<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 20:00:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 20:00:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انقرہ حملے کے ملزمان کو شام میں تربیت دی گئی، ترکیہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213009/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ نے کہا ہے کہ انقرہ میں حملے کے دوران مارے گئے 2 مشتبہ کرد انتہا پسندوں کو شام میں تربیت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اس حملے کے جواب میں شام اور عراق میں کرد اہداف پر کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/trtworld/status/1709542786075082802"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک پولیس نے انقرہ میں ایک حملہ آور کو ہلاک کردیا تھا جبکہ دوسرے نے ترک وزارت داخلہ کی عمارت کے باہر بظاہر خودکش دھماکا کیا تھا، واقعے میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ہماری مسلح افواج کی تحقیقات کے نتیجے میں یہ واضح ہوگیا ہے کہ دونوں دہشت گرد شام سے آئے اور وہیں تربیت حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212824"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اب سے عراق اور شام میں کرد آرمی گروپ کے تمام انفرااسٹرکچر، بڑی تنصیبات اور توانائی کی سہولیات ہماری مسلح افواج کا جائز ہدف ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے کرد ’پی کے کے‘ ملیشیا کے ایک گروپ کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور اسی گروپ نے اتوار کو ہوئے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور انقرہ میں 2016 کے بعد ان کا پہلا حملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک افواج نے حملے کے بعد عراق میں ’پی کے کے‘ کے اہداف پر فضائی کارروائیاں کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے بیان سے واضح ہے کہ ترکیہ کارروائیوں کا دائرہ کار جنگ سے متاثرہ شام تک وسیع کردے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام میں کرد باغیوں نے ملک کے شمال اور مغربی علاقوں میں نیم خود مختار ہیں اور اپنا نظام چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حمایت سے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایس) مذکورہ علاقے کی فوج ہے، جس کی سربراہی میں داعش کے دہشت گردوں کو 2019 میں شام سے بے دخل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترکیہ کا مؤقف ہے کہ ڈیموکریٹک فورسز کے اتحاد میں کردش پیپلزپروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) میں پی کے کے کی نمائندگی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برسوں کے دوران دارالحکومت انقرہ کئی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے، اکتوبر 2015 میں انقرہ میں مرکزی اسٹیشن کے سامنے ہونے والے حملے میں داعش نے 109 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں تازہ ترین حملہ دسمبر 2022 میں ہوا تھا جب جنوب مشرقی ترکیہ میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملے میں 8 اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2022 میں استنبول کے تقسیم اسکوائر میں تاریخی استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 53 زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ نے کہا ہے کہ انقرہ میں حملے کے دوران مارے گئے 2 مشتبہ کرد انتہا پسندوں کو شام میں تربیت دی گئی تھی۔</p>
<p>خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اس حملے کے جواب میں شام اور عراق میں کرد اہداف پر کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/trtworld/status/1709542786075082802"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ترک پولیس نے انقرہ میں ایک حملہ آور کو ہلاک کردیا تھا جبکہ دوسرے نے ترک وزارت داخلہ کی عمارت کے باہر بظاہر خودکش دھماکا کیا تھا، واقعے میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔</p>
<p>وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ہماری مسلح افواج کی تحقیقات کے نتیجے میں یہ واضح ہوگیا ہے کہ دونوں دہشت گرد شام سے آئے اور وہیں تربیت حاصل کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212824"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اب سے عراق اور شام میں کرد آرمی گروپ کے تمام انفرااسٹرکچر، بڑی تنصیبات اور توانائی کی سہولیات ہماری مسلح افواج کا جائز ہدف ہوں گی۔</p>
<p>ترکیہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے کرد ’پی کے کے‘ ملیشیا کے ایک گروپ کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور اسی گروپ نے اتوار کو ہوئے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور انقرہ میں 2016 کے بعد ان کا پہلا حملہ ہے۔</p>
<p>ترک افواج نے حملے کے بعد عراق میں ’پی کے کے‘ کے اہداف پر فضائی کارروائیاں کی تھیں۔</p>
<p>وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے بیان سے واضح ہے کہ ترکیہ کارروائیوں کا دائرہ کار جنگ سے متاثرہ شام تک وسیع کردے گا۔</p>
<p>شام میں کرد باغیوں نے ملک کے شمال اور مغربی علاقوں میں نیم خود مختار ہیں اور اپنا نظام چلا رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی حمایت سے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایس) مذکورہ علاقے کی فوج ہے، جس کی سربراہی میں داعش کے دہشت گردوں کو 2019 میں شام سے بے دخل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب ترکیہ کا مؤقف ہے کہ ڈیموکریٹک فورسز کے اتحاد میں کردش پیپلزپروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) میں پی کے کے کی نمائندگی کر رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ برسوں کے دوران دارالحکومت انقرہ کئی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے، اکتوبر 2015 میں انقرہ میں مرکزی اسٹیشن کے سامنے ہونے والے حملے میں داعش نے 109 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔</p>
<p>ملک میں تازہ ترین حملہ دسمبر 2022 میں ہوا تھا جب جنوب مشرقی ترکیہ میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملے میں 8 اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p>نومبر 2022 میں استنبول کے تقسیم اسکوائر میں تاریخی استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 53 زخمی ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213009</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Oct 2023 20:42:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/04184531d738b09.jpg?r=204251" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/04184531d738b09.jpg?r=204251"/>
        <media:title>ترک حکام کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ کارروائی کا دائرہ کار وسیع ہوگا — فائل/فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
