<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech - Mobilephones</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:40:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:40:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ہواوے‘ کا پہلا سیٹ لائٹ نیٹ ورک پر چلنے والا فون متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211398/</link>
      <description>&lt;p&gt;چینی اسمارٹ کمپنی ’ہواوے‘ نے امریکا سمیت دیگر ممالک کی پابندیوں اور مشکلات کے باوجود سیٹ لائٹ نیٹ ورک پر چلنے والا پہلا اسمارٹ فون متعارف کرادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہواوے‘ نے ’میٹ 60 پرو پلس‘ کو نہ صرف فائیو جی سپورٹ کے ساتھ پیش کیا ہے بلکہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ فون سیٹ لائٹ موبائل نیٹ ورک پر بھی چلے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ عام موبائل نیٹ ورکس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کن کن ممالک اور خطوں میں سیٹ لائٹ نیٹ ورک پر کام کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق مذکورہ فون چین کی جانب سے 2016 میں متعارف کرائے گئے موبائل نیٹ ورک سیٹ لائٹ ’تیانٹونگ‘ (Tiantong satellite) پر چلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنی کا پہلا فون ہوگا جو سیٹ لائٹ نیٹ ورک پر بھی چلے گا، تاہم اس کے علاوہ فون عام موبائل نیٹ ورکس پر بھی کام کرے گا اور ساتھ ہی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس سے ڈاؤن لوڈنگ کی رفتار بہتر بنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی مذکورہ موبائل سے صارف جب بھی کوئی چیز ڈاؤن لوڈ کرنا چاہے گا تو فون دیگر فونز کے مقابلے تیزی سے ڈاؤن لوڈنگ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کو 12 جی بی ریم اور 256 جی بی میموری کے ساتھ متعارف کرایا ہے اور اس میں بھی کمپنی نے اپنا ہی آپریٹنگ سسٹم یعنی ’ہارمنی او ایس‘ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فون کو 13 میگا پکسل کے اپگریڈ ٹیکنالوجی کے حامل سیلفی کیمرا جب کہ تین بیک کیمراؤں کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کے بیک پر دیے گئے تین میں سے دو کیمرا ترتیب وار 48 میگا پکسل کے ہیں جب کہ تیسرا 40 میگا پکسل کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فون میں فنگرپرنٹ سینسر سمیت چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی بھی دی گئی ہے اور اس میں 5 ہزار ایم اے ایچ بیٹری کو 44 واٹ فاسٹ چارجر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فون میں وائرلیس چارجر بھی دیا گیا ہے اور اس کی اسکرین 8۔6 انچ رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فون کو فوری طور پر فروخت کے لیے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/chinas-huawei-launches-mate-60-pro-smartphone-presale-2023-09-08/"&gt;&lt;strong&gt;پیش نہیں کیا گیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;، تاہم دنیا بھر کے صارفین کمپنی کی ویب سائٹ پر اسے آن لائن خرید سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی قیمت پاکستانی 2 لاکھ 90 ہزار روپے تک رکھی گئی ہے، یعنی اس کی قیمت ایک ہزار امریکی ڈالر سے کچھ کم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چینی اسمارٹ کمپنی ’ہواوے‘ نے امریکا سمیت دیگر ممالک کی پابندیوں اور مشکلات کے باوجود سیٹ لائٹ نیٹ ورک پر چلنے والا پہلا اسمارٹ فون متعارف کرادیا۔</p>
<p>’ہواوے‘ نے ’میٹ 60 پرو پلس‘ کو نہ صرف فائیو جی سپورٹ کے ساتھ پیش کیا ہے بلکہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ فون سیٹ لائٹ موبائل نیٹ ورک پر بھی چلے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ عام موبائل نیٹ ورکس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
<p>تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کن کن ممالک اور خطوں میں سیٹ لائٹ نیٹ ورک پر کام کر سکتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق مذکورہ فون چین کی جانب سے 2016 میں متعارف کرائے گئے موبائل نیٹ ورک سیٹ لائٹ ’تیانٹونگ‘ (Tiantong satellite) پر چلے گا۔</p>
<p>یہ کمپنی کا پہلا فون ہوگا جو سیٹ لائٹ نیٹ ورک پر بھی چلے گا، تاہم اس کے علاوہ فون عام موبائل نیٹ ورکس پر بھی کام کرے گا اور ساتھ ہی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس سے ڈاؤن لوڈنگ کی رفتار بہتر بنائی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یعنی مذکورہ موبائل سے صارف جب بھی کوئی چیز ڈاؤن لوڈ کرنا چاہے گا تو فون دیگر فونز کے مقابلے تیزی سے ڈاؤن لوڈنگ کرے گا۔</p>
<p>’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کو 12 جی بی ریم اور 256 جی بی میموری کے ساتھ متعارف کرایا ہے اور اس میں بھی کمپنی نے اپنا ہی آپریٹنگ سسٹم یعنی ’ہارمنی او ایس‘ دیا ہے۔</p>
<p>فون کو 13 میگا پکسل کے اپگریڈ ٹیکنالوجی کے حامل سیلفی کیمرا جب کہ تین بیک کیمراؤں کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے۔</p>
<p>’ہواوے: میٹ 60 پرو پلس‘ کے بیک پر دیے گئے تین میں سے دو کیمرا ترتیب وار 48 میگا پکسل کے ہیں جب کہ تیسرا 40 میگا پکسل کا ہے۔</p>
<p>فون میں فنگرپرنٹ سینسر سمیت چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی بھی دی گئی ہے اور اس میں 5 ہزار ایم اے ایچ بیٹری کو 44 واٹ فاسٹ چارجر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>فون میں وائرلیس چارجر بھی دیا گیا ہے اور اس کی اسکرین 8۔6 انچ رکھی گئی ہے۔</p>
<p>فون کو فوری طور پر فروخت کے لیے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/chinas-huawei-launches-mate-60-pro-smartphone-presale-2023-09-08/"><strong>پیش نہیں کیا گیا</strong></a>، تاہم دنیا بھر کے صارفین کمپنی کی ویب سائٹ پر اسے آن لائن خرید سکیں گے۔</p>
<p>اس کی قیمت پاکستانی 2 لاکھ 90 ہزار روپے تک رکھی گئی ہے، یعنی اس کی قیمت ایک ہزار امریکی ڈالر سے کچھ کم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211398</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Sep 2023 20:47:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/08201232ea252ab.jpg?r=201323" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/08201232ea252ab.jpg?r=201323"/>
        <media:title>—فوٹو: کمپنی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
