<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:02:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:02:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمپیوٹر چپ کو مفلوج افراد کے دماغ میں آزمانے کی تیاریاں مکمل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212152/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی ’نیورا لنک‘ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں اپنی تیار کردہ کمپیوٹر چپ کو مفلوج افراد کے دماغ میں داخل کرکے اسے آزمانے کے لیے بیمار افراد کو بھرتی کرنے کی منظوری مل گئی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نیورا لنک‘ کو رواں برس مئی میں  امریکا کے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ (ایف ڈی اے) نے مذکورہ چپ آزمانے کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی اے کی منظوری کے بعد کمپنی نے بیمار اور مفلوج افراد کو آزمائش کے لیے بھرتی کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی بورڈ میں درخواست دی تھی، جس نے اب کمپنی کو معذور افراد بھرتی کرکے آزمائش شروع کرنے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/musks-neuralink-start-human-trials-brain-implant-2023-09-19/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’نیورا لنک‘ نے 20 ستمبر کو تصدیق کی کہ انہیں فالج، ریڑھ کی ہڈی اور دیگر اعصابی اور دماغی بیماریوں میں مبتلا افراد کو آزمائش کے لیے بھرتی کرنے کی اجازت مل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو ریڑھ کی ہڈی، فالج اور دیگر اعصابی اور دماغی بیماریوں میں مبتلا افراد کے دماغ کے اس حصے میں نصب کیا جائے گا جو انسانی جسم کو حرکت کرنے کی ہدایات جاری کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204854"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چپ کو ’برین کمپیوٹرانٹرفیس‘ (بی سی آئی) کا نام دیا گیا ہے جو ایک ننھے روبوٹ کی طرح کام کرے گی لیکن اس کی ساخت موبائل سم کی طرح ہوگی جو مفلوج انسان کے دماغ کو کمپیوٹر کے کی بورڈ کی طرح کام کرنے میں مدد فراہم فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی جس مفلوج انسان کے دماغ میں مذکورہ چپ نصب کی جائے گی وہ قدرتی طور پر صحت مند انسان کی طرح جسم کے ان حصوں کو بھی حرکت میں لانے کے قابل ہوگا جو بیماری کی وجہ سے مفلوج ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر فالج کے مریض چپ نصب ہونے کے بعد اپنی مفلوج ٹانگ اور پاؤں کو بھی حرکت میں لانے کے قابل ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق آزمائشی پروگرام کے لیے بھرتی کیے جانے والے افراد پر 6 سال تک تحقیق ہوگی، تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے رضاکاروں کی خدمات لی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امکان ہے کہ پروگرام کے لیے کم از کم 3 درجن افراد کی خدمات لی جائیں گی، جن پر آئندہ برس سے آزمائش شروع کیے جانے کا امکان ہے اور آزمائشی پروگرام کے ابتدائی نتائج ایک سال بعد جاری کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نیورا لنک’ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی کمپنی ہے، جسے 2016 میں بنایا گیا تھا، اس کمپنی کا مقصد ایسی کمپیوٹرائزڈ چپ تیار کرنا ہے، جنہیں انسانی دماغ اور جسم میں داخل کرکے انسان ذات کو بیماریوں سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کمپنی نے 2020 میں تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو جانوروں کے دماغ میں داخل کرکے اس کی آزمائش بھی کی تھی اور پھر کمپیوٹرائزڈ چپ والے جانوروں کو دنیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورا لنک کی جانب سے بنائی گئی مذکورہ چپ کسی چھوٹے سکے کی سائز کی ہے اور وہ انتہائی پتلی ہے، جسے کسی بھی جاندار کے دماغ میں نصب کرکے اسے وائرلیس سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فون سے منسلک کیا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چپ فالج، انزائٹی، ڈپریشن، جوڑوں کے شدید درد، ریڑھ کی ہڈی کے درد، دماغ کے شدید متاثر ہوکر کام چھوڑنے، نابینا پن، سماعت گویائی سے محرومی، بے خوابی اور بے ہوشی کے دوروں سمیت دیگر بیماریوں اور مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1107134"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چپ کو موبائل فون کے سم کارڈ کی طرح ایسے سسٹم سے بنایا گیا ہے جو سگنل کی مدد سے اسے اسمارٹ فون سے منسلک کرے گا اور پھر فون کے ذریعے مذکورہ چیزیں شامل کی جا سکیں گی اور چپ سے چیزیں نکالی بھی جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چپ انسانی خیالات کا ریکارڈ بھی جمع کرے گی جب کہ انسان کی یادداشت کو بھی محفوظ رکھ سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چپ میں محفوظ انسانی یادداشت کو کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے کسی بھی وقت ری پلے کیا جا سکے گا یا کسی بھی وقت ماضی میں گزرے دنوں کو اسکرین پر ڈیٹا کی صورت میں لایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی ’نیورا لنک‘ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں اپنی تیار کردہ کمپیوٹر چپ کو مفلوج افراد کے دماغ میں داخل کرکے اسے آزمانے کے لیے بیمار افراد کو بھرتی کرنے کی منظوری مل گئی</p>
