<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:23:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:23:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیرس اولمپکس میں فرینچ ایتھلیٹس کے حجاب پہن کر شرکت پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212529/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانس نے آئندہ سال ہونے والے پیرس اولمپکس میں اپنے ایتھلیٹس کے حجاب پہن کر مقابلے میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے ’العربیہ‘ کے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.alarabiya.net/News/world/2023/09/26/France-bans-athletes-from-wearing-hijab-at-Paris-Olympic-games-sparking-outcry"&gt;مطابق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; فرانس کی وزیر کھیل ایمیلی اودیا کیستیرا نے چینل ’فرانس 3‘ پر پروگرام ’سنڈے ان پالیٹکس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے دستے میں کسی کو بھی سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہماری فرانسیسی ٹیموں میں کوئی بھی سر پر اسکارف نہیں لے گا اور اس پابندی میں مستقبل میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DimPolitique/status/1705904179900727382"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک اس موضوع پر فرانسیسی مؤقف کا تعلق ہے تو ہم کونسل آف اسٹیٹ کے حالیہ فیصلے سے متفق ہیں جس میں وزیر اعظم نے کھیل کے میدان میں سیکولرازم کی حمایت کی ہے، اس کا مطلب ہے کسی بھی قسم کی تبلیغ کی ممانعت ہو گی اور غیرجانبداری کو برقرار رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب فرانس میں لباس کا موضوع ان دنوں زیر بحث ہے کیونکہ کچھ عرصہ قبل ہی ملک کے لڑکیوں کے اسکولوں میں عبایا پہن کر جانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175950"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس میں پہلے ہی مسلمان خواتین کے سرکاری دفاتر، اسکولوں اور یونیورسٹیوں وغیرہ میں نقاب لینے یا حجاب پہننے پر پابندی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سی کمپنیوں نے سر پر اسکارف پہننے یا ملازمت کے دوران اسکارف لینے کا فیصلہ کرنے والی مسلمان خواتین کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے پہلے ہی غیر تحریری اصول بھی بنا رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پابندیوں کی واضح وجہ فرانس کی جانب سے ریاست کے نافذ کردہ سیکولرازم کی تعمیل ہے جو ریاستی اداروں کے اندر مذہب کی علامتوں پر پابندی لگاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ تمام مذاہب پر لاگو ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر مسلمان خواتین کو اس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے جو مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر سر پر اسکارف یا عبایا لینے کو ترجیح دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی وزیر کھیل نے اس معاملے پر انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے بیانیے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو کھیلوں میں حجاب پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں شرکت کے حوالے سے پابندی بنانے والی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی عجیب منطق پر عمل پیرا ہے اور وہ حجاب کو مذہبی علامت کے بجائے ثقافت قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KawtarNajib/status/1706043899867729973?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی وزیر کھیل کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر صارفین میں غم و غصے کو جنم دیا اور انہوں نے فرانسیسی حکومت سے سوال کیا کہ کیا اس کا اطلاق غیرملکی ایتھلیٹس پر بھی ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کوثر نجیب نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیرس میں ہونے والے اولمپکس 2024 کا بائیکاٹ کرنا پڑے گا کیونکہ وزیر کھیل نے کہا ہے کہ فرنچ ایتھلیٹس حجاب نہیں پہن سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کیا اس پابندی کا اطلاق غیرملکی ایتھلیٹس پر بھی ہو گا؟ اگر ایسا ہے تو امریکی ایتھلیٹ ابتہاج محمد سونے کا تمغہ نہیں جیت سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Naxxeur/status/1706042603500601689"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر صارفین نے بھی اس پابندی پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں میں اس چیز کو نظرانداز کرنا چاہیے، حجاب کو کھیلوں میں آڑے نہیں آنے دینا چاہیے اور اسے ایتھلیٹس کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانس نے آئندہ سال ہونے والے پیرس اولمپکس میں اپنے ایتھلیٹس کے حجاب پہن کر مقابلے میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔</p>
