخ دینے کا اختیار اب بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نیئر بخاری نے کہا کہ یہ آئین کا تقاضا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 روز بعد عام انتخابات منعقد ہوں، ہم آئین کے ساتھ ہیں، اسی پر عمل کرکے ملک میں بہتری اور خوشحالی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ریاست کے مفاد میں ہے کہ الیکشن 90 روز کے اندر ہوں، انتخابات میں جتنی تاخیر ہوگی اس کا کوئی حاصل حصول نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیئر بخاری نے کہا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو چیف الیکشن کمشنر کو خط نہیں لکھنا چاہیے تھا، صدر کے پاس خط لکھنے کا اختیار نہیں ہے، مشاورت کا معاملہ سیکشن 57 میں ترمیم سے پہلے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/nguramani/status/1695828134334271808"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 48 (5) کے تحت صدر اسمبلیاں تحلیل کرتے وقت انتخابات کی تاریخ دے سکتے تھے، آئین کے حوالے سے میری سمجھ کے مطابق صدر کو اسمبلیاں تحلیل کرتے وقت تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی اسمبلی مدت پوری کرلیتی تو صدر کے پاس انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہ ہوتا، لیکن اسمبلی صدر نے تحلیل کی اس لیے آرٹیکل 48 (5) کے تحت یہ لازمی تھا کہ وہ انتخابات کی تاریخ بھی ساتھ دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق آئین کے تحت صدر کو تاریخ دینے کا اختیار اب بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اب اگر صدر عارف علوی نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تو ہم صدر یا الیکشن کمیشن کے ساتھ نہیں بلکہ آئین کے ساتھ کھڑے ہوں گے، صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، اختلافات اپنی جگہ لیکن عہدے کی عزت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209367"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1209367/"&gt;&lt;strong&gt;9 اگست&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی تھی جس کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1210334/"&gt;&lt;strong&gt;23 اگست&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو عام انتخابات کی مناسب تاریخ طے کرنے کے لیے ملاقات کی دعوت  دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1210408"&gt;&lt;strong&gt;24 اگست&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو سکندر سلطان راجا نے صدر مملکت کی طرف سے عام انتخابات کے لیے ’مناسب تاریخ طے کرنے‘ کے پیش نظر ملاقات کے لیے لکھے گئے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، انتخابی قوانین میں تبدیلی کے بعد عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی (پی پی پی) نیئر بخاری نے کہا ہے کہ صدر مملکت کے پاس انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار ہے، آئین کے تحت صدر کو تاریخ دینے کا اختیار اب بھی حاصل ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نیئر بخاری نے کہا کہ یہ آئین کا تقاضا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 روز بعد عام انتخابات منعقد ہوں، ہم آئین کے ساتھ ہیں، اسی پر عمل کرکے ملک میں بہتری اور خوشحالی آسکتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ریاست کے مفاد میں ہے کہ الیکشن 90 روز کے اندر ہوں، انتخابات میں جتنی تاخیر ہوگی اس کا کوئی حاصل حصول نہیں ہوگا۔</p>
<p>نیئر بخاری نے کہا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو چیف الیکشن کمشنر کو خط نہیں لکھنا چاہیے تھا، صدر کے پاس خط لکھنے کا اختیار نہیں ہے، مشاورت کا معاملہ سیکشن 57 میں ترمیم سے پہلے تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/nguramani/status/1695828134334271808"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 48 (5) کے تحت صدر اسمبلیاں تحلیل کرتے وقت انتخابات کی تاریخ دے سکتے تھے، آئین کے حوالے سے میری سمجھ کے مطابق صدر کو اسمبلیاں تحلیل کرتے وقت تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی اسمبلی مدت پوری کرلیتی تو صدر کے پاس انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہ ہوتا، لیکن اسمبلی صدر نے تحلیل کی اس لیے آرٹیکل 48 (5) کے تحت یہ لازمی تھا کہ وہ انتخابات کی تاریخ بھی ساتھ دیتے۔</p>
<p>رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق آئین کے تحت صدر کو تاریخ دینے کا اختیار اب بھی حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اب اگر صدر عارف علوی نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تو ہم صدر یا الیکشن کمیشن کے ساتھ نہیں بلکہ آئین کے ساتھ کھڑے ہوں گے، صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، اختلافات اپنی جگہ لیکن عہدے کی عزت کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209367"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1209367/"><strong>9 اگست</strong></a> کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی تھی جس کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی تھی۔</p>
<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1210334/"><strong>23 اگست</strong></a> کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو عام انتخابات کی مناسب تاریخ طے کرنے کے لیے ملاقات کی دعوت  دی تھی۔</p>
<p>تاہم <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1210408"><strong>24 اگست</strong></a> کو سکندر سلطان راجا نے صدر مملکت کی طرف سے عام انتخابات کے لیے ’مناسب تاریخ طے کرنے‘ کے پیش نظر ملاقات کے لیے لکھے گئے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، انتخابی قوانین میں تبدیلی کے بعد عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210613</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Aug 2023 17:54:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نادر گُرامانیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/281427542869670.png?r=175436" type="image/png" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/281427542869670.png?r=175436"/>
        <media:title>نیئر بخاری نے کہا کہ آئین کا تقاضا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 روز بعد عام انتخابات ہوں — فائل فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
