<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:47:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:47:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اردو لفظ ’لوٹا‘ اور انگریزی کا ’روٹا‘ ہم معنیٰ ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعر شاعر مشرق کا ہے اور جس رعایت سے یاد آیا ہے اس کا تعلق اُس عمومی سماجی رویے سے ہے جس میں انسان شکم کا بندہ بن کر رہ گیا اور علم و تحقیق کا مزاج اگر تھا بھی تو اب جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دور تھا کہ جسے مؤرخین عہد زریں (golden era) سے تعبیر کرتے ہیں، مسلم حکما بحرِ فلکیات کے شناور تھے۔ اس باب میں ہمارے اسلاف  نے جو اَن مٹ نقوش ثبت کیے ہیں اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو تاج برطانیہ کی شاہی رسد گاہ گرین وچ (Royal Observatory Greenwich) کا رُخ کریں۔ اس ادارے کے زیر اہتمام جو تحقیقی مجلّہ شائع ہوتا ہے اس کا نام ناٹیکل المناخ (The Nautical Almanac) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ناٹیکل المناخ‘ کا جُز ثانی ’المناخ‘ بزبان حال بتا رہا ہے کہ اس کا تعلق ’عرب‘ سے ہے۔ ’المناخ‘ کے معنی ’اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ، اقامت گاہ، منزل اور پڑاؤ کے ہیں۔ جب کہ اس کے ثانوی معنی میں ’ماحول اور فضا‘ بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041112468b7885f.jpg'  alt='   ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ&amp;mdash; تصویر:biblio.co   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ— تصویر:biblio.co&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس علمی رسالے میں ستاروں کے طلوع و غروب کا سالانہ احوال درج ہوتا ہے، تاکہ بے نشان سمندر میں محو سفر جہاز ران منزل کا تعین آسانی سے کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ آج بھی ’المناخ ناٹیکل‘ میں جن ستاروں کے طلوع و غروب کا احوال درج ہوتا ہے ان کی غالب اکثریت کے نام عربوں کی عطا ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا تلفظ انگریزی کے زیرِاثر قدرے بدل چکا ہے، مثلاً Achernar دراصل ’آخرالنہر‘ ہے اور Alphard  کو ’الفرد‘ سے نسبت ہے۔ Alphecca حقیقتاً ’الفکہ‘ ہے تو Altair  کی اصل ’الطیر‘ ہے۔ یہی حال دیگر بہت سے ستاروں کے ناموں کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04112151ecb97d6.jpg'  alt='لمناخ ناٹیکل&amp;rsquo; میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لمناخ ناٹیکل’ میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلمانوں کی علمی فتوحات فقط فلکیات تک محدود نہیں تھیں بلکہ صدیوں قبل ہی انہوں نے فضاؤں کو تسخیر کرنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ اسپین میں عباس ابن فرناس (887ء-810ء) کی اولین کوششں اس راہ میں نشان منزل ثابت ہوئی تو استنبول میں ہزار فن احمد چلبی (1640ء-1609) نے انسان کے ہواؤں میں اڑنے کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول کے مغربی حصے میں واقع تاریخی غلاطہ ٹاور سے پرواز بھرنے والے ہزار فن شاخِ زریں (golden horn) عبور کرکے استنبول کے مشرقی گوشے میں اترا، یوں جو اب تک ناممکن تھا وہ ممکن ہوگیا۔ یہ ناصرف پہلی انسانی پرواز تھی بلکہ اسے پہلی بین البرِاعظمی پرواز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہ ہرحال اس شان دار ماضی کے باوجود آج جو صورت حال ہے وہ علامہ اقبالؒ کے اس شعر سے مختلف نہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں مزید مثالوں سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے کہ کہیں آپ ہمیں مشتاق یوسفی کے اس بیان کا مصداق نہ ٹھہرا دیں:&lt;/p&gt;
