<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 23:42:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 23:42:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا چاند کے بعد سورج کے سروے کیلئے سٹیلائٹ بھیجنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210642/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے چاند کے جنوبی حصے میں اپنا خلائی مشن بھیجنے والا پہلا ملک بننے کے بعد اپنے نئے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سورج کے سروے کے لیے سٹیلائٹ بھیجے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں اسرو نے کہا کہ ’سورج کے بارے میں تحقیق کے لیے پہلا بھارتی خلائی پروگرام ادیتیا-ایل ون کا آغاز 2 ستمبر کے لیے شیڈول ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/isro/status/1696097793616793910"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ادیتیا کا ہندی میں مطلب سورج ہے اور یہ پروگرام زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر (9 لاکھ 30 ہزار میل) دور خلاکے مدار ہالو ریجن کی طرف چھوڑا جائے گا جو سورج کی مکمل تصویر فراہم کررہا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو نے بیان میں کہا کہ اس سے سورج کی سرگرمیوں اور رئیل ٹائم میں موسم پر اثرات کا جائزہ لینے میں انتہائی آسانی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210460"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسپیس کرافٹ فوٹو اسفیئر اور کرومو اسفیئر کے نام سے مشہور خارجی لہروں کا جائزہ لینے کے لیے الیکٹرومیگنیٹک اور پارٹیکل فیلڈ ڈیٹیکٹرز کے استعمال کے ذریعے 7 پے لوڈز لے کر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ دیگر کئی مقاصد کے علاوہ یہ مشن اسپیس ویدر کے لیے ڈرائیورز بشمول سورج کی ہواؤں کی حرکیات کے بارے میں تحقیق کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ناسا اور یورپی اسپیس ایجنسی (ای ایس اے) نے سورج سے متعلق تحقیق کے لیے آربیٹرز سے بھیجے تھے اور بھارت کے لیے یہ اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے گزشتہ ہفتے چاند پر اپنا خلائی مشن چندریان تھری کامیابی سےلینڈ کیا تھا اور چاند پر اپنا مشن بھیجنے والا چوتھا ملک بن گیا تھا جبکہ اس سے قبل امریکا، روس اور چین نے کامیابی کے ساتھ چاند پر اپنا مشن بھیج دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چندریان سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’مون کرافٹ‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے عزائم کا نیا سنگ میل عبور ہوا جو کم لاگت کا خلائی پروگرام تھا، جس کی کامیابی پر دنیا کی بڑی آبادی کے حامل ملک میں خوشیاں منائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے پاس نسبتاً کم بجٹ والا ایرو اسپیس پروگرام ہے، لیکن 2008 میں چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے پہلی بار مشن بھیجنے کے بعد سے اس کے سائز اور رفتار میں کافی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے حالیہ مشن کی لاگت تقریباً ساڑھے 7 کروڑ ڈالر ہے جو دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210460"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت، ہنر مند انجینئرز کی بدولت موجودہ خلائی ٹیکنالوجی کی نقل اور موافقت کرکے لاگت کو کم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت 2014 میں مریخ کے مدار میں مشن بھیجنے والا ایشیا کا پہلا ملک بن گیا تھا اور اگلے برس ہی زمین کے مدار میں 3 روزہ مشن بھی بھیج دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا جاپان کے ساتھ مشترکہ منصوبہ ہے 2025 تک چاند پر ایک اور مشن بھیجے اور اگلے دوسال کے اندر سیارہ زہرہ کے مدار میں بھی خلائی مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے چاند کے جنوبی حصے میں اپنا خلائی مشن بھیجنے والا پہلا ملک بننے کے بعد اپنے نئے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سورج کے سروے کے لیے سٹیلائٹ بھیجے گا۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں اسرو نے کہا کہ ’سورج کے بارے میں تحقیق کے لیے پہلا بھارتی خلائی پروگرام ادیتیا-ایل ون کا آغاز 2 ستمبر کے لیے شیڈول ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/isro/status/1696097793616793910"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ادیتیا کا ہندی میں مطلب سورج ہے اور یہ پروگرام زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر (9 لاکھ 30 ہزار میل) دور خلاکے مدار ہالو ریجن کی طرف چھوڑا جائے گا جو سورج کی مکمل تصویر فراہم کررہا ہوگا۔</p>
<p>اسرو نے بیان میں کہا کہ اس سے سورج کی سرگرمیوں اور رئیل ٹائم میں موسم پر اثرات کا جائزہ لینے میں انتہائی آسانی ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210460"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسپیس کرافٹ فوٹو اسفیئر اور کرومو اسفیئر کے نام سے مشہور خارجی لہروں کا جائزہ لینے کے لیے الیکٹرومیگنیٹک اور پارٹیکل فیلڈ ڈیٹیکٹرز کے استعمال کے ذریعے 7 پے لوڈز لے کر جائے گا۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ دیگر کئی مقاصد کے علاوہ یہ مشن اسپیس ویدر کے لیے ڈرائیورز بشمول سورج کی ہواؤں کی حرکیات کے بارے میں تحقیق کرے گا۔</p>
<p>اس سے قبل ناسا اور یورپی اسپیس ایجنسی (ای ایس اے) نے سورج سے متعلق تحقیق کے لیے آربیٹرز سے بھیجے تھے اور بھارت کے لیے یہ اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہوگا۔</p>
<p>بھارت نے گزشتہ ہفتے چاند پر اپنا خلائی مشن چندریان تھری کامیابی سےلینڈ کیا تھا اور چاند پر اپنا مشن بھیجنے والا چوتھا ملک بن گیا تھا جبکہ اس سے قبل امریکا، روس اور چین نے کامیابی کے ساتھ چاند پر اپنا مشن بھیج دیا تھا۔</p>
<p>چندریان سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’مون کرافٹ‘ ہے۔</p>
<p>بھارت کے عزائم کا نیا سنگ میل عبور ہوا جو کم لاگت کا خلائی پروگرام تھا، جس کی کامیابی پر دنیا کی بڑی آبادی کے حامل ملک میں خوشیاں منائی گئیں۔</p>
<p>بھارت کے پاس نسبتاً کم بجٹ والا ایرو اسپیس پروگرام ہے، لیکن 2008 میں چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے پہلی بار مشن بھیجنے کے بعد سے اس کے سائز اور رفتار میں کافی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>بھارت کے حالیہ مشن کی لاگت تقریباً ساڑھے 7 کروڑ ڈالر ہے جو دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210460"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت، ہنر مند انجینئرز کی بدولت موجودہ خلائی ٹیکنالوجی کی نقل اور موافقت کرکے لاگت کو کم کر سکتا ہے۔</p>
<p>بھارت 2014 میں مریخ کے مدار میں مشن بھیجنے والا ایشیا کا پہلا ملک بن گیا تھا اور اگلے برس ہی زمین کے مدار میں 3 روزہ مشن بھی بھیج دیا تھا۔</p>
<p>بھارت کا جاپان کے ساتھ مشترکہ منصوبہ ہے 2025 تک چاند پر ایک اور مشن بھیجے اور اگلے دوسال کے اندر سیارہ زہرہ کے مدار میں بھی خلائی مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210642</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Aug 2023 21:23:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/282122525a7d748.jpg?r=212342" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/282122525a7d748.jpg?r=212342"/>
        <media:title>بھارتی خلائی پروگرام کے مطابق ادیتیا ایل ون 2 ستمبر کے لیے شیڈول ہے—اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
