<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 18:32:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 18:32:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیرقانونی حراست میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211141/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے ’لاپتا‘ سیاستدان کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت دی کہ ایسے پولیس اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں جو مبینہ غیرقانونی طور پر شہریوں کو حراست میں لینے میں ملوث ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1774038"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی کی بازیابی کی درخواست پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا اور معاملے پر ان سے رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے آئی جی کو معاملہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع میں اٹھانے اور ان کے ردعمل کو رپورٹ میں شامل کرنے کی ہدایت بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق رکن قومی اسمبلی کے بھائی عثمان غنی صداقت نے حبسِ بے جا میں رکھنے کی پیٹشن جمع کروائی، درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ان کے بھائی کو پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے ’اغوا‘ کیا اور استدعا کی کہ عدالت، متعلقہ حکام کو ہدایت دے کہ انہیں پیش کیا جائے، عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209780"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ شہریوں کو مبینہ غیر قانونی طور پر حراست میں لینے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پولیس افسران کے خلاف شہریوں کو حراست میں لینے اور رہائی کے بدلے تعاون طلب کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی، ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ پولیس افسران پر الزام ہے وہ تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے، جس کے بعد جسٹس بابر ستار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہدایت دی کہ اگر ملزمان تحقیقات میں شامل نہ ہوں تو ان کی گرفتاری کے ورانٹ جاری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد پولیس کے قانونی مشیر طاہر کاظم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پہلے ہی 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر چکے ہیں جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہے، جو جرائم میں ملوث ہیں اور تین فورمز پر ان کے خلاف کارروائی جاری ہے، انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) اس معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے ’لاپتا‘ سیاستدان کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت دی کہ ایسے پولیس اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں جو مبینہ غیرقانونی طور پر شہریوں کو حراست میں لینے میں ملوث ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1774038"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی کی بازیابی کی درخواست پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو طلب کر لیا۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا اور معاملے پر ان سے رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے آئی جی کو معاملہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع میں اٹھانے اور ان کے ردعمل کو رپورٹ میں شامل کرنے کی ہدایت بھی دی۔</p>
<p>سابق رکن قومی اسمبلی کے بھائی عثمان غنی صداقت نے حبسِ بے جا میں رکھنے کی پیٹشن جمع کروائی، درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ان کے بھائی کو پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے ’اغوا‘ کیا اور استدعا کی کہ عدالت، متعلقہ حکام کو ہدایت دے کہ انہیں پیش کیا جائے، عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209780"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دریں اثنا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ شہریوں کو مبینہ غیر قانونی طور پر حراست میں لینے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے۔</p>
<p>انہوں نے پولیس افسران کے خلاف شہریوں کو حراست میں لینے اور رہائی کے بدلے تعاون طلب کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی، ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ پولیس افسران پر الزام ہے وہ تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے، جس کے بعد جسٹس بابر ستار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہدایت دی کہ اگر ملزمان تحقیقات میں شامل نہ ہوں تو ان کی گرفتاری کے ورانٹ جاری کریں۔</p>
<p>اسلام آباد پولیس کے قانونی مشیر طاہر کاظم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پہلے ہی 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر چکے ہیں جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہے، جو جرائم میں ملوث ہیں اور تین فورمز پر ان کے خلاف کارروائی جاری ہے، انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) اس معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211141</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Sep 2023 16:18:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/05125253effe799.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/05125253effe799.jpg"/>
        <media:title>اسلام آباد پولیس کے قانونی مشیر طاہر کاظم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پہلے ہی 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر چکے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
