<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 04:11:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 04:11:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملازمہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211248/</link>
      <description>&lt;p&gt;13 سالہ گھریلو ملازمہ کے تشدد کیس میں سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو روز قبل اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سومیا عاصم کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمانت منظوری کا  تحریری حکم نامہ ایڈیشنل سیشنز جج سید محمد ہارون نے
آج جاری کردیا جس کے مطابق ملزمہ کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست
ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کا ماضی میں کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، درخواست گزار استغاثہ کے شواہد یا ریکارڈ میں رد و بدل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتیں، کم سن ملازمہ اپنے والدین کی تحویل میں ہیں، درخواست گزار دوبارہ ملازمہ کو تشدد کا نشانہ نہیں بنا سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="گھریلو-ملازمہ-تشدد-کیس" href="#گھریلو-ملازمہ-تشدد-کیس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گھریلو ملازمہ تشدد کیس&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;رواں سال 25 جولائی کو سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ بدترین تشدد کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا، اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج کیا تھا اور کہا تھا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے لیے کوشش کی جا رہی ہے، مزید کہا کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی، تمام تر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 جولائی کو پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد میں ملوث جج اور ان کی اہلیہ روپوش ہوگئے جس کی وجہ کیس کی تحقیقات میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 جولائی کو اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف کی معاون خصوصی شزا فاطمہ خواجہ نے سول جج اسلام آباد کی گھریلو نوعمر ملازمہ پر تشدد کے کیس میں جج کی اہلیہ کو لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی ہم نے بچی سے بھی ملاقات کی ہے، بچی کی حالت اب بھی بہتر نہیں ہے، اور آکسیجن سپورٹ پر گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209391"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف نوعمر گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں نئی دفعہ 328-اے (بچے پر ظلم) کا اضافہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جولائی کو بچی کی طبیعت مزید بگڑ گئی جس پر اسے لاہور جنرل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کر دیا گیا جہاں اس کے لیے آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سول جج کی اہلیہ و مرکزی ملزمہ سومیا عاصم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 7 اگست تک توسیع کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 13 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت خارج کرکے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا تھا جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ملزمہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>13 سالہ گھریلو ملازمہ کے تشدد کیس میں سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔</p>
<p>دو روز قبل اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سومیا عاصم کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی۔</p>
<p>ضمانت منظوری کا  تحریری حکم نامہ ایڈیشنل سیشنز جج سید محمد ہارون نے
آج جاری کردیا جس کے مطابق ملزمہ کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست
ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی جاتی ہے۔</p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کا ماضی میں کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، درخواست گزار استغاثہ کے شواہد یا ریکارڈ میں رد و بدل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتیں، کم سن ملازمہ اپنے والدین کی تحویل میں ہیں، درخواست گزار دوبارہ ملازمہ کو تشدد کا نشانہ نہیں بنا سکتیں۔</p>
<h4><a id="گھریلو-ملازمہ-تشدد-کیس" href="#گھریلو-ملازمہ-تشدد-کیس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گھریلو ملازمہ تشدد کیس</h4>
<p>رواں سال 25 جولائی کو سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ بدترین تشدد کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا، اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج کیا تھا اور کہا تھا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے لیے کوشش کی جا رہی ہے، مزید کہا کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی، تمام تر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p>26 جولائی کو پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد میں ملوث جج اور ان کی اہلیہ روپوش ہوگئے جس کی وجہ کیس کی تحقیقات میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔</p>
<p>28 جولائی کو اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف کی معاون خصوصی شزا فاطمہ خواجہ نے سول جج اسلام آباد کی گھریلو نوعمر ملازمہ پر تشدد کے کیس میں جج کی اہلیہ کو لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی ہم نے بچی سے بھی ملاقات کی ہے، بچی کی حالت اب بھی بہتر نہیں ہے، اور آکسیجن سپورٹ پر گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209391"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>28 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف نوعمر گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں نئی دفعہ 328-اے (بچے پر ظلم) کا اضافہ کر دیا تھا۔</p>
<p>30 جولائی کو بچی کی طبیعت مزید بگڑ گئی جس پر اسے لاہور جنرل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کر دیا گیا جہاں اس کے لیے آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے گئے۔</p>
<p>یکم اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سول جج کی اہلیہ و مرکزی ملزمہ سومیا عاصم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 7 اگست تک توسیع کردی تھی۔</p>
<p>7 اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 13 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت خارج کرکے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا تھا جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ملزمہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211248</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Sep 2023 16:48:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتابویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/061557026d31268.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/061557026d31268.png"/>
        <media:title>دو روز قبل اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سومیا عاصم کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی —فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
