<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:44:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:44:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 21.6 فیصد کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211603/</link>
      <description>&lt;p&gt;بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اگست میں 2 ارب 9 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی گئیں، جو ماہانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافہ ہے تاہم اس میں سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1775411/remittances-dip-over-23pc-in-july-august"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں 2 ارب 9 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جبکہ جولائی میں 2 ارب 2 کروڑ ڈالر آئے تھے، تاہم رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 21.6 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1701188726297424369"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال بدترین ثابت ہوا تھا کیونکہ ترسیلات زر میں 4 ارب 20 کروڑ ڈالر کی کمی ایسے وقت میں ہوئی تھی جب پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا، مالی سال 2023 کے دوران ترسیلات زر میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2022 کے دوران 2 ارب 74 کروڑ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں، کرنسی ماہرین نے بتایا کہ سیاسی اور معاشی بے یقینی کے سبب رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے جولائی اور اگست کے دوران ترسیلات زر 21.6 فیصد تنزلی کے بعد 4 ارب 12 کروڑ ڈالر ریکارڈ ہوئیں، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 5 ارب 25 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر ممالک کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ماسوائے یورپی یونین ممالک کم رقم بھیجیں، سعودی عرب سے جولائی تا اگست کے دوران ترسیلات زر 23 فیصد کمی کے بعد 97 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ایک ارب 26 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اور امریکا کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر بالترتیب 18 فیصد اور 17 فیصد کمی کے بعد 63 کروڑ 80 لاکھ ڈالر اور 50 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 37.4 فیصد کم یا 62 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی، اس کے مقابلے میں گزشتہ برس 99 کروڑ 63 لاکھ ڈالر بھیجے گئے تھے، سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ رقم یو اے ای سے بھیجی جاتی ہے، اس میں بڑی کمی معاشی منیجرز کے لیے تشویشناک ہونی چاہیے، خلیج تعاون کونسل ممالک (ماسوائے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) سے دو ماہ کے دوران 18.8 فیصد کم یا 47 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یورپی یونین ممالک سے موصول ترسیلات زر 57 کروڑ 30 لاکھ ڈالر پر برقرار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سے گزشتہ ڈیرھ برس کے دوران ہنرمند اور غیر ہنرمند مزدور جانے کے باوجود ڈالر کی آمد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بڑے پیمانے پر یہ یقین کیا جاتا ہے کہ گرے مارکیٹ، زیادہ قیمت ہونے کے سبب ترسیلات زر کو راغب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اگست میں 2 ارب 9 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی گئیں، جو ماہانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافہ ہے تاہم اس میں سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1775411/remittances-dip-over-23pc-in-july-august"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں 2 ارب 9 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جبکہ جولائی میں 2 ارب 2 کروڑ ڈالر آئے تھے، تاہم رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 21.6 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1701188726297424369"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ مالی سال بدترین ثابت ہوا تھا کیونکہ ترسیلات زر میں 4 ارب 20 کروڑ ڈالر کی کمی ایسے وقت میں ہوئی تھی جب پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا، مالی سال 2023 کے دوران ترسیلات زر میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔</p>
<p>اگست 2022 کے دوران 2 ارب 74 کروڑ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں، کرنسی ماہرین نے بتایا کہ سیاسی اور معاشی بے یقینی کے سبب رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>رواں مالی سال کے جولائی اور اگست کے دوران ترسیلات زر 21.6 فیصد تنزلی کے بعد 4 ارب 12 کروڑ ڈالر ریکارڈ ہوئیں، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 5 ارب 25 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مزید تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر ممالک کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ماسوائے یورپی یونین ممالک کم رقم بھیجیں، سعودی عرب سے جولائی تا اگست کے دوران ترسیلات زر 23 فیصد کمی کے بعد 97 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ایک ارب 26 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>برطانیہ اور امریکا کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر بالترتیب 18 فیصد اور 17 فیصد کمی کے بعد 63 کروڑ 80 لاکھ ڈالر اور 50 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 37.4 فیصد کم یا 62 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی، اس کے مقابلے میں گزشتہ برس 99 کروڑ 63 لاکھ ڈالر بھیجے گئے تھے، سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ رقم یو اے ای سے بھیجی جاتی ہے، اس میں بڑی کمی معاشی منیجرز کے لیے تشویشناک ہونی چاہیے، خلیج تعاون کونسل ممالک (ماسوائے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) سے دو ماہ کے دوران 18.8 فیصد کم یا 47 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔</p>
<p>تاہم یورپی یونین ممالک سے موصول ترسیلات زر 57 کروڑ 30 لاکھ ڈالر پر برقرار رہیں۔</p>
<p>پاکستان سے گزشتہ ڈیرھ برس کے دوران ہنرمند اور غیر ہنرمند مزدور جانے کے باوجود ڈالر کی آمد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بڑے پیمانے پر یہ یقین کیا جاتا ہے کہ گرے مارکیٹ، زیادہ قیمت ہونے کے سبب ترسیلات زر کو راغب کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211603</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Sep 2023 15:37:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/121332018315e37.jpg?r=153712" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/121332018315e37.jpg?r=153712"/>
        <media:title>— فائل/فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
