<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:37:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:37:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک پر مواد کی تلاش کا فیچر بہتر بنا دیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211863/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے خاموشی سے اپنے سرچ آپشن کو بہتر بناتے ہوئے اس میں وکی پیڈیا کے لنک کو شامل کرلیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک پر ایپلی کیشن پر موجود مواد کو تلاش کیا جاتا تھا لیکن اب صارفین وہاں پر دوسرے مواد کو بھی تلاش کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام سمیت کوئی بھی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے جو اپنے سرچ انجن میں دوسری ویب سائٹ کا لنک دیتا ہو لیکن اب ٹک ٹاک پر ایسا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theverge.com/2023/9/13/23871880/tiktok-search-engine-wikipedia-snippets-google"&gt;&lt;strong&gt;’دی ورج‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹک ٹاک پر خاموشی سے سرچ فیچر کو اپڈیٹ کردیا گیا اور اب وہاں پر صارفین کو وکی پیڈیا کا لنک بھی نظر آنے لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188158"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ صارفین جیسے ہی ٹک ٹاک پر کوئی مواد یا معلومات سرچ کرتے ہیں تو اسکرولنگ میں نیچے وکی پیڈیا کا لنک بھی نظر آنے لگتا ہے اور صارف مذکورہ لنک کو کلک کرکے وکی پیڈیا کے پیج پر چلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ٹک ٹاک سے وابستہ عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مذکورہ فیچر چند ماہ سے آزمایا جا رہا تھا اور اس تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی تھی لیکن اب اسے بہتر بنا دیا گیا ہے اور آنے والے وقت میں اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک پر وکی پیڈیا کی معلومات یا اس کا لنک نظر آنے سے متعلق دونوں پلیٹ فارمز کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ وکی پیڈیا لاکھوں موضوعات، مقامات اور مسائل پر بنیادی معلومات فراہم کرنے والی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے لیکن اس پر دستیاب معلومات کو 100 فیصد درست نہیں سمجھا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکی پیڈیا پر عام انٹرنیٹ صارفین ایڈیٹر کا اکاؤنٹ بنانے کے بعد کسی بھی موضوع، مسئلے یا شخصیت سے متعلق معلومات کا پیج بنا سکتے ہیں اور اسی وجہ سے ہی اس پر دستیاب معلومات کو مستند نہیں سمجھا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کسی بھی ملک، مسئلے، موضوع یا شخصیت سے متعلق ابتدائی بنیادی معلومات کے حصول کے لیے وکی پیڈیا پر ہی انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے خاموشی سے اپنے سرچ آپشن کو بہتر بناتے ہوئے اس میں وکی پیڈیا کے لنک کو شامل کرلیا</p>
<p>ٹک ٹاک پر ایپلی کیشن پر موجود مواد کو تلاش کیا جاتا تھا لیکن اب صارفین وہاں پر دوسرے مواد کو بھی تلاش کر سکیں گے۔</p>
<p>اس وقت ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام سمیت کوئی بھی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے جو اپنے سرچ انجن میں دوسری ویب سائٹ کا لنک دیتا ہو لیکن اب ٹک ٹاک پر ایسا ہوگا۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theverge.com/2023/9/13/23871880/tiktok-search-engine-wikipedia-snippets-google"><strong>’دی ورج‘</strong></a> کے مطابق ٹک ٹاک پر خاموشی سے سرچ فیچر کو اپڈیٹ کردیا گیا اور اب وہاں پر صارفین کو وکی پیڈیا کا لنک بھی نظر آنے لگے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188158"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ صارفین جیسے ہی ٹک ٹاک پر کوئی مواد یا معلومات سرچ کرتے ہیں تو اسکرولنگ میں نیچے وکی پیڈیا کا لنک بھی نظر آنے لگتا ہے اور صارف مذکورہ لنک کو کلک کرکے وکی پیڈیا کے پیج پر چلا جائے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں ٹک ٹاک سے وابستہ عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مذکورہ فیچر چند ماہ سے آزمایا جا رہا تھا اور اس تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی تھی لیکن اب اسے بہتر بنا دیا گیا ہے اور آنے والے وقت میں اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔</p>
<p>ٹک ٹاک پر وکی پیڈیا کی معلومات یا اس کا لنک نظر آنے سے متعلق دونوں پلیٹ فارمز کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ ہوا ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ وکی پیڈیا لاکھوں موضوعات، مقامات اور مسائل پر بنیادی معلومات فراہم کرنے والی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے لیکن اس پر دستیاب معلومات کو 100 فیصد درست نہیں سمجھا جاتا۔</p>
<p>وکی پیڈیا پر عام انٹرنیٹ صارفین ایڈیٹر کا اکاؤنٹ بنانے کے بعد کسی بھی موضوع، مسئلے یا شخصیت سے متعلق معلومات کا پیج بنا سکتے ہیں اور اسی وجہ سے ہی اس پر دستیاب معلومات کو مستند نہیں سمجھا جاتا۔</p>
<p>تاہم دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کسی بھی ملک، مسئلے، موضوع یا شخصیت سے متعلق ابتدائی بنیادی معلومات کے حصول کے لیے وکی پیڈیا پر ہی انحصار کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211863</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Sep 2023 21:36:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/15210051b6e92bd.jpg?r=210212" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/15210051b6e92bd.jpg?r=210212"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
