<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 22:52:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 22:52:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر کی جانب سے انتخابات کی تاریخ تجویز کرنے پر آئینی و قانونی ماہرین تقسیم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211713/</link>
      <description>&lt;p&gt;صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں انتخابات کی تاریخ تجویز کرنے پر آئینی اور قانونی ماہرین کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے جہاں کچھ نے اسے صدر کا صوابدیدی اختیار قرار دیا ہے جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف قانون بیرسٹر اسد رحیم نے ’ڈان نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئیں کہ صدر مملکت، انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں یا نہیں، وہ چند اختیارات جو صدر پاکستان کی اپنی صوابدید ہیں، ان میں انتخابات کی تاریخ دینا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج بھی صدر پاکستان کی صوابدید ہے کہ وہ وفاقی سطح پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں، صدر عارف علوی نے بالکل درست کیا کہ الیکشن کمیشن سے مشاورتی کردار کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے کئی بار الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کو اس عمل میں شامل کیا ہے، اس مشاورت کے نتیجے میں اعلان ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسد رحیم نے یاد دہانی کرائی کہ پچھلے صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا، امید ہے کہ اس بار بھی وہی عمل ہو گا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنا کردار پورے کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ بطور ادارہ کسی ایک تاریخ پر اتفاق نہیں کر پارہے تو اس صورت میں بھی صدر پاکستان اپنے صوابدیدی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے وہی الفاظ استعمال کیے ہیں جو آئین میں درج ہیں کہ الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ آزدانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے، ہم آئین کی دفعات کو الگ الگ نہیں پڑھ سکتے بلکہ پوری دستاویز کو اکٹھا پڑھا جاتا ہے اور یہ ہمارے جمہوری نظام کا مرکز ہے کہ انتخابات کو 90 دن کی آئینی مدت کے اندر ہر حال میں ہونا چاہیے، یہ ہمارے الیکٹورل عمل، پارلیمانی نظام اور وفاق کی بنیاد ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نامور قانون دان نے کہا کہ جب ہم بات کرتے ہیں کہ تاریخ کا اعلان کرنا کس کی حتمی ذمے داری ہے تو وہ صرف اور صرف صدر کا اختیار ہے، یہ ضرور ہے کہ الیکشن کمیشن سے اس عمل میں مشاورت کرنی ہے اور اس مشاورتی عمل میں شمولیت اختیار کرنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210334"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اسد رحیم کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینا صدر مملکت کے اختیار میں نہیں آتا، جب الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کر لیتا ہے تو وہ صدر کے نام سے ایک تاریخ کا اعلان کر دیتے ہیں، صدر کا صرف نام استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے گورنر جنرل اور صدر مملکت بھی سربراہان مملکت رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی اور ایسا پہلی بار ہوا ہے، صدر نے اپنے قانونی مشیروں کے کہنے پر ایسا کردیا ہے لیکن صدر کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں خود کو الجھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;90 دن میں انتخابات کے انعقاد کی قدغن کے حوالے سے سوال پر ماہر قانون نے کہا کہ اگر یہ پتا چل جائے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی سیاسی دھڑے سے مل گیا ہے اور جان بوجھ کر انتخابات ملتوی کر رہا ہے اور اس کے شواہد صدر کے سامنے آجائیں تو صدر مملکت معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتے ہیں اور پھر اگر سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جان بوجھ کر انتخابات ملتوی کرنے کا ثبوت موجود ہو تو چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ ساتھ کمیشن کے اراکین کو بھی نکالا جا سکتا ہے لیکن اگر اس طرح کے شواہد سامنے نہیں آتے تو پھر صدر کوئی زبردستی نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئین میں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ اگر 90 دن کے اندر انتخابات نہیں ہوں گے تو کسی کو سزا ملے گی نہ ہی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو زبردستی الیکشن کے انعقاد پر مجبور کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کو اس حوالے سے گمراہ کیا جا رہا ہے اور ان کے آئینی مشیروں کو بھی آئین کا صحیح ادراک نہیں ہے، شاید انہوں نے اس حوالے سے کام نہیں کیا اور سپریم کورٹ بھی یہ غلطی کر چکی ہے جہاں انہوں نے 14 مئی کی تاریخ دے دی تھی اور انہوں نے اسی لیے عملدرآمد نہیں کرایا کیونکہ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ہم ایک غلط چیز پر کیسے عملدرآمد کرا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے کہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر عام انتخابات پیر 6 نومبر کو ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو خط میں صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت نے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی لہٰذا آئین کے آرٹیکل 48 (5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ سے 90 دنوں کے اندر تاریخ مقرر کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت نے کہا کہ آرٹیکل 48 (5) کے مطابق قومی اسمبلی کے لیے عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے 89ویں دن یعنی پیر 6 نومبر 2023 کو ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں انتخابات کی تاریخ تجویز کرنے پر آئینی اور قانونی ماہرین کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے جہاں کچھ نے اسے صدر کا صوابدیدی اختیار قرار دیا ہے جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔</p>
