<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 22:57:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 22:57:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکشن کمیشن مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے، آصف زرداری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211453/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے اور زور دیا کہ ای سی پی آئین کے مطابق الیکشن کروائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ بیان چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آئین کے مطابق &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1211384/"&gt;&lt;strong&gt;90 روز کے اندر انتخابات&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطالبے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے شائع سرکاری نتائج کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد 90 دن کی آئینی مدت کے دوران عام انتخابات کا انعقاد &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1209938/"&gt;&lt;strong&gt;تقریباً ناممکن&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے نئی ڈیجیٹل 2023 مردم شماری کے نتائج کے نوٹیفکیشن اور الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 17(2) کی بنیاد پر انتخابات کو 9 نومبر سے آگے بڑھانے کے اپنے فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’کمیشن ہر مردم شماری کو باضابطہ طور پر شائع ہونے کے بعد حلقوں کی حد بندی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں آصف علی زرداری نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1700396704317464707"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری کے بعد الیکشن کمشن نئی حلقہ بندیاں کروانے کا پابند ہے، چیف الیکشن کمشنر اور تمام ممبران پر ہمیں پورا اعتماد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ نگران حکومت خصوسی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک معاشی بحران سے گزر رہا ہے جس کے لیے ہم سب کو سیاست کے بجائے معیشت کی فکر پہلے کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے کے اوائل میں اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس بی سی اے) کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا کنونشن کے دوران متعدد &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1211341"&gt;&lt;strong&gt;قراردادیں منظور&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ ادارے آئین کے تحت انتخابات کے انعقاد سے گریزاں ہیں، عام انتخابات کا انعقاد آئین کے تحت 90 روز میں کروایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن 90 دنوں میں عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے، کوئی نگران سیٹ اپ 90 دن سے زائد عرصے تک قائم نہیں رہ سکتا، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتیں غیر آئینی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے آئین کے مطابق 90 روز کے اندر انتخابات کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے اور زور دیا کہ ای سی پی آئین کے مطابق الیکشن کروائے۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ بیان چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آئین کے مطابق <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1211384/"><strong>90 روز کے اندر انتخابات</strong></a> کے مطالبے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p>تاہم الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے شائع سرکاری نتائج کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد 90 دن کی آئینی مدت کے دوران عام انتخابات کا انعقاد <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1209938/"><strong>تقریباً ناممکن</strong></a> ہو گیا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے نئی ڈیجیٹل 2023 مردم شماری کے نتائج کے نوٹیفکیشن اور الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 17(2) کی بنیاد پر انتخابات کو 9 نومبر سے آگے بڑھانے کے اپنے فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’کمیشن ہر مردم شماری کو باضابطہ طور پر شائع ہونے کے بعد حلقوں کی حد بندی کرے گا۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں آصف علی زرداری نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1700396704317464707"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری کے بعد الیکشن کمشن نئی حلقہ بندیاں کروانے کا پابند ہے، چیف الیکشن کمشنر اور تمام ممبران پر ہمیں پورا اعتماد ہے۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ نگران حکومت خصوسی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک معاشی بحران سے گزر رہا ہے جس کے لیے ہم سب کو سیاست کے بجائے معیشت کی فکر پہلے کرنی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رواں ہفتے کے اوائل میں اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس بی سی اے) کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا کنونشن کے دوران متعدد <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1211341"><strong>قراردادیں منظور</strong></a> کی گئیں۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ ادارے آئین کے تحت انتخابات کے انعقاد سے گریزاں ہیں، عام انتخابات کا انعقاد آئین کے تحت 90 روز میں کروایا جائے۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن 90 دنوں میں عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے، کوئی نگران سیٹ اپ 90 دن سے زائد عرصے تک قائم نہیں رہ سکتا، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتیں غیر آئینی ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے آئین کے مطابق 90 روز کے اندر انتخابات کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211453</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Sep 2023 16:09:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نادر گُرامانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/091603072c31ca2.jpg?r=160322" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/091603072c31ca2.jpg?r=160322"/>
        <media:title>پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
