<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:38:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:38:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا: پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک بھارتی لڑکی کا مذاق اڑانے والے اہلکار کے خلاف تحقیقات کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211874/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیٹل میں گشت پر مامور پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے بھارتی خاتون کی ہلاکت پر ہنسنے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-66803960"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 23 جنوری کو نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے سیٹل کیمپس میں 23 سالہ گریجویشن کی طالبہ جھانوی کنڈلا اس وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں جب وہ سڑک عبور کرتے ہوئے پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی دستاویزات کے مطابق مذکورہ پولیس افسر کی شناخت ڈینیئل آڈرر کے نام سے ہوئی جس کو جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا، اگلے دن پولیس افسر کے جسم میں لگے کیمرے میں ان کی آواز سنی جا سکتی ہے جو اس کال کی ریکارڈنگ تھی جو انہوں نے اس دوران کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196235"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق افسر کو فون کال پر ہنسنے سے پہلے یہ کہتے سنا گیا کہ وہ مر چکی ہے، نہیں، یہ ایک عام فرد ہے، اور دوبارہ ہنستے ہوئے کہا کہ ہاں، بس ایک چیک لکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر نے کہا کہ 11 ہزار ڈالر، وہ 26 سال کی تھی ویسے بھی، اس کی قیمت محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈینیئل آڈرر مبینہ طور پر فون پر یونین کے صدر مائیک سولن کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ میرے ریمارکس غلط انداز میں اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے کے اوائل میں سیٹل پولیس ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ یہ بات چیت ایک ملازم کے ذریعے سامنے آئی جس کا سامنا روزمرہ کے امور کے دوران ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196188"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ ملازم نے بیانات کے مواد کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا اور بعد ازاں ان خدشات کا اعلیٰ حکام سے بھی اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد حکام نے کیس کو پولیس احتساب کے دفتر میں منتقل کر دیا، جو محکمہ پولیس میں ہونے والی کسی بھی قسم کی بدانتظامی کی تحقیقات کا ذمہ دار ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیٹل پولیس ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ ایجنسی فی الحال بیانات کی جانچ کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا کسی پالیسی کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سان فرانسسکو میں بھارت کے قونصلیٹ جنرل نے جھانوی کنڈلا کی موت سے نمٹنے کے طریقہ کار کو انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قونصل خانے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر کہا کہ ہم نے واشنگٹن میں امریکی حکام کے علاوہ ریاستی اور مقامی حکام سے بھی رابطہ کیا ہے، اور واقعے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ ساتھ اس الم ناک معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CGISFO/status/1701961201884795055"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ امریکی حکومت نے بھارت کو جھانوی کنڈلا کی موت کی فوری اور منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے امریکا میں بھارت کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو کو یقین دلایا ہے کہ ان کی طرف سے اس پورے واقعے کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سیئٹل سٹی کے میئر بروس ہیرل نے متاثرہ خاندان کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک شخص کی طرف سے کیے گئے تبصرے شہر یا اس میں رہنے والے افراد کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیٹل میں گشت پر مامور پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے بھارتی خاتون کی ہلاکت پر ہنسنے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-66803960">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 23 جنوری کو نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے سیٹل کیمپس میں 23 سالہ گریجویشن کی طالبہ جھانوی کنڈلا اس وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں جب وہ سڑک عبور کرتے ہوئے پولیس کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھیں۔</p>
<p>پولیس کی دستاویزات کے مطابق مذکورہ پولیس افسر کی شناخت ڈینیئل آڈرر کے نام سے ہوئی جس کو جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا، اگلے دن پولیس افسر کے جسم میں لگے کیمرے میں ان کی آواز سنی جا سکتی ہے جو اس کال کی ریکارڈنگ تھی جو انہوں نے اس دوران کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196235"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق افسر کو فون کال پر ہنسنے سے پہلے یہ کہتے سنا گیا کہ وہ مر چکی ہے، نہیں، یہ ایک عام فرد ہے، اور دوبارہ ہنستے ہوئے کہا کہ ہاں، بس ایک چیک لکھیں۔</p>
<p>پولیس افسر نے کہا کہ 11 ہزار ڈالر، وہ 26 سال کی تھی ویسے بھی، اس کی قیمت محدود ہے۔</p>
<p>ڈینیئل آڈرر مبینہ طور پر فون پر یونین کے صدر مائیک سولن کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے۔</p>
<p>پولیس افسر نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ میرے ریمارکس غلط انداز میں اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔</p>
<p>رواں ہفتے کے اوائل میں سیٹل پولیس ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ یہ بات چیت ایک ملازم کے ذریعے سامنے آئی جس کا سامنا روزمرہ کے امور کے دوران ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196188"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ ملازم نے بیانات کے مواد کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا اور بعد ازاں ان خدشات کا اعلیٰ حکام سے بھی اظہار کیا۔</p>
<p>اس کے بعد حکام نے کیس کو پولیس احتساب کے دفتر میں منتقل کر دیا، جو محکمہ پولیس میں ہونے والی کسی بھی قسم کی بدانتظامی کی تحقیقات کا ذمہ دار ادارہ ہے۔</p>
<p>سیٹل پولیس ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ ایجنسی فی الحال بیانات کی جانچ کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا کسی پالیسی کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔</p>
<p>دریں اثنا، سان فرانسسکو میں بھارت کے قونصلیٹ جنرل نے جھانوی کنڈلا کی موت سے نمٹنے کے طریقہ کار کو انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے۔</p>
<p>قونصل خانے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر کہا کہ ہم نے واشنگٹن میں امریکی حکام کے علاوہ ریاستی اور مقامی حکام سے بھی رابطہ کیا ہے، اور واقعے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ ساتھ اس الم ناک معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CGISFO/status/1701961201884795055"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ امریکی حکومت نے بھارت کو جھانوی کنڈلا کی موت کی فوری اور منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے امریکا میں بھارت کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو کو یقین دلایا ہے کہ ان کی طرف سے اس پورے واقعے کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔</p>
<p>این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سیئٹل سٹی کے میئر بروس ہیرل نے متاثرہ خاندان کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک شخص کی طرف سے کیے گئے تبصرے شہر یا اس میں رہنے والے افراد کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211874</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Sep 2023 01:40:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/15234844b19de9f.png?r=235019" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/15234844b19de9f.png?r=235019"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
