<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:27:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:27:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کا تل ابیب میں فسادات میں ملوث اریٹیریا کے ایک ہزار باشندوں کو ملک بدر کرنے پر غور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211053/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ تل ابیب میں گزشتہ روز فسادات میں ملوث اریٹیریا کے ایک ہزار باشندوں کو ملک بدر کرنے پر غور کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ فسادات ہفتے کے روز اریٹیرین حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران پھوٹ پڑے تھے جس کے دوران پناہ کے خواہشمند ایک درجن سے زائد اریٹیریا کے باشندوں سمیت 140 افراد اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا اریٹیریا کے باشندے اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں ایونٹ کے انعقاد کو روکنے کے لیے جمع ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی پولیس نے اس مظاہرے کو غیرقانونی قرار دیا اور سڑکیوں اور گلیاں خالی کرنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے کہا کہ مظاہرین نے اس انتباہ کو نظرانداز کرتے ہوئے پولیس سے جھڑپیں کیں جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا اور جھڑپوں میں 49 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اور اریٹیریا کے مظاہرین میں تقریب کے مقام پر جھڑپیں ہوئیں جبکہ تل ابیب میں دیگر جگہوں پر اریٹیریا کی حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز نیتن یاہو نے کہا کہ اریٹیریا کی حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں سرخ لکیر کو عبور کر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ میں نے آج جو خصوصی وزارتی کمیٹی قائم کی ہے جسے میں نے چند فوری اقدامات کے لیے کہا ہے جس میں ان فسادات میں حصہ لینے والے ایک ہزار حکومت کے حامیوں کو بے دخل کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اریٹیریا کے باشندے یقیناً پناہ گزین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے، وہ اس حکومت کی حمایت کرتے ہیں، اگر وہ اس کی اتنی حمایت کرتے ہیں تو وہ اپنے اصل ملک واپس جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1993 میں آزادی کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اریٹیریا کی قیادت آمر صدر اسائیاس افورکی کر رہے ہیں، یہ دنیا کی سب سے الگ تھلگ ریاستوں میں سے ایک ہے اور آزادی صحافت، انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون تک اسرائیل میں اریٹیریا کے 17ہزار 850 باشندے پناہ کے متلاشی تھے جن میں سے بیشتر برسوں پہلے مصر کے جزیرہ نما سینائی کے راستے غیر قانونی طور پر پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ساحلی شہر تل ابیب میں کئی غریب علاقوں میں آباد ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ تل ابیب میں گزشتہ روز فسادات میں ملوث اریٹیریا کے ایک ہزار باشندوں کو ملک بدر کرنے پر غور کررہا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ فسادات ہفتے کے روز اریٹیرین حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران پھوٹ پڑے تھے جس کے دوران پناہ کے خواہشمند ایک درجن سے زائد اریٹیریا کے باشندوں سمیت 140 افراد اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔</p>
<p>ان جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا اریٹیریا کے باشندے اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں ایونٹ کے انعقاد کو روکنے کے لیے جمع ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسرائیلی پولیس نے اس مظاہرے کو غیرقانونی قرار دیا اور سڑکیوں اور گلیاں خالی کرنے کا حکم دیا۔</p>
<p>پولیس نے کہا کہ مظاہرین نے اس انتباہ کو نظرانداز کرتے ہوئے پولیس سے جھڑپیں کیں جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا اور جھڑپوں میں 49 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔</p>
<p>پولیس اور اریٹیریا کے مظاہرین میں تقریب کے مقام پر جھڑپیں ہوئیں جبکہ تل ابیب میں دیگر جگہوں پر اریٹیریا کی حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم بھی ہوا۔</p>
<p>اتوار کے روز نیتن یاہو نے کہا کہ اریٹیریا کی حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں سرخ لکیر کو عبور کر چکی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ میں نے آج جو خصوصی وزارتی کمیٹی قائم کی ہے جسے میں نے چند فوری اقدامات کے لیے کہا ہے جس میں ان فسادات میں حصہ لینے والے ایک ہزار حکومت کے حامیوں کو بے دخل کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اریٹیریا کے باشندے یقیناً پناہ گزین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے، وہ اس حکومت کی حمایت کرتے ہیں، اگر وہ اس کی اتنی حمایت کرتے ہیں تو وہ اپنے اصل ملک واپس جا سکتے ہیں۔</p>
<p>1993 میں آزادی کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اریٹیریا کی قیادت آمر صدر اسائیاس افورکی کر رہے ہیں، یہ دنیا کی سب سے الگ تھلگ ریاستوں میں سے ایک ہے اور آزادی صحافت، انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے۔</p>
<p>جون تک اسرائیل میں اریٹیریا کے 17ہزار 850 باشندے پناہ کے متلاشی تھے جن میں سے بیشتر برسوں پہلے مصر کے جزیرہ نما سینائی کے راستے غیر قانونی طور پر پہنچے تھے۔</p>
<p>وہ ساحلی شہر تل ابیب میں کئی غریب علاقوں میں آباد ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211053</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Sep 2023 21:14:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/03210815a646202.png?r=211505" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/03210815a646202.png?r=211505"/>
        <media:title>اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اریٹیریا کے باشندے یقیناً پناہ گزین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
