<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 05:54:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 05:54:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’مائی ری‘ پر تنقید نے ذہنی طور پر متاثر کیا، عینا آصف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213084/</link>
      <description>&lt;p&gt;مقبول ڈرامے ’مائی ری‘ میں کم عمر دلہن اور کم عمر ماں کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ عینا آصف نے کہا ہے کہ وہ حساس ذہنیت کی مالک ہیں اور ’مائی ری‘ میں ان کے کردار پر تنقید کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینا آصف نے حال ہی میں اپنے ڈرامے کی دیگر کاسٹ کے ہمراہ ندا یاسر کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=o_1laMx9Lao&amp;amp;t=786s"&gt;&lt;strong&gt;مارننگ شو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ حساس ذہنیت اور دل کی مالک ہیں اور ان کی توجہ فوری طور پر منفی چیزوں پر چلی جاتی ہے، کوئی اگر ان کی تعریفیں کرتا رہے تو انہیں فرق نہیں پڑتا لیکن اگر کوئی تھوڑی سی بھی تنقید کرتا ہے تو وہ دلبرداشتہ ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شکوہ کیا کہ لوگوں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے ان پر مزاحیہ میمز تو بنالیں لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ان کی میمز کا دوسروں پر کیا اثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینا آصف کا کہنا تھا کہ میمز بنانا آسان ہے لیکن جب پر وہ بنتی ہیں، ان کی جانب سے ان کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان پر تنقید کی گئی کہ انہیں کم عمر ہونے کے باوجود ڈرامے میں 20 سالہ لڑکی کے طور پر کیوں دکھایا گیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کی عمر 15 سال ہو چکی ہے اور وہ ’مائی ری‘ ڈرامے کی 20 سالہ عینی کے کردار کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور اسی طرح لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئیے کہ ڈرامے کو چائلڈ میریج کے موضوع پر بنایا گیا تھا، اس لیے کم عمر اداکارہ کو دکھانا لازمی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اگر ڈرامے میں ان کی جگہ کوئی 20 سالہ لڑکی کاسٹ کی جاتی تو بھی لوگ تنقید کرتے اور کہتے کہ وہ بچی نہیں لگ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینا آصف کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اپنے کردار اور اداکاری کی وجہ سے ہونے والی تنقید نے ان کی ذہنی صحت کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں کس طرح کے کردار ادا کرنا چاہیں گی کہ سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ انہیں منفی کردار دیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینا آصف نے بتایا کہ وہ اب جلد ہی اسکرین پر دکھائی نہیں دیں گی، اب ان کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں، جس کے بعد وہ کچھ ٹیسٹس دیں گی، اس لیے وہ اب کسی پروجیکٹ میں نظر نہیں آئیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ اسکول میں کلاسوں کے وقفے کے دوران خواتین اساتذہ ان سے ڈراموں سے متعلق ہی باتیں کرتی ہیں اور ان سے پوچھتی رہتی ہیں کہ اب ان کے ڈرامے کی اگلی قسط میں کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق وہ اپنی استانیوں کی ڈرامے سے متعلق غلط معلومات دیتی ہیں اور ان کے ساتھ جھوٹ بولتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مقبول ڈرامے ’مائی ری‘ میں کم عمر دلہن اور کم عمر ماں کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ عینا آصف نے کہا ہے کہ وہ حساس ذہنیت کی مالک ہیں اور ’مائی ری‘ میں ان کے کردار پر تنقید کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی۔</p>
<p>عینا آصف نے حال ہی میں اپنے ڈرامے کی دیگر کاسٹ کے ہمراہ ندا یاسر کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=o_1laMx9Lao&amp;t=786s"><strong>مارننگ شو</strong></a> میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ حساس ذہنیت اور دل کی مالک ہیں اور ان کی توجہ فوری طور پر منفی چیزوں پر چلی جاتی ہے، کوئی اگر ان کی تعریفیں کرتا رہے تو انہیں فرق نہیں پڑتا لیکن اگر کوئی تھوڑی سی بھی تنقید کرتا ہے تو وہ دلبرداشتہ ہوجاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے شکوہ کیا کہ لوگوں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے ان پر مزاحیہ میمز تو بنالیں لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ان کی میمز کا دوسروں پر کیا اثر ہوتا ہے۔</p>
<p>عینا آصف کا کہنا تھا کہ میمز بنانا آسان ہے لیکن جب پر وہ بنتی ہیں، ان کی جانب سے ان کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان پر تنقید کی گئی کہ انہیں کم عمر ہونے کے باوجود ڈرامے میں 20 سالہ لڑکی کے طور پر کیوں دکھایا گیا؟</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان کی عمر 15 سال ہو چکی ہے اور وہ ’مائی ری‘ ڈرامے کی 20 سالہ عینی کے کردار کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور اسی طرح لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئیے کہ ڈرامے کو چائلڈ میریج کے موضوع پر بنایا گیا تھا، اس لیے کم عمر اداکارہ کو دکھانا لازمی تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق اگر ڈرامے میں ان کی جگہ کوئی 20 سالہ لڑکی کاسٹ کی جاتی تو بھی لوگ تنقید کرتے اور کہتے کہ وہ بچی نہیں لگ رہی۔</p>
<p>عینا آصف کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اپنے کردار اور اداکاری کی وجہ سے ہونے والی تنقید نے ان کی ذہنی صحت کو متاثر کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مستقبل میں کس طرح کے کردار ادا کرنا چاہیں گی کہ سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ انہیں منفی کردار دیے جائیں۔</p>
<p>عینا آصف نے بتایا کہ وہ اب جلد ہی اسکرین پر دکھائی نہیں دیں گی، اب ان کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں، جس کے بعد وہ کچھ ٹیسٹس دیں گی، اس لیے وہ اب کسی پروجیکٹ میں نظر نہیں آئیں گی۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ اسکول میں کلاسوں کے وقفے کے دوران خواتین اساتذہ ان سے ڈراموں سے متعلق ہی باتیں کرتی ہیں اور ان سے پوچھتی رہتی ہیں کہ اب ان کے ڈرامے کی اگلی قسط میں کیا ہوگا؟</p>
<p>ان کے مطابق وہ اپنی استانیوں کی ڈرامے سے متعلق غلط معلومات دیتی ہیں اور ان کے ساتھ جھوٹ بولتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213084</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Oct 2023 19:34:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/05192707dfdc93b.jpg?r=192816" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/05192707dfdc93b.jpg?r=192816"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