<p>معروف قانون بیرسٹر اسد رحیم نے ’ڈان نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئیں کہ صدر مملکت، انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں یا نہیں، وہ چند اختیارات جو صدر پاکستان کی اپنی صوابدید ہیں، ان میں انتخابات کی تاریخ دینا بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج بھی صدر پاکستان کی صوابدید ہے کہ وہ وفاقی سطح پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں، صدر عارف علوی نے بالکل درست کیا کہ الیکشن کمیشن سے مشاورتی کردار کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے کئی بار الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کو اس عمل میں شامل کیا ہے، اس مشاورت کے نتیجے میں اعلان ہونا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسد رحیم نے یاد دہانی کرائی کہ پچھلے صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا، امید ہے کہ اس بار بھی وہی عمل ہو گا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنا کردار پورے کرے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ بطور ادارہ کسی ایک تاریخ پر اتفاق نہیں کر پارہے تو اس صورت میں بھی صدر پاکستان اپنے صوابدیدی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے وہی الفاظ استعمال کیے ہیں جو آئین میں درج ہیں کہ الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ آزدانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے، ہم آئین کی دفعات کو الگ الگ نہیں پڑھ سکتے بلکہ پوری دستاویز کو اکٹھا پڑھا جاتا ہے اور یہ ہمارے جمہوری نظام کا مرکز ہے کہ انتخابات کو 90 دن کی آئینی مدت کے اندر ہر حال میں ہونا چاہیے، یہ ہمارے الیکٹورل عمل، پارلیمانی نظام اور وفاق کی بنیاد ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>نامور قانون دان نے کہا کہ جب ہم بات کرتے ہیں کہ تاریخ کا اعلان کرنا کس کی حتمی ذمے داری ہے تو وہ صرف اور صرف صدر کا اختیار ہے، یہ ضرور ہے کہ الیکشن کمیشن سے اس عمل میں مشاورت کرنی ہے اور اس مشاورتی عمل میں شمولیت اختیار کرنی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210334"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اسد رحیم کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینا صدر مملکت کے اختیار میں نہیں آتا، جب الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کر لیتا ہے تو وہ صدر کے نام سے ایک تاریخ کا اعلان کر دیتے ہیں، صدر کا صرف نام استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے گورنر جنرل اور صدر مملکت بھی سربراہان مملکت رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی اور ایسا پہلی بار ہوا ہے، صدر نے اپنے قانونی مشیروں کے کہنے پر ایسا کردیا ہے لیکن صدر کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں خود کو الجھائیں۔</p>
<p>90 دن میں انتخابات کے انعقاد کی قدغن کے حوالے سے سوال پر ماہر قانون نے کہا کہ اگر یہ پتا چل جائے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی سیاسی دھڑے سے مل گیا ہے اور جان بوجھ کر انتخابات ملتوی کر رہا ہے اور اس کے شواہد صدر کے سامنے آجائیں تو صدر مملکت معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتے ہیں اور پھر اگر سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جان بوجھ کر انتخابات ملتوی کرنے کا ثبوت موجود ہو تو چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ ساتھ کمیشن کے اراکین کو بھی نکالا جا سکتا ہے لیکن اگر اس طرح کے شواہد سامنے نہیں آتے تو پھر صدر کوئی زبردستی نہیں کر سکتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئین میں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ اگر 90 دن کے اندر انتخابات نہیں ہوں گے تو کسی کو سزا ملے گی نہ ہی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو زبردستی الیکشن کے انعقاد پر مجبور کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کو اس حوالے سے گمراہ کیا جا رہا ہے اور ان کے آئینی مشیروں کو بھی آئین کا صحیح ادراک نہیں ہے، شاید انہوں نے اس حوالے سے کام نہیں کیا اور سپریم کورٹ بھی یہ غلطی کر چکی ہے جہاں انہوں نے 14 مئی کی تاریخ دے دی تھی اور انہوں نے اسی لیے عملدرآمد نہیں کرایا کیونکہ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ہم ایک غلط چیز پر کیسے عملدرآمد کرا سکتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے کہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر عام انتخابات پیر 6 نومبر کو ہونے چاہئیں۔</p>
<p>چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو خط میں صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت نے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی لہٰذا آئین کے آرٹیکل 48 (5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ سے 90 دنوں کے اندر تاریخ مقرر کی جائے۔</p>
<p>صدر مملکت نے کہا کہ آرٹیکل 48 (5) کے مطابق قومی اسمبلی کے لیے عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے 89ویں دن یعنی پیر 6 نومبر 2023 کو ہونے چاہئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211713</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Sep 2023 20:21:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/13192639f6e3229.png?r=202137" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/13192639f6e3229.png?r=202137"/>
        <media:title>صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے کہ عام انتخابات پیر 6 نومبر کو ہونے چاہئیں — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
