<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:25:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:25:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹس پر گرفتار صحافی خالد جمیل کی ضمانت منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212682/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانیہ پھیلانے کے الزام میں گزشتہ ہفتے گرفتار کیے گئے صحافی خالد جمیل کی ضمانت منظور کر لی جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے صحافی کی 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کرلی اور عدالت کی جانب سے ضمانت کے احکامات جاری ہونے کے بعد خالد جمیل کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے کی جانب سے صحافی کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ خالد سوشل میڈیا/ٹوئٹر پر انتہائی دھمکی آمیز مواد ٹوئٹس کا اشتراک اور پروپیگنڈا کرتے پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212283"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملزمان نے جان بوجھ کر غلط، گمراہ کن اور بے بنیاد معلومات شیئر کر کے ریاست مخالف بیانیے کی غلط تشریح کی اور اسے پھیلایا جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلنے اور یہ لوگوں کو ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف جرم کے ارتکاب پر بھی اکسا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے نے مزید کہا کہ محمد خالد جمیل سمیت ملزمان نے ریاستی اداروں کے خلاف ریاست مخالف، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز بیانیے کا پروپیگنڈا کیا اور اسے فروغ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مزید کہا گیا کہ ویڈیوز سمیت اس طرح کے دھمکی آمیز مواد کے ذریعے ملزم نے عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کے خلاف عام لوگوں کو اکسانے اور ریاست کے ستونوں کے مابین بدنیتی کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے کے اوائل میں خالد جمیل کے وکیل نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی، گزشتہ سماعت پر عدالت نے ایف آئی اے سے صحافی کے ٹوئٹس سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کو کہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مقدمے-کی-سماعت" href="#مقدمے-کی-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مقدمے کی سماعت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آج سماعت کے آغاز پر خالد جمیل کے وکیل نوید ملک نے عدالت کو بتایا کہ صحافی کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خالد جمیل میڈیا کے منظرنامے کی ممتاز شخصیت ہیں اور اس وقت ایک انتہائی معزز نیوز آرگنائزیشن میں بیورو چیف کے عہدے پر فائز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ آئین کا آرٹیکل 19 واضح طور پر آزادی اظہار کے حق کو برقرار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212577"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے دلیل دی کہ صحافی کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کے سیکشن 20 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون کے مخصوص حصے کو غیر آئینی قرار دیا ہے، اس کے نتیجے میں اس کے تحت کیے گئے کسی بھی اقدام کو کالعدم قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوید ملک نے نشاندہی کی کہ ایف آئی اے نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کس طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے دوران گرفتاری درخواست گزار کی رازداری کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں، پراسیکیوٹر نے دلیل دی کہ خالد جمیل کی ٹوئٹس کی بنیاد پر ایک مخصوص بیانیہ شکل اختیار کر رہا ہے، اگرچہ ٹوئٹر کے رجحانات عارضی ہو سکتے ہیں لیکن یہ اکثر اداروں کو نشانہ بنانے کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعدازاں صحافی کی ضمانت منظور کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانیہ پھیلانے کے الزام میں گزشتہ ہفتے گرفتار کیے گئے صحافی خالد جمیل کی ضمانت منظور کر لی جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔</p>
<p>اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے صحافی کی 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کرلی اور عدالت کی جانب سے ضمانت کے احکامات جاری ہونے کے بعد خالد جمیل کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔</p>
<p>ایف آئی اے کی جانب سے صحافی کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ خالد سوشل میڈیا/ٹوئٹر پر انتہائی دھمکی آمیز مواد ٹوئٹس کا اشتراک اور پروپیگنڈا کرتے پائے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212283"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملزمان نے جان بوجھ کر غلط، گمراہ کن اور بے بنیاد معلومات شیئر کر کے ریاست مخالف بیانیے کی غلط تشریح کی اور اسے پھیلایا جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلنے اور یہ لوگوں کو ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف جرم کے ارتکاب پر بھی اکسا سکتا ہے۔</p>
<p>ایف آئی اے نے مزید کہا کہ محمد خالد جمیل سمیت ملزمان نے ریاستی اداروں کے خلاف ریاست مخالف، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز بیانیے کا پروپیگنڈا کیا اور اسے فروغ دیا۔</p>
<p>اس میں مزید کہا گیا کہ ویڈیوز سمیت اس طرح کے دھمکی آمیز مواد کے ذریعے ملزم نے عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کے خلاف عام لوگوں کو اکسانے اور ریاست کے ستونوں کے مابین بدنیتی کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>رواں ہفتے کے اوائل میں خالد جمیل کے وکیل نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی، گزشتہ سماعت پر عدالت نے ایف آئی اے سے صحافی کے ٹوئٹس سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کو کہا تھا۔</p>
<h1><a id="مقدمے-کی-سماعت" href="#مقدمے-کی-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مقدمے کی سماعت</h1>
<p>آج سماعت کے آغاز پر خالد جمیل کے وکیل نوید ملک نے عدالت کو بتایا کہ صحافی کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خالد جمیل میڈیا کے منظرنامے کی ممتاز شخصیت ہیں اور اس وقت ایک انتہائی معزز نیوز آرگنائزیشن میں بیورو چیف کے عہدے پر فائز ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ آئین کا آرٹیکل 19 واضح طور پر آزادی اظہار کے حق کو برقرار رکھتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212577"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وکیل نے دلیل دی کہ صحافی کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کے سیکشن 20 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون کے مخصوص حصے کو غیر آئینی قرار دیا ہے، اس کے نتیجے میں اس کے تحت کیے گئے کسی بھی اقدام کو کالعدم قرار دیا گیا۔</p>
<p>نوید ملک نے نشاندہی کی کہ ایف آئی اے نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کس طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے دوران گرفتاری درخواست گزار کی رازداری کی خلاف ورزی کی۔</p>
<p>جواب میں، پراسیکیوٹر نے دلیل دی کہ خالد جمیل کی ٹوئٹس کی بنیاد پر ایک مخصوص بیانیہ شکل اختیار کر رہا ہے، اگرچہ ٹوئٹر کے رجحانات عارضی ہو سکتے ہیں لیکن یہ اکثر اداروں کو نشانہ بنانے کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p>ان دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعدازاں صحافی کی ضمانت منظور کر لی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212682</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Sep 2023 21:32:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/28212439e1842f6.jpg?r=213120" type="image/jpeg" medium="image" height="478" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/28212439e1842f6.jpg?r=213120"/>
        <media:title>عدالت کی جانب سے ضمانت کے احکامات جاری ہونے کے بعد صحافی خالد جمیل کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
