<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:58:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:58:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خسارے میں چلنے والے بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری ہوگی، نگران وزیر نجکاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213095/</link>
      <description>&lt;p&gt;نگران وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے کہا ہے کہ ملک میں خسارے میں چلنے والے بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبرایجنسی اے پی پی پی کی رپورٹ کے مطابق نگران وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے عالمی بینک کے کنٹری ہیڈ ناجی بین ہسین سے ملاقات کی اور نگران حکومت کے نجکاری کی حکمت عملی کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ نگران وزیر نجکاری نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے بڑے سرکاری اداروں کی نج کاری کی جائے گی تاکہ قومی وسائل کے بڑے مالیاتی خسارے سے بچنے کے ساتھ ساتھ ان کے کام  کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد حسن فواد نے کہا کہ نگران حکومت کے نجکاری کے ایجنڈے میں پی آئی اے کی نجکاری اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈیسکوز) کی کارکردگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ اس مشترکہ کوشش کا مقصد ان اداروں کے ذریعے ہونے والے مالی نقصانات کا ازالہ کرنا ہے اور اس طرح حکومت پر پڑنے والا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کہا کہ وفاقی حکومت بشمول سول بیوروکریسی، عسکری قیادت اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل خصوصی سرمایہ کاری کونسل کی ایپکس کمیٹی نے متفقہ طور پر خسارے میں چلنے والے بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے جو پہلے ہی نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اپنے مسلسل اور حیران کن مالی خسارے کے باعث نجکاری کے لیے اولین ترجیح بن کر ابھرا ہے، جس کا سالانہ خسارہ اربوں میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد حسن فواد نے کہا کہ پی آئی اے کے نقصانات ختم کرنے اور اس کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اس کی نج کاری ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق نگران وفاقی وزیر نے پی آئی اے کی نج کاری کے  منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے ابتدائی مراحل میں عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کو شامل کرنے کے حکومتی ارادے کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ اس کا سب سے بڑا مقصد نجکاری کے عمل کے ذریعے انتہائی اہم سرمایہ کاری لانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے لیے ایک جامع ماڈل تیار کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مستقبل میں ممکنہ تعاون کے لیے عالمی بینک کلیدی شراکت دار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد حسن فواد نے ڈسکوز کے سالانہ نقصانات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جو اس وقت ڈھائی ارب ڈالر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کے ساتھ دو نتیجہ خیز سیشن پہلے ہی ہو چکے ہیں جس کا بنیادی مقصد ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایک طویل مدتی رعایتی ماڈل بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="یورپی-پارلیمنٹ-نے-جی-ایس-پی-قوانین-رول-اوور-کرنے-کا-فیصلہ-کیا-ہے-گوہر-اعجاز" href="#یورپی-پارلیمنٹ-نے-جی-ایس-پی-قوانین-رول-اوور-کرنے-کا-فیصلہ-کیا-ہے-گوہر-اعجاز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یورپی پارلیمنٹ نے جی ایس پی قوانین رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گوہر اعجاز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ نے 2027 تک جی ایس پی کے قوانین رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Gohar_Ejaz1/status/1709916921263521898"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ نے 2027 تک ترجیحات کی عمومی اسکیم (جی ایس پی) کے قوانین رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور توقع ہے کہ یورپی کونسل جلد ہی موجودہ اسکیم کی توسیع کے لیے حتمی منظوری دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر رینا کیونکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نگرانی وزیر تجارت کے اس بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رول اوور اس لیے تجویز کیا گیا ہے تاکہ 2023 کے اختتام پر کسی قسم کی رکاوٹ سے بچا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی کارکردگی یا کسی دوسرے فائدہ حاصل کرنے والے ملک کی کارکردگی سے متعلق نہیں ہے، رکن ممالک جلد فیصلہ کریں گے اور نگرانی جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RKionka/status/1709977690260803676"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ میں پوری یورپی ٹیم کے ساتھ وزیر گوہر اعجاز اور حکومت پاکستان کے جی ایس پی پلس شرائط مکمل کرنے کے عزم کا بھرپور حمایت کرتی ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نگران وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے کہا ہے کہ ملک میں خسارے میں چلنے والے بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری ناگزیر ہے۔</p>
