<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:44:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:44:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>5 لاکھ روپے سے زائد کے ڈپازٹس غیر محفوظ ہونے کی خبریں مسترد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213078/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے 5 لاکھ روپے  سے زائد کے ڈپازٹس کے غیر محفوظ ہونے کے حوالے سے خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ بینک ڈپازٹس بالکل محفوظ ہیں اور فی الوقت 94 فیصد ڈپازٹرز کو 2016 کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین کے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے مالیات اور محاصل کے اجلاس میں دیے گئے بیان کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں 5 لاکھ روپے سے زائد کے بینک ڈپازٹس غیر محفوظ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1709842879215231151"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ دوٹوک انداز میں واضح کیا جاتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مضبوط ضوابطی اور نگرانی کے فریم ورک کے ماتحت پاکستان میں قائم مستحکم بینکاری نظام کے باعث ڈپازٹس محفوظ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں باکفایت سرمایہ موجود ہے، یہ بے حد سیال اور منافع بخش ہے جس میں خالص غیر ادا شدہ قرضوں یعنی خراب قرضوں کی سطح کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213056"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ اس سیکٹر میں کیلنڈر ایئر 23 کی پہلی ششماہی میں 284 ارب روپے کی بھرپور منافع کا اندراج کیا گیا ہے جو کیلنڈر سال 22 کی پہلی ششماہی سے تقریباً 125 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس بلند آمدنی سے بینکوں کا سرمایہ بھی مضبوط ہوا اور شرح کفایت سرمایہ جون 2023 کے آخر تک بڑھ کر 17.8 فیصد ہو گیا جبکہ جون 2022 کے آخر میں یہ شرح 16.1 تھی جو اسٹیٹ بینک کی کم از کم ضروری حد 11.5 اور بین الاقوامی معیار 10.5 سے خاصی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ادائیگی قرض کی صلاحیت کے بفرز کی بہتری کی وجہ سے بینکاری شعبے کی شدید دھچکے برداشت کرنے کی اہلیت بھی مزید بہتر ہوگئی ہے اور بینکاری نظام کے استحکام کے علاوہ ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن نے تحفظ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ہر ڈپازٹر کو 5 لاکھ روپے تک کا انشورنس کور فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ یہ عمل بہترین بین الاقوامی طور طریقوں اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے، گو کہ اس کا امکان کم ہوتا ہے لیکن دنیا بھر میں بینکوں کی ناکامی کی صورت میں ڈپازٹرز کی رقوم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے نگرانی کی اتھارٹیز اور ڈپازٹ کو تحفظ دینے والی ایجنسیوں کی جانب سے ڈپازٹ کا تحفظ حفاظتی نظام کے کلیدی اجزا میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر بینک ناکام ہوجائے تو ڈی پی سی کی جانب سے بیمہ کردہ رقم فوری طور پر ڈپازٹرز کو دستیاب ہوتی ہے، تاہم جب دشواری کا شکار بینک کا ایک ضابطہ کارانہ عمل کے ذریعے تصفیہ ہوتا ہے تو ڈپازٹس کی بقیہ رقوم بھی نکلوائی جاسکتی ہیں البتہ فی الوقت 94 فیصد ڈپازٹرز کو 2016 کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک نے 5 لاکھ روپے  سے زائد کے ڈپازٹس کے غیر محفوظ ہونے کے حوالے سے خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ بینک ڈپازٹس بالکل محفوظ ہیں اور فی الوقت 94 فیصد ڈپازٹرز کو 2016 کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین کے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے مالیات اور محاصل کے اجلاس میں دیے گئے بیان کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں 5 لاکھ روپے سے زائد کے بینک ڈپازٹس غیر محفوظ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1709842879215231151"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ دوٹوک انداز میں واضح کیا جاتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مضبوط ضوابطی اور نگرانی کے فریم ورک کے ماتحت پاکستان میں قائم مستحکم بینکاری نظام کے باعث ڈپازٹس محفوظ ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں باکفایت سرمایہ موجود ہے، یہ بے حد سیال اور منافع بخش ہے جس میں خالص غیر ادا شدہ قرضوں یعنی خراب قرضوں کی سطح کم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213056"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان نے کہا کہ اس سیکٹر میں کیلنڈر ایئر 23 کی پہلی ششماہی میں 284 ارب روپے کی بھرپور منافع کا اندراج کیا گیا ہے جو کیلنڈر سال 22 کی پہلی ششماہی سے تقریباً 125 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس بلند آمدنی سے بینکوں کا سرمایہ بھی مضبوط ہوا اور شرح کفایت سرمایہ جون 2023 کے آخر تک بڑھ کر 17.8 فیصد ہو گیا جبکہ جون 2022 کے آخر میں یہ شرح 16.1 تھی جو اسٹیٹ بینک کی کم از کم ضروری حد 11.5 اور بین الاقوامی معیار 10.5 سے خاصی زیادہ ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ادائیگی قرض کی صلاحیت کے بفرز کی بہتری کی وجہ سے بینکاری شعبے کی شدید دھچکے برداشت کرنے کی اہلیت بھی مزید بہتر ہوگئی ہے اور بینکاری نظام کے استحکام کے علاوہ ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن نے تحفظ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ہر ڈپازٹر کو 5 لاکھ روپے تک کا انشورنس کور فراہم کیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ یہ عمل بہترین بین الاقوامی طور طریقوں اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے، گو کہ اس کا امکان کم ہوتا ہے لیکن دنیا بھر میں بینکوں کی ناکامی کی صورت میں ڈپازٹرز کی رقوم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے نگرانی کی اتھارٹیز اور ڈپازٹ کو تحفظ دینے والی ایجنسیوں کی جانب سے ڈپازٹ کا تحفظ حفاظتی نظام کے کلیدی اجزا میں شامل ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر بینک ناکام ہوجائے تو ڈی پی سی کی جانب سے بیمہ کردہ رقم فوری طور پر ڈپازٹرز کو دستیاب ہوتی ہے، تاہم جب دشواری کا شکار بینک کا ایک ضابطہ کارانہ عمل کے ذریعے تصفیہ ہوتا ہے تو ڈپازٹس کی بقیہ رقوم بھی نکلوائی جاسکتی ہیں البتہ فی الوقت 94 فیصد ڈپازٹرز کو 2016 کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213078</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Oct 2023 19:00:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/05173853b747a18.jpg?r=190052" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/05173853b747a18.jpg?r=190052"/>
        <media:title>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان میں قائم مستحکم بینکاری نظام کے باعث ڈپازٹس محفوظ ہیں — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