<p>’نیورا لنک‘ کو رواں برس مئی میں  امریکا کے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ (ایف ڈی اے) نے مذکورہ چپ آزمانے کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>ایف ڈی اے کی منظوری کے بعد کمپنی نے بیمار اور مفلوج افراد کو آزمائش کے لیے بھرتی کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی بورڈ میں درخواست دی تھی، جس نے اب کمپنی کو معذور افراد بھرتی کرکے آزمائش شروع کرنے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/musks-neuralink-start-human-trials-brain-implant-2023-09-19/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق ’نیورا لنک‘ نے 20 ستمبر کو تصدیق کی کہ انہیں فالج، ریڑھ کی ہڈی اور دیگر اعصابی اور دماغی بیماریوں میں مبتلا افراد کو آزمائش کے لیے بھرتی کرنے کی اجازت مل گئی۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو ریڑھ کی ہڈی، فالج اور دیگر اعصابی اور دماغی بیماریوں میں مبتلا افراد کے دماغ کے اس حصے میں نصب کیا جائے گا جو انسانی جسم کو حرکت کرنے کی ہدایات جاری کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204854"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ چپ کو ’برین کمپیوٹرانٹرفیس‘ (بی سی آئی) کا نام دیا گیا ہے جو ایک ننھے روبوٹ کی طرح کام کرے گی لیکن اس کی ساخت موبائل سم کی طرح ہوگی جو مفلوج انسان کے دماغ کو کمپیوٹر کے کی بورڈ کی طرح کام کرنے میں مدد فراہم فراہم کرے گی۔</p>
<p>یعنی جس مفلوج انسان کے دماغ میں مذکورہ چپ نصب کی جائے گی وہ قدرتی طور پر صحت مند انسان کی طرح جسم کے ان حصوں کو بھی حرکت میں لانے کے قابل ہوگا جو بیماری کی وجہ سے مفلوج ہوں گے۔</p>
<p>مثال کے طور پر فالج کے مریض چپ نصب ہونے کے بعد اپنی مفلوج ٹانگ اور پاؤں کو بھی حرکت میں لانے کے قابل ہو جائیں گے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق آزمائشی پروگرام کے لیے بھرتی کیے جانے والے افراد پر 6 سال تک تحقیق ہوگی، تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے رضاکاروں کی خدمات لی جائیں گی۔</p>
<p>امکان ہے کہ پروگرام کے لیے کم از کم 3 درجن افراد کی خدمات لی جائیں گی، جن پر آئندہ برس سے آزمائش شروع کیے جانے کا امکان ہے اور آزمائشی پروگرام کے ابتدائی نتائج ایک سال بعد جاری کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ نیورا لنک’ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی کمپنی ہے، جسے 2016 میں بنایا گیا تھا، اس کمپنی کا مقصد ایسی کمپیوٹرائزڈ چپ تیار کرنا ہے، جنہیں انسانی دماغ اور جسم میں داخل کرکے انسان ذات کو بیماریوں سے بچانا ہے۔</p>
<p>اسی کمپنی نے 2020 میں تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو جانوروں کے دماغ میں داخل کرکے اس کی آزمائش بھی کی تھی اور پھر کمپیوٹرائزڈ چپ والے جانوروں کو دنیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>نیورا لنک کی جانب سے بنائی گئی مذکورہ چپ کسی چھوٹے سکے کی سائز کی ہے اور وہ انتہائی پتلی ہے، جسے کسی بھی جاندار کے دماغ میں نصب کرکے اسے وائرلیس سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فون سے منسلک کیا جاسکے گا۔</p>
<p>مذکورہ چپ فالج، انزائٹی، ڈپریشن، جوڑوں کے شدید درد، ریڑھ کی ہڈی کے درد، دماغ کے شدید متاثر ہوکر کام چھوڑنے، نابینا پن، سماعت گویائی سے محرومی، بے خوابی اور بے ہوشی کے دوروں سمیت دیگر بیماریوں اور مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1107134"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ چپ کو موبائل فون کے سم کارڈ کی طرح ایسے سسٹم سے بنایا گیا ہے جو سگنل کی مدد سے اسے اسمارٹ فون سے منسلک کرے گا اور پھر فون کے ذریعے مذکورہ چیزیں شامل کی جا سکیں گی اور چپ سے چیزیں نکالی بھی جا سکیں گی۔</p>
<p>مذکورہ چپ انسانی خیالات کا ریکارڈ بھی جمع کرے گی جب کہ انسان کی یادداشت کو بھی محفوظ رکھ سکے گی۔</p>
<p>چپ میں محفوظ انسانی یادداشت کو کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے کسی بھی وقت ری پلے کیا جا سکے گا یا کسی بھی وقت ماضی میں گزرے دنوں کو اسکرین پر ڈیٹا کی صورت میں لایا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212152</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Sep 2023 20:55:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/20200910ce5367f.jpg?r=201218" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/20200910ce5367f.jpg?r=201218"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
