<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:26:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:26:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صارفین کی ذاتی معلومات اکٹھا کرنے سے متعلق ایلون مسک نے نئی پالیسی کا اعلان کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211042/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی تیار کی گئی ہے جس کے تحت صارفین کی بائیو میٹرک معلومات یعنی صارف کے چہرے کی تصویر  اور فنگر پرنٹس سمیت دیگر ڈیٹا کمپنی کے جاب لسٹنگ پلیٹ فارم سے شیئر کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/09/01/tech/x-twitter-biometrics-employment-data-collection/index.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایکس کی جانب سے گزشتہ روز نئی پرائیویسی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس کا اطلاق 29 ستمبر سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی کے تحت صارفین کی ذاتی تفصیلات اور بائیو میٹرک ڈیٹا یعنی فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصویر سمیت دیگر معلومات اکٹھا کی جاسکتی ہیں، البتہ صرف ایکس کے سبسکرپشن پروگرام کا حصہ بننے والے صارفین کا ہی بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی میں مزید کہا گیا کہ ’صارف کی رضامندی کی بنیاد پر ہم آپ کی بائیو میٹرک معلومات کو آپ کی حفاظت اور شناخت کے مقاصد کے لیے اکٹھا اور استعمال کر سکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ’نوکری کی درخواستوں‘ کے نئے لیبل کے تحت ایکس کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم آپ کی ملازمت اور تعلیم سمیت دیگر ڈیٹا بھی اکٹھا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1066338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معلومات آپ کے لیے ممکنہ ملازمت کے مواقع تجویز کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ صارف کی ’روزگار کی ترجیحات، ہنر اور قابلیت  وغیرہ‘ کا ڈیٹا اکٹھا کر سکتی ہے تاکہ صارفین کو ممکنہ ملازمت کے مواقع کی تجاویز پیش کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ایکس پریمیم سروس میں سبسکرئب کیا ہے، کمپنی ان صارفین کو اپنی حکومت کی طرف سے جاری کردہ آئی ڈی اور تصدیقی مقاصد کے لیے سیلفی امیج فراہم کرنے کا اختیار دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف پلیٹ فارم پر اپنی شناخت کی تصدیق کے لیے ان دستاویزات کو خود اپ لوڈ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں، جس کے بعد ایکس صارف کی شناخت کی تصدیق کے لیے ان فراہم کردہ دستاویزات اور تصاویر سے بائیو میٹرک ڈیٹا  نکال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ ’اس سے ہمیں اُن صارفین کی شناخت کی تصدیق کرنے میں بھی مدد ملے گی جنہیں حکومت کی جانب سے آئی ڈی فراہم کی گئی ہے، اس سے لوگوں کے لیے پلیٹ فارم پر جعلی اکاؤنٹ بنانا ممکن نہیں ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی تیار کی گئی ہے جس کے تحت صارفین کی بائیو میٹرک معلومات یعنی صارف کے چہرے کی تصویر  اور فنگر پرنٹس سمیت دیگر ڈیٹا کمپنی کے جاب لسٹنگ پلیٹ فارم سے شیئر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2023/09/01/tech/x-twitter-biometrics-employment-data-collection/index.html">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایکس کی جانب سے گزشتہ روز نئی پرائیویسی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس کا اطلاق 29 ستمبر سے ہوگا۔</p>
<p>نئی پالیسی کے تحت صارفین کی ذاتی تفصیلات اور بائیو میٹرک ڈیٹا یعنی فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصویر سمیت دیگر معلومات اکٹھا کی جاسکتی ہیں، البتہ صرف ایکس کے سبسکرپشن پروگرام کا حصہ بننے والے صارفین کا ہی بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔</p>
<p>نئی پالیسی میں مزید کہا گیا کہ ’صارف کی رضامندی کی بنیاد پر ہم آپ کی بائیو میٹرک معلومات کو آپ کی حفاظت اور شناخت کے مقاصد کے لیے اکٹھا اور استعمال کر سکتے ہیں۔‘</p>
<p>اس کے علاوہ ’نوکری کی درخواستوں‘ کے نئے لیبل کے تحت ایکس کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم آپ کی ملازمت اور تعلیم سمیت دیگر ڈیٹا بھی اکٹھا کر سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1066338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ معلومات آپ کے لیے ممکنہ ملازمت کے مواقع تجویز کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ صارف کی ’روزگار کی ترجیحات، ہنر اور قابلیت  وغیرہ‘ کا ڈیٹا اکٹھا کر سکتی ہے تاکہ صارفین کو ممکنہ ملازمت کے مواقع کی تجاویز پیش کی جا سکیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ایکس پریمیم سروس میں سبسکرئب کیا ہے، کمپنی ان صارفین کو اپنی حکومت کی طرف سے جاری کردہ آئی ڈی اور تصدیقی مقاصد کے لیے سیلفی امیج فراہم کرنے کا اختیار دے گی۔</p>
<p>صارف پلیٹ فارم پر اپنی شناخت کی تصدیق کے لیے ان دستاویزات کو خود اپ لوڈ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں، جس کے بعد ایکس صارف کی شناخت کی تصدیق کے لیے ان فراہم کردہ دستاویزات اور تصاویر سے بائیو میٹرک ڈیٹا  نکال سکتا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ ’اس سے ہمیں اُن صارفین کی شناخت کی تصدیق کرنے میں بھی مدد ملے گی جنہیں حکومت کی جانب سے آئی ڈی فراہم کی گئی ہے، اس سے لوگوں کے لیے پلیٹ فارم پر جعلی اکاؤنٹ بنانا ممکن نہیں ہوگا۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211042</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Sep 2023 14:22:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/031502037fbb9a1.jpg?r=170942" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/031502037fbb9a1.jpg?r=170942"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
