<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:18:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:18:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیمرا نے ڈراما ’حادثہ‘ پر پابندی عائد کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210793/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جیو پر نشر کیے جانے والے ڈرامے ’حادثہ‘ کو نشر کرنے پر فوری پابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیمرا کی جانب سے کی جانے والی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ ادارے کو سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے ڈرامے کے مواد سے متعلق بہت شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد ڈرامے پر پابندی لگائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ’حادثہ‘ پر پیمرا ایکٹ کے سیکشن 27 کے تحت فوری پابندی عائد کرتے ہوئے مذکورہ معاملہ ادارے کی کمیٹی کونسل آف کمپلینٹس کو بھجوادیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں بتایا گیا کہ کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کے قوائد و ضوابط کے تحت ڈرامے کے حوالے سے مفصل فیصلہ کرے گی، تاہم تب تک ڈرامے کو نشر کرنے پر پابندی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/reportpemra/status/1696903539102990786"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیمرا کے بیان میں واضح کیا گیا کہ ’حادثہ‘ کی کہانی پاکستانی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اس کے نشر ہونے پر فوری پابندی عائد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سوشل میڈیا صارفین سمیت عام افراد کی جانب سے بھی پیمرا سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈراما ’حادثہ‘ پر پابندی عائد کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ڈرامے کو جیو ٹی وی پر نشر کیا جا رہا تھا اور ابھی اس کی 8 اقساط ہی نشر ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ڈرامے پر الزام ہے کہ اس کی کہانی 2020 میں لاہور کے قریب موٹروے پر اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کے واقعے پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1156343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ڈرامے کی 4، 5 اور 6 اقساط میں حدیقہ کیانی کے موٹروے پر اغوا، ریپ اور پھر ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے مناظر دکھائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرامے میں موٹروے سے اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کا کردار حدیقہ کیانی نے ادا کیا ہے جب کہ ان کے شوہر کا کردار علی خان نے ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرامے کی چوتھی قسط نشر ہونے کے بعد ہی لوگوں نے اس پر شور مچایا تھا اور اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم لوگوں کی جانب سے ڈرامے پر تنقید اور اس پر پابندی عائد کیے جانے کے مطالبے کے بعد حدیقہ کیانی اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈرامے کی کہانی موٹروے ریپ کیس کی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ نے انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر اپنے وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ’حادثہ‘ میں کام کرنے سے قبل ڈرامے کی ٹیم سے بار بار پوچھا کہ اس کی کہانی ’موٹروے ریپ کیس واقعے‘ کی تو نہیں؟ جس پر انہیں نفی میں جواب دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا تھا کہ وہ کبھی ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بن سکتیں جس کے ذریعے کسی انسان کو تکلیف پہنچ رہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حدیقہ کیانی نے لکھا تھا کہ انہوں نے ’حادثہ‘ کی کہانی بار بار پڑھنے اور ٹیم سے سوالات کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ڈرامے کی کہانی ’موٹروے ریپ کیس واقعے‘ کی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جیو پر نشر کیے جانے والے ڈرامے ’حادثہ‘ کو نشر کرنے پر فوری پابندی عائد کردی۔</p>
<p>پیمرا کی جانب سے کی جانے والی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ ادارے کو سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے ڈرامے کے مواد سے متعلق بہت شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد ڈرامے پر پابندی لگائی گئی۔</p>
<p>بیان کے مطابق ’حادثہ‘ پر پیمرا ایکٹ کے سیکشن 27 کے تحت فوری پابندی عائد کرتے ہوئے مذکورہ معاملہ ادارے کی کمیٹی کونسل آف کمپلینٹس کو بھجوادیا گیا۔</p>
<p>بیان میں بتایا گیا کہ کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کے قوائد و ضوابط کے تحت ڈرامے کے حوالے سے مفصل فیصلہ کرے گی، تاہم تب تک ڈرامے کو نشر کرنے پر پابندی رہے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/reportpemra/status/1696903539102990786"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پیمرا کے بیان میں واضح کیا گیا کہ ’حادثہ‘ کی کہانی پاکستانی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اس کے نشر ہونے پر فوری پابندی عائد کی گئی۔</p>
<p>اس سے قبل سوشل میڈیا صارفین سمیت عام افراد کی جانب سے بھی پیمرا سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈراما ’حادثہ‘ پر پابندی عائد کی جائے۔</p>
<p>مذکورہ ڈرامے کو جیو ٹی وی پر نشر کیا جا رہا تھا اور ابھی اس کی 8 اقساط ہی نشر ہوئی تھیں۔</p>
<p>مذکورہ ڈرامے پر الزام ہے کہ اس کی کہانی 2020 میں لاہور کے قریب موٹروے پر اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کے واقعے پر مبنی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1156343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ ڈرامے کی 4، 5 اور 6 اقساط میں حدیقہ کیانی کے موٹروے پر اغوا، ریپ اور پھر ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے مناظر دکھائے گئے تھے۔</p>
<p>ڈرامے میں موٹروے سے اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کا کردار حدیقہ کیانی نے ادا کیا ہے جب کہ ان کے شوہر کا کردار علی خان نے ادا کیا ہے۔</p>
<p>ڈرامے کی چوتھی قسط نشر ہونے کے بعد ہی لوگوں نے اس پر شور مچایا تھا اور اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>تاہم لوگوں کی جانب سے ڈرامے پر تنقید اور اس پر پابندی عائد کیے جانے کے مطالبے کے بعد حدیقہ کیانی اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈرامے کی کہانی موٹروے ریپ کیس کی نہیں ہے۔</p>
<p>اداکارہ نے انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر اپنے وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ’حادثہ‘ میں کام کرنے سے قبل ڈرامے کی ٹیم سے بار بار پوچھا کہ اس کی کہانی ’موٹروے ریپ کیس واقعے‘ کی تو نہیں؟ جس پر انہیں نفی میں جواب دیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا تھا کہ وہ کبھی ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بن سکتیں جس کے ذریعے کسی انسان کو تکلیف پہنچ رہی ہو۔</p>
<p>حدیقہ کیانی نے لکھا تھا کہ انہوں نے ’حادثہ‘ کی کہانی بار بار پڑھنے اور ٹیم سے سوالات کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ڈرامے کی کہانی ’موٹروے ریپ کیس واقعے‘ کی نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210793</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Aug 2023 21:49:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/302147010df9c15.jpg?r=214852" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/302147010df9c15.jpg?r=214852"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