&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;’جتنا وقت اور روپیہ بچوں کو ’مسلمانوں کے سائنس پر احسانات‘ رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے، اس کا دسواں حصہ بھی بچوں کو سائنس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا‘۔&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;ہمارے نزدیک یہ ماضی پرستی نہیں بلکہ ماضی تو وہ آئینہ ہے جس میں حال دیکھ کر مستقبل سنوارا جاتا ہے مگر ہمارا مستقبل تو شاید اس شعر کی عملی تفسیر بن کر رہ گیا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اس نے پہلے ’مُس‘ کہا پھر ’تَق‘ کہا پھر ’بِل‘ کہا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کردیے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے اوپر اقبال کا جو شعر ذکر ہوا اس میں دو الفاظ ’ثابت اور سیارا‘ لائق توجہ ہیں۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ایک بات سمجھ لیں کہ علامہ اقبالؒ نے ’سیارا‘ ضرورتِ شعری کے تحت باندھا ہے وگرنہ اس لفظ کا درست املا ’سیارہ‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے ’ثابت‘ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں لفظی، اصطلاحی اور مجازی معنی میں استعمال ہونے والا یہ لفظ عربی الاصل ہے۔ عربی زبان کے ایک بڑے عالم علامہ راغب اصفہانی کے مطابق ’ثَبَتَ‘ کے معنی ایک حالت پر جمے رہنے کے ہیں۔ اسی ’ثَبَتَ‘ سے لفظ ’اَلَثَّبَاتُ‘ ہے جو زوال کی ضد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے معنی کی رعایت سے ’ثَبَتَ‘ سے پھوٹنے والے الفاظ ثابت، ثبوت، یثبت، تثبیت وغیرہ میں جمانا، پختہ کرنا، محقق و موکد کرنا، دل مضبوط کرنا، بہادر بنانا، ثابت قدم رکھنا، حجت، برہان، دلیل وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلکیات یا علم ہیئت کی اصطلاح میں اجرام فلکی میں سے ایسے ’جرم/ ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر متحرک ہو، ’ثابت‘ کہا جاتا ہے اور اس غیر متحرک ستارے (ثابت) کی ضد ’سیارہ‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041144386f13db9.jpg'  alt='اجرام فلکی میں سے ایسے &amp;rsquo;ستارے&amp;lsquo; کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر &amp;rsquo;ثابت&amp;lsquo; کہا جاتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اجرام فلکی میں سے ایسے ’ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر ’ثابت‘ کہا جاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ جسے ہم اردو اور ہندی میں ’ستارا‘ کہتے ہیں وہ جُزوی تبدیلی کے ساتھ انگریزی کے آسمان پر ’اسٹار/star‘  بن کر چمک رہا ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو انگریزی ’اسٹار‘ کی اصل لفظ ’ستارا‘ ہے۔ ستاروں کا قصہ کسی اور روز کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔ فی الحال ’سیارہ‘ کی بات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی لفظ ’سیر‘ اور اس سے مشتق تمام الفاظ میں چلنے پھرنے یا گھومنے پھرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اول تو خود لفظ ’سیر‘ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے، پھر اگر اس کے ساتھ ہندی کا ’سپاٹا‘ لگ جائے تو اس کی رفتار بصورت ’سیر سپاٹا‘ اور بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ’سیر‘ سے لفظ ’سیرت‘ بھی ہے، جو اردو ترکیب ’چال چلن‘ کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے کہ ان ہر دو الفاظ کو انسان کے کردار و عمل سے نسبت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس گھومنے پھرنے کی مفہوم کو پیش نظر رکھیں اور اول اجرام فلکی میں سے محو گردش اجرام پر غور کریں تو بات خود ہی سمجھ آجاتی ہے کہ انہیں ’سیارہ‘ کیوں کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب انسانی تمدن آگے بڑھا اور برق و بھاپ کی قوت پر قابو پانے کے ساتھ انسان صنعتی دور میں داخل ہوا تو جو نو بہ نو ایجادات سامنے آئیں ان میں سے ایک ’موٹرکار‘ بھی تھی۔ چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04114732a2c3491.jpg'  alt='چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی &amp;rsquo;سیارہ&amp;lsquo; پکارا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ حرف ’ر‘ اور ’ل‘ اکثر صورتوں باہم بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’باولا‘ کب ’باورا‘ ہو جاتا ہے پتا نہیں چلتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کی ایک دل چسپ مثال ’لوٹا‘ ہے۔ جس میں لوٹنے اور پلٹ کر آنے کا مفہوم پایا ہے۔ جی یہ وہی لوٹا ہے جس کے بارے میں پروین شاکر کہہ گئی ہیں ’جہاں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ’لوٹا‘ کا  یہ مفہوم پیش نظر ہو تو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ ہندی کے ’لوٹا‘ کو انگریزی کے ’روٹا / Rota‘ سے کیا نسبت ہے اور کس طرح انگریزی الفاظ روٹری/ Rotary اور روٹیشن / Rotation وغیرہ اپنے لوٹنے اور پلٹنے کے مفہوم کی وجہ سے ’لوٹا‘ سے جا ملتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حرف ’ر‘ اور ’ل‘ کی اس باہم تبدیلی کے تناظر میں ’سیار‘ کے ساتھ لفظ ’سیال‘ پر غور کریں اب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ بہ ظاہر دو مختلف الفاظ کا مشترکہ مفہوم ’چلنا‘ ہے۔ چونکہ ہر مائع چیز میں بہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے سو اس رعایت سے اس کو ’سیال‘ کہتے ہیں۔ اب اس لفظ کی نسبت سے جناب قتیل شفائی کا خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ٹوٹ گئے سیال نگینے پھوٹ بہے رخساروں پر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دیکھو میرا ساتھ نہ دینا بات ہے یہ رسوائی کی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم</div></strong></p>
<p>شعر شاعر مشرق کا ہے اور جس رعایت سے یاد آیا ہے اس کا تعلق اُس عمومی سماجی رویے سے ہے جس میں انسان شکم کا بندہ بن کر رہ گیا اور علم و تحقیق کا مزاج اگر تھا بھی تو اب جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ایک دور تھا کہ جسے مؤرخین عہد زریں (golden era) سے تعبیر کرتے ہیں، مسلم حکما بحرِ فلکیات کے شناور تھے۔ اس باب میں ہمارے اسلاف  نے جو اَن مٹ نقوش ثبت کیے ہیں اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو تاج برطانیہ کی شاہی رسد گاہ گرین وچ (Royal Observatory Greenwich) کا رُخ کریں۔ اس ادارے کے زیر اہتمام جو تحقیقی مجلّہ شائع ہوتا ہے اس کا نام ناٹیکل المناخ (The Nautical Almanac) ہے۔</p>
<p>’ناٹیکل المناخ‘ کا جُز ثانی ’المناخ‘ بزبان حال بتا رہا ہے کہ اس کا تعلق ’عرب‘ سے ہے۔ ’المناخ‘ کے معنی ’اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ، اقامت گاہ، منزل اور پڑاؤ کے ہیں۔ جب کہ اس کے ثانوی معنی میں ’ماحول اور فضا‘ بھی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041112468b7885f.jpg'  alt='   ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ&mdash; تصویر:biblio.co   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ— تصویر:biblio.co</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس علمی رسالے میں ستاروں کے طلوع و غروب کا سالانہ احوال درج ہوتا ہے، تاکہ بے نشان سمندر میں محو سفر جہاز ران منزل کا تعین آسانی سے کرسکیں۔</p>