<p>عرب نشریاتی ادارے ’العربیہ‘ کے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.alarabiya.net/News/world/2023/09/26/France-bans-athletes-from-wearing-hijab-at-Paris-Olympic-games-sparking-outcry">مطابق</a></strong> فرانس کی وزیر کھیل ایمیلی اودیا کیستیرا نے چینل ’فرانس 3‘ پر پروگرام ’سنڈے ان پالیٹکس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے دستے میں کسی کو بھی سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہو گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہماری فرانسیسی ٹیموں میں کوئی بھی سر پر اسکارف نہیں لے گا اور اس پابندی میں مستقبل میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DimPolitique/status/1705904179900727382"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک اس موضوع پر فرانسیسی مؤقف کا تعلق ہے تو ہم کونسل آف اسٹیٹ کے حالیہ فیصلے سے متفق ہیں جس میں وزیر اعظم نے کھیل کے میدان میں سیکولرازم کی حمایت کی ہے، اس کا مطلب ہے کسی بھی قسم کی تبلیغ کی ممانعت ہو گی اور غیرجانبداری کو برقرار رکھا جائے گا۔</p>
<p>یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب فرانس میں لباس کا موضوع ان دنوں زیر بحث ہے کیونکہ کچھ عرصہ قبل ہی ملک کے لڑکیوں کے اسکولوں میں عبایا پہن کر جانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175950"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فرانس میں پہلے ہی مسلمان خواتین کے سرکاری دفاتر، اسکولوں اور یونیورسٹیوں وغیرہ میں نقاب لینے یا حجاب پہننے پر پابندی عائد ہے۔</p>
<p>بہت سی کمپنیوں نے سر پر اسکارف پہننے یا ملازمت کے دوران اسکارف لینے کا فیصلہ کرنے والی مسلمان خواتین کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے پہلے ہی غیر تحریری اصول بھی بنا رکھے ہیں۔</p>
<p>پابندیوں کی واضح وجہ فرانس کی جانب سے ریاست کے نافذ کردہ سیکولرازم کی تعمیل ہے جو ریاستی اداروں کے اندر مذہب کی علامتوں پر پابندی لگاتی ہے۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ تمام مذاہب پر لاگو ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر مسلمان خواتین کو اس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے جو مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر سر پر اسکارف یا عبایا لینے کو ترجیح دیتی ہیں۔</p>
<p>فرانسیسی وزیر کھیل نے اس معاملے پر انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے بیانیے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو کھیلوں میں حجاب پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں شرکت کے حوالے سے پابندی بنانے والی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی عجیب منطق پر عمل پیرا ہے اور وہ حجاب کو مذہبی علامت کے بجائے ثقافت قرار دیتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KawtarNajib/status/1706043899867729973?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>فرانس کی وزیر کھیل کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر صارفین میں غم و غصے کو جنم دیا اور انہوں نے فرانسیسی حکومت سے سوال کیا کہ کیا اس کا اطلاق غیرملکی ایتھلیٹس پر بھی ہو گا۔</p>
<p>سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کوثر نجیب نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیرس میں ہونے والے اولمپکس 2024 کا بائیکاٹ کرنا پڑے گا کیونکہ وزیر کھیل نے کہا ہے کہ فرنچ ایتھلیٹس حجاب نہیں پہن سکیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کیا اس پابندی کا اطلاق غیرملکی ایتھلیٹس پر بھی ہو گا؟ اگر ایسا ہے تو امریکی ایتھلیٹ ابتہاج محمد سونے کا تمغہ نہیں جیت سکیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Naxxeur/status/1706042603500601689"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>دیگر صارفین نے بھی اس پابندی پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں میں اس چیز کو نظرانداز کرنا چاہیے، حجاب کو کھیلوں میں آڑے نہیں آنے دینا چاہیے اور اسے ایتھلیٹس کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212529</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Sep 2023 20:42:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/26180414d79006d.jpg?r=181126" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/26180414d79006d.jpg?r=181126"/>
        <media:title>پیرس 2024 میں اولمپکس کی میزبانی کرے گا— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
