<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 14:30:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 14:30:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کے جی ایس پی پلس اسٹیس میں 4 سال کی توسیع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213125/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کے لیے موجودہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس (جی ایس پی) میں 2027 تک توسیع کے حق میں ووٹ دیا، جس کے تحت یہ ممالک یورپی منڈیوں میں بغیر یا کم ڈیوٹی پر اشیا برآمد کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1779621/gsp-status-extended-for-four-years"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے جاری بیان میں بتایا کہ یورپی یونین کونسل میں جون میں نئے قوانین پر مذاکرات معطل کرنے کے بعد پارلیمان میں جی ایس پی اور جی ایس پی پلس کی توسیع کے حق میں 561 ووٹ اور مخالفت میں 5 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 2 اراکین نے ووٹ نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں برس ستمبر میں یورپی یونین کی تجارتی کمیٹی ’آئی این ٹی اے‘ نے 60 ترقی پذیر ممالک کے لیے جی ایس پی اسکیم میں توسیع کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران وفاقی وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستانی برآمد کنندگان یقینی طور پر اپنی مصنوعات یورپی یونین کی منڈیوں میں فروخت کر سکیں گے، اور یورپ پاکستانی برآمد کنندگان کی بڑی منڈی ہے، مزید کہا کہ جی ایس پی کی تمام اسکیموں میں 4 سال کی توسیع کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Gohar_Ejaz1/status/1709916921263521898"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران وزیر کا کہنا تھا کہ میں اس موقع پر سب کی بہتری کے لیے اسکیم کے تحت پاکستان کے وعدوں کا اعادہ کرتا ہوں، مزید کہا کہ پاکستان تمام تر ذمہ داریوں اور یورپی یونین کی 27 کنونشنز پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی سفارتکار برائے پاکستان رینا کیونکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ 2023 کے اختتام پر اس میں توسیع کی تجویز دی گئی ہے، یہ پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی کارکردگی سے منسلک نہیں ہے، یورپی یونین ممالک جلد ہی فیصلہ کریں گے اور نگرانی جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RKionka/status/1709954643785093188"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور پوسٹ میں رینا کیونکا نے کہا کہ یورپی یونین کی ٹیم کے ساتھ میں نگران وزیر گوہر اعجاز اور حکومت پاکستان کی جی ایس پی پلس کی تمام ذمہ داریوں کا اعادہ کرنے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، وہ 27 کنونشنز پر عملدرآمد کا حوالہ دے رہی تھیں جس کا تعلق محنت، انسانی حقوق، سیاسی حقوق، آزادی صحافت سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RKionka/status/1709977690260803676"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ جی ایس پی قواعد رواں برس کے آخر میں ختم ہو رہے ہیں، نئے قوانین کی تشکیل کے لیے جنوری 2023 میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی کونسل کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں بات چیت روک دی گئی تھی کیونکہ پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی پوزیشن کے درمیان فرق تھا، جس کے نتیجے میں موجودہ قوانین میں توسیع کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈی ہوٹالا کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ کے مسودہ میں صرف تاریخ میں 31 دسمبر 2027 تک توسیع کی تبدیلی کی گئی ہے، اس کے بعد یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کے درمیان نئے قوانین پر اتفاق کے لیے زیادہ وقت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈی ہوٹالا نے پلینری کے دوران بتایا کہ اس طوالت اور توسیع کے ساتھ تیزی سے اور مؤثر طریقے سے نمٹتے ہوئے پارلیمنٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ وہ فائدہ اٹھانے والوں کو مایوس نہیں ہونے دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جی ایس پی قواعد کی جاری نظر ثانی پر کونسل اور پارلیمان کے درمیان اتفاق تک نہ پہنچنا توسیع کا نتیجہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ 2 اہم مسائل ہیں، کونسل ٹیرف کی ترجیحات اور ذمہ داری کے درمیان ربط چاہتی ہے، اور دوسرا چاول کے پروڈیوسرز کو ضرورت سے زیادہ تجارتی رکاوٹیں پیدا کیے بغیر تحفظ فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کے لیے موجودہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس (جی ایس پی) میں 2027 تک توسیع کے حق میں ووٹ دیا، جس کے تحت یہ ممالک یورپی منڈیوں میں بغیر یا کم ڈیوٹی پر اشیا برآمد کر سکیں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1779621/gsp-status-extended-for-four-years"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے جاری بیان میں بتایا کہ یورپی یونین کونسل میں جون میں نئے قوانین پر مذاکرات معطل کرنے کے بعد پارلیمان میں جی ایس پی اور جی ایس پی پلس کی توسیع کے حق میں 561 ووٹ اور مخالفت میں 5 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 2 اراکین نے ووٹ نہیں دیا۔</p>
