<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 23:34:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 23:34:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشین گیمز: خواتین کے کرکٹ میچ کے دوران میدان میں چینی تماشائیوں کی بڑی تعداد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212457/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین کے شہر ہینگ ژو میں ایشین گیمز کے دوران خواتین کرکٹ میچ میں پاکستان کی سعدیہ اقبال نے بنگلہ دیش کی شتھی رانی کے سامنے باؤلنگ کا آغاز کیا تو میدان میں موجود تماشائیوں نے جوش و خروش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی خبر  ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بلے کی آواز گراؤنڈ کے ارد گرد گونج رہی تھی جو کچھ عرصہ پہلے تک سورج مکھیوں سے بھرا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے کہیں زیادہ یہاں ماحول ہرا بھرا ہے لیکن چند سو تماشائی پوری طرح کھیل سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژیجیانگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کرکٹ فیلڈ میں تقریباً مکمل طور پر چینی ہجوم نعرے لگا رہا تھا اور ہر وکٹ گرنے پر تالیاں بجاتا رہا اور ہر باؤنڈری پر چینی زبان میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تماشائی ہوانگ ڈپینگ نے کہا کہ ’میں نے پہلے کبھی کرکٹ نہیں دیکھی اس لیے میں اس کھیل کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی رکھتا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوانگ ڈپینگ نے کہا کہ ’میں نے اسے تھوڑا سمجھنا شروع کیا ہے لیکن بہرحال میں اس سے لطف اندوز ہو رہا ہوں تاہم کئی لوگوں کو کھیل کا کچھ علم ہے اور وہ سحر زدہ نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹریول ایجنٹ لیانگ ژاؤقیان نے کہا کہ میں نے پہلے سری لنکا کا سفر کیا تھا جہاں اور ایک دوست نے مجھے کرکٹ دیکھنے کے لیے مدعو کیا تھا، اس لیے میں  اس میں دلچسپی لینے لگا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب میں نے سنا کہ یہ ایشین گیمز میں ہے تو میں نے اس گیم کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ویمن ٹیم کے ہیڈ کوچ محتشم رشید نے کہا کہ کرکٹ کو نئے علاقوں تک پھیلانا بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے سابق ٹیسٹ کھلاڑی ہارون رشید کے بھائی محتشم نے بتایا کہ تمام چینی باشندوں کو کرکٹ دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں یہاں آنے کا لمحہ بہت پرجوش ہے، یہ چین میں کرکٹ کی ترقی کے لیے ایک صحت مند علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ کھیل ہے لہٰذا ہمیں چین اور دیگر ممالک میں پیش رفت کرنی ہوگی، سب سے اہم چیز اس کھیل کو اسکولوں میں داخل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹ کھلاڑی ہارون رشید کے بھائی نے کہا کہ میں یہاں ایک ایکسچینج پروگرام کرنا پسند کروں گا تاکہ لڑکوں اور لڑکیوں کو گیم سیکھنے میں مدد ملے، بچوں سے شروع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ انڈر 10 کھیل سکتے ہیں، تو پانچ برسوں میں آپ کو فرق نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بڑی عمر کے بچوں کے لیے ہم اسے 20 بال کے ساتھ لا سکتے ہیں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ بیس بال کھیلنا پسند کرتے ہیں اور ایسا ہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین کے شہر ہینگ ژو میں ایشین گیمز کے دوران خواتین کرکٹ میچ میں پاکستان کی سعدیہ اقبال نے بنگلہ دیش کی شتھی رانی کے سامنے باؤلنگ کا آغاز کیا تو میدان میں موجود تماشائیوں نے جوش و خروش کا اظہار کیا۔</p>
<p>غیرملکی خبر  ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بلے کی آواز گراؤنڈ کے ارد گرد گونج رہی تھی جو کچھ عرصہ پہلے تک سورج مکھیوں سے بھرا ہوا تھا۔</p>
<p>لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے کہیں زیادہ یہاں ماحول ہرا بھرا ہے لیکن چند سو تماشائی پوری طرح کھیل سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔</p>
<p>ژیجیانگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کرکٹ فیلڈ میں تقریباً مکمل طور پر چینی ہجوم نعرے لگا رہا تھا اور ہر وکٹ گرنے پر تالیاں بجاتا رہا اور ہر باؤنڈری پر چینی زبان میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>ایک تماشائی ہوانگ ڈپینگ نے کہا کہ ’میں نے پہلے کبھی کرکٹ نہیں دیکھی اس لیے میں اس کھیل کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی رکھتا ہوں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہوانگ ڈپینگ نے کہا کہ ’میں نے اسے تھوڑا سمجھنا شروع کیا ہے لیکن بہرحال میں اس سے لطف اندوز ہو رہا ہوں تاہم کئی لوگوں کو کھیل کا کچھ علم ہے اور وہ سحر زدہ نظر آتے ہیں۔</p>
<p>ایک ٹریول ایجنٹ لیانگ ژاؤقیان نے کہا کہ میں نے پہلے سری لنکا کا سفر کیا تھا جہاں اور ایک دوست نے مجھے کرکٹ دیکھنے کے لیے مدعو کیا تھا، اس لیے میں  اس میں دلچسپی لینے لگا ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب میں نے سنا کہ یہ ایشین گیمز میں ہے تو میں نے اس گیم کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی لی۔</p>
<p>پاکستانی ویمن ٹیم کے ہیڈ کوچ محتشم رشید نے کہا کہ کرکٹ کو نئے علاقوں تک پھیلانا بہت ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کے سابق ٹیسٹ کھلاڑی ہارون رشید کے بھائی محتشم نے بتایا کہ تمام چینی باشندوں کو کرکٹ دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں یہاں آنے کا لمحہ بہت پرجوش ہے، یہ چین میں کرکٹ کی ترقی کے لیے ایک صحت مند علامت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ کھیل ہے لہٰذا ہمیں چین اور دیگر ممالک میں پیش رفت کرنی ہوگی، سب سے اہم چیز اس کھیل کو اسکولوں میں داخل کرنا ہے۔</p>
<p>ٹیسٹ کھلاڑی ہارون رشید کے بھائی نے کہا کہ میں یہاں ایک ایکسچینج پروگرام کرنا پسند کروں گا تاکہ لڑکوں اور لڑکیوں کو گیم سیکھنے میں مدد ملے، بچوں سے شروع کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ انڈر 10 کھیل سکتے ہیں، تو پانچ برسوں میں آپ کو فرق نظر آئے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بڑی عمر کے بچوں کے لیے ہم اسے 20 بال کے ساتھ لا سکتے ہیں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ بیس بال کھیلنا پسند کرتے ہیں اور ایسا ہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212457</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Sep 2023 20:51:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/251819387fbb710.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/251819387fbb710.png"/>
        <media:title>ہینگ ژو میں کئی روز سے ایشین گیمز جاری ہیں—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