<p>سرکاری خبرایجنسی اے پی پی پی کی رپورٹ کے مطابق نگران وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے عالمی بینک کے کنٹری ہیڈ ناجی بین ہسین سے ملاقات کی اور نگران حکومت کے نجکاری کی حکمت عملی کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ نگران وزیر نجکاری نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے بڑے سرکاری اداروں کی نج کاری کی جائے گی تاکہ قومی وسائل کے بڑے مالیاتی خسارے سے بچنے کے ساتھ ساتھ ان کے کام  کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>فواد حسن فواد نے کہا کہ نگران حکومت کے نجکاری کے ایجنڈے میں پی آئی اے کی نجکاری اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈیسکوز) کی کارکردگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ اس مشترکہ کوشش کا مقصد ان اداروں کے ذریعے ہونے والے مالی نقصانات کا ازالہ کرنا ہے اور اس طرح حکومت پر پڑنے والا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کہا کہ وفاقی حکومت بشمول سول بیوروکریسی، عسکری قیادت اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل خصوصی سرمایہ کاری کونسل کی ایپکس کمیٹی نے متفقہ طور پر خسارے میں چلنے والے بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے جو پہلے ہی نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اپنے مسلسل اور حیران کن مالی خسارے کے باعث نجکاری کے لیے اولین ترجیح بن کر ابھرا ہے، جس کا سالانہ خسارہ اربوں میں ہے۔</p>
<p>فواد حسن فواد نے کہا کہ پی آئی اے کے نقصانات ختم کرنے اور اس کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اس کی نج کاری ناگزیر ہے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق نگران وفاقی وزیر نے پی آئی اے کی نج کاری کے  منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے ابتدائی مراحل میں عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کو شامل کرنے کے حکومتی ارادے کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ اس کا سب سے بڑا مقصد نجکاری کے عمل کے ذریعے انتہائی اہم سرمایہ کاری لانا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پی آئی اے کے لیے ایک جامع ماڈل تیار کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مستقبل میں ممکنہ تعاون کے لیے عالمی بینک کلیدی شراکت دار رہے گا۔</p>
<p>فواد حسن فواد نے ڈسکوز کے سالانہ نقصانات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جو اس وقت ڈھائی ارب ڈالر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کے ساتھ دو نتیجہ خیز سیشن پہلے ہی ہو چکے ہیں جس کا بنیادی مقصد ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایک طویل مدتی رعایتی ماڈل بنانا ہے۔</p>
<h3><a id="یورپی-پارلیمنٹ-نے-جی-ایس-پی-قوانین-رول-اوور-کرنے-کا-فیصلہ-کیا-ہے-گوہر-اعجاز" href="#یورپی-پارلیمنٹ-نے-جی-ایس-پی-قوانین-رول-اوور-کرنے-کا-فیصلہ-کیا-ہے-گوہر-اعجاز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یورپی پارلیمنٹ نے جی ایس پی قوانین رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گوہر اعجاز</h3>
<p>اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ نے 2027 تک جی ایس پی کے قوانین رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Gohar_Ejaz1/status/1709916921263521898"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ نے 2027 تک ترجیحات کی عمومی اسکیم (جی ایس پی) کے قوانین رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور توقع ہے کہ یورپی کونسل جلد ہی موجودہ اسکیم کی توسیع کے لیے حتمی منظوری دے گی۔</p>
<p>پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر رینا کیونکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نگرانی وزیر تجارت کے اس بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رول اوور اس لیے تجویز کیا گیا ہے تاکہ 2023 کے اختتام پر کسی قسم کی رکاوٹ سے بچا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی کارکردگی یا کسی دوسرے فائدہ حاصل کرنے والے ملک کی کارکردگی سے متعلق نہیں ہے، رکن ممالک جلد فیصلہ کریں گے اور نگرانی جاری رہے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RKionka/status/1709977690260803676"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ میں پوری یورپی ٹیم کے ساتھ وزیر گوہر اعجاز اور حکومت پاکستان کے جی ایس پی پلس شرائط مکمل کرنے کے عزم کا بھرپور حمایت کرتی ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213095</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Oct 2023 22:46:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/05215942e6de182.jpg?r=220029" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/05215942e6de182.jpg?r=220029"/>
        <media:title>فواد حسن فواد نے عالمی بینک کے نمائندے سے ملاقات کی—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