<p>غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ آج بھی ’المناخ ناٹیکل‘ میں جن ستاروں کے طلوع و غروب کا احوال درج ہوتا ہے ان کی غالب اکثریت کے نام عربوں کی عطا ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا تلفظ انگریزی کے زیرِاثر قدرے بدل چکا ہے، مثلاً Achernar دراصل ’آخرالنہر‘ ہے اور Alphard  کو ’الفرد‘ سے نسبت ہے۔ Alphecca حقیقتاً ’الفکہ‘ ہے تو Altair  کی اصل ’الطیر‘ ہے۔ یہی حال دیگر بہت سے ستاروں کے ناموں کا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04112151ecb97d6.jpg'  alt='لمناخ ناٹیکل&rsquo; میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لمناخ ناٹیکل’ میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>مسلمانوں کی علمی فتوحات فقط فلکیات تک محدود نہیں تھیں بلکہ صدیوں قبل ہی انہوں نے فضاؤں کو تسخیر کرنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ اسپین میں عباس ابن فرناس (887ء-810ء) کی اولین کوششں اس راہ میں نشان منزل ثابت ہوئی تو استنبول میں ہزار فن احمد چلبی (1640ء-1609) نے انسان کے ہواؤں میں اڑنے کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔</p>
<p>استنبول کے مغربی حصے میں واقع تاریخی غلاطہ ٹاور سے پرواز بھرنے والے ہزار فن شاخِ زریں (golden horn) عبور کرکے استنبول کے مشرقی گوشے میں اترا، یوں جو اب تک ناممکن تھا وہ ممکن ہوگیا۔ یہ ناصرف پہلی انسانی پرواز تھی بلکہ اسے پہلی بین البرِاعظمی پرواز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔</p>
<p>بہ ہرحال اس شان دار ماضی کے باوجود آج جو صورت حال ہے وہ علامہ اقبالؒ کے اس شعر سے مختلف نہیں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا</div></strong></p>
<p>یہاں مزید مثالوں سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے کہ کہیں آپ ہمیں مشتاق یوسفی کے اس بیان کا مصداق نہ ٹھہرا دیں:</p>
<div style= "text-align: center;" markdown="1">’جتنا وقت اور روپیہ بچوں کو ’مسلمانوں کے سائنس پر احسانات‘ رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے، اس کا دسواں حصہ بھی بچوں کو سائنس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا‘۔</div>
<p>ہمارے نزدیک یہ ماضی پرستی نہیں بلکہ ماضی تو وہ آئینہ ہے جس میں حال دیکھ کر مستقبل سنوارا جاتا ہے مگر ہمارا مستقبل تو شاید اس شعر کی عملی تفسیر بن کر رہ گیا ہے:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اس نے پہلے ’مُس‘ کہا پھر ’تَق‘ کہا پھر ’بِل‘ کہا</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کردیے</div></strong></p>
<p>ویسے اوپر اقبال کا جو شعر ذکر ہوا اس میں دو الفاظ ’ثابت اور سیارا‘ لائق توجہ ہیں۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ایک بات سمجھ لیں کہ علامہ اقبالؒ نے ’سیارا‘ ضرورتِ شعری کے تحت باندھا ہے وگرنہ اس لفظ کا درست املا ’سیارہ‘ ہے۔</p>
<p>پہلے ’ثابت‘ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں لفظی، اصطلاحی اور مجازی معنی میں استعمال ہونے والا یہ لفظ عربی الاصل ہے۔ عربی زبان کے ایک بڑے عالم علامہ راغب اصفہانی کے مطابق ’ثَبَتَ‘ کے معنی ایک حالت پر جمے رہنے کے ہیں۔ اسی ’ثَبَتَ‘ سے لفظ ’اَلَثَّبَاتُ‘ ہے جو زوال کی ضد ہے۔</p>
<p>اپنے معنی کی رعایت سے ’ثَبَتَ‘ سے پھوٹنے والے الفاظ ثابت، ثبوت، یثبت، تثبیت وغیرہ میں جمانا، پختہ کرنا، محقق و موکد کرنا، دل مضبوط کرنا، بہادر بنانا، ثابت قدم رکھنا، حجت، برہان، دلیل وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔</p>