<p>رواں برس ستمبر میں یورپی یونین کی تجارتی کمیٹی ’آئی این ٹی اے‘ نے 60 ترقی پذیر ممالک کے لیے جی ایس پی اسکیم میں توسیع کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>نگران وفاقی وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستانی برآمد کنندگان یقینی طور پر اپنی مصنوعات یورپی یونین کی منڈیوں میں فروخت کر سکیں گے، اور یورپ پاکستانی برآمد کنندگان کی بڑی منڈی ہے، مزید کہا کہ جی ایس پی کی تمام اسکیموں میں 4 سال کی توسیع کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Gohar_Ejaz1/status/1709916921263521898"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>نگران وزیر کا کہنا تھا کہ میں اس موقع پر سب کی بہتری کے لیے اسکیم کے تحت پاکستان کے وعدوں کا اعادہ کرتا ہوں، مزید کہا کہ پاکستان تمام تر ذمہ داریوں اور یورپی یونین کی 27 کنونشنز پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرے گا۔</p>
<p>یورپی یونین کی سفارتکار برائے پاکستان رینا کیونکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ 2023 کے اختتام پر اس میں توسیع کی تجویز دی گئی ہے، یہ پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی کارکردگی سے منسلک نہیں ہے، یورپی یونین ممالک جلد ہی فیصلہ کریں گے اور نگرانی جاری رکھیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RKionka/status/1709954643785093188"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور پوسٹ میں رینا کیونکا نے کہا کہ یورپی یونین کی ٹیم کے ساتھ میں نگران وزیر گوہر اعجاز اور حکومت پاکستان کی جی ایس پی پلس کی تمام ذمہ داریوں کا اعادہ کرنے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، وہ 27 کنونشنز پر عملدرآمد کا حوالہ دے رہی تھیں جس کا تعلق محنت، انسانی حقوق، سیاسی حقوق، آزادی صحافت سے ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RKionka/status/1709977690260803676"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ جی ایس پی قواعد رواں برس کے آخر میں ختم ہو رہے ہیں، نئے قوانین کی تشکیل کے لیے جنوری 2023 میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی کونسل کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔</p>
<p>جون میں بات چیت روک دی گئی تھی کیونکہ پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی پوزیشن کے درمیان فرق تھا، جس کے نتیجے میں موجودہ قوانین میں توسیع کی گئی۔</p>
<p>ہیڈی ہوٹالا کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ کے مسودہ میں صرف تاریخ میں 31 دسمبر 2027 تک توسیع کی تبدیلی کی گئی ہے، اس کے بعد یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کے درمیان نئے قوانین پر اتفاق کے لیے زیادہ وقت ہوگا۔</p>
<p>ہیڈی ہوٹالا نے پلینری کے دوران بتایا کہ اس طوالت اور توسیع کے ساتھ تیزی سے اور مؤثر طریقے سے نمٹتے ہوئے پارلیمنٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ وہ فائدہ اٹھانے والوں کو مایوس نہیں ہونے دے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جی ایس پی قواعد کی جاری نظر ثانی پر کونسل اور پارلیمان کے درمیان اتفاق تک نہ پہنچنا توسیع کا نتیجہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ 2 اہم مسائل ہیں، کونسل ٹیرف کی ترجیحات اور ذمہ داری کے درمیان ربط چاہتی ہے، اور دوسرا چاول کے پروڈیوسرز کو ضرورت سے زیادہ تجارتی رکاوٹیں پیدا کیے بغیر تحفظ فراہم کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213125</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Oct 2023 14:22:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/06112302b11884e.jpg?r=112326" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/06112302b11884e.jpg?r=112326"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/061123187bfe46f.jpg?r=142255" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/061123187bfe46f.jpg?r=142255"/>
        <media:title>رینا کیونکا نے کہا کہ یورپی یونین کی ٹیم کے ساتھ میں نگران وزیر گوہر اعجاز اور حکومت پاکستان کی جی ایس پی پلس کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا اعادہ کرنے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