<p>فلکیات یا علم ہیئت کی اصطلاح میں اجرام فلکی میں سے ایسے ’جرم/ ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر متحرک ہو، ’ثابت‘ کہا جاتا ہے اور اس غیر متحرک ستارے (ثابت) کی ضد ’سیارہ‘ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041144386f13db9.jpg'  alt='اجرام فلکی میں سے ایسے &rsquo;ستارے&lsquo; کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر &rsquo;ثابت&lsquo; کہا جاتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اجرام فلکی میں سے ایسے ’ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر ’ثابت‘ کہا جاتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ جسے ہم اردو اور ہندی میں ’ستارا‘ کہتے ہیں وہ جُزوی تبدیلی کے ساتھ انگریزی کے آسمان پر ’اسٹار/star‘  بن کر چمک رہا ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو انگریزی ’اسٹار‘ کی اصل لفظ ’ستارا‘ ہے۔ ستاروں کا قصہ کسی اور روز کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔ فی الحال ’سیارہ‘ کی بات کرتے ہیں۔</p>
<p>عربی لفظ ’سیر‘ اور اس سے مشتق تمام الفاظ میں چلنے پھرنے یا گھومنے پھرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اول تو خود لفظ ’سیر‘ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے، پھر اگر اس کے ساتھ ہندی کا ’سپاٹا‘ لگ جائے تو اس کی رفتار بصورت ’سیر سپاٹا‘ اور بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>اسی ’سیر‘ سے لفظ ’سیرت‘ بھی ہے، جو اردو ترکیب ’چال چلن‘ کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے کہ ان ہر دو الفاظ کو انسان کے کردار و عمل سے نسبت ہے۔</p>
<p>اب اس گھومنے پھرنے کی مفہوم کو پیش نظر رکھیں اور اول اجرام فلکی میں سے محو گردش اجرام پر غور کریں تو بات خود ہی سمجھ آجاتی ہے کہ انہیں ’سیارہ‘ کیوں کہا جاتا ہے۔</p>
<p>جب انسانی تمدن آگے بڑھا اور برق و بھاپ کی قوت پر قابو پانے کے ساتھ انسان صنعتی دور میں داخل ہوا تو جو نو بہ نو ایجادات سامنے آئیں ان میں سے ایک ’موٹرکار‘ بھی تھی۔ چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04114732a2c3491.jpg'  alt='چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی &rsquo;سیارہ&lsquo; پکارا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا</figcaption>
    </figure></p>
<p>غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ حرف ’ر‘ اور ’ل‘ اکثر صورتوں باہم بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’باولا‘ کب ’باورا‘ ہو جاتا ہے پتا نہیں چلتا۔</p>
<p>اس تبدیلی کی ایک دل چسپ مثال ’لوٹا‘ ہے۔ جس میں لوٹنے اور پلٹ کر آنے کا مفہوم پایا ہے۔ جی یہ وہی لوٹا ہے جس کے بارے میں پروین شاکر کہہ گئی ہیں ’جہاں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا‘۔</p>
<p>اگر ’لوٹا‘ کا  یہ مفہوم پیش نظر ہو تو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ ہندی کے ’لوٹا‘ کو انگریزی کے ’روٹا / Rota‘ سے کیا نسبت ہے اور کس طرح انگریزی الفاظ روٹری/ Rotary اور روٹیشن / Rotation وغیرہ اپنے لوٹنے اور پلٹنے کے مفہوم کی وجہ سے ’لوٹا‘ سے جا ملتے ہیں۔</p>
<p>حرف ’ر‘ اور ’ل‘ کی اس باہم تبدیلی کے تناظر میں ’سیار‘ کے ساتھ لفظ ’سیال‘ پر غور کریں اب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ بہ ظاہر دو مختلف الفاظ کا مشترکہ مفہوم ’چلنا‘ ہے۔ چونکہ ہر مائع چیز میں بہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے سو اس رعایت سے اس کو ’سیال‘ کہتے ہیں۔ اب اس لفظ کی نسبت سے جناب قتیل شفائی کا خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ٹوٹ گئے سیال نگینے پھوٹ بہے رخساروں پر</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دیکھو میرا ساتھ نہ دینا بات ہے یہ رسوائی کی</div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211066</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Sep 2023 15:35:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/04120804694a587.jpg?r=120811" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/04120804694a587.jpg?r=120811"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
