<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:37:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:37:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکس (ٹوئٹر) میں نئی تبدیلی، لنکس کے ساتھ ہیڈلائن نظر نہیں آئے گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213268/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایلون مسک نے ایکس (ٹوئٹر) میں تبدیلی کی ہے جس سے کچھ لوگوں بالخصوص میڈیا اداروں کو پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے، کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اب خبر کے لنک کو پوسٹ کرنے پر اس کی ہیڈلائن نظر نہیں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورائٹی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://variety.com/2023/digital/news/x-twitter-removes-headlines-from-articles-musk-esthetics-1235745719/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پوسٹ میں لنک سے ہیڈ لائن ہٹانے کے فیچر پر اگست سے کام کیا جا رہا تھا اور اب اس پر عمل کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22 اگست کو ایکس کے مالک ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ’لنک سے ہیڈلائن ہٹانے پر کام میری ہدایت پر کیا جا رہا ہے جس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم زیادہ بہتر نظر آنے لگے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک کی جانب سے تبدیلی کے بعد اب ایکس پر شیئر کیے گئے لنکس آرٹیکل میں شامل تصویر کے طور پر نظر آئیں گے، یعنی مذکورہ لنک پر کوئی ٹیکسٹ یا ہیڈلائن نظر نہیں آئے گی بلکہ صرف تصویر نظر آئے گی اور یہ تصویر پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی جانے والی دیگر عام تصاویر کی طرح دکھائی دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصویر کے بائیں کونے کے ساتھ ویب سائٹ ڈومین لکھا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی  آئی او ایس اور ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے کی گئی، تاہم یہ تبدیلی اشتہار والے لنکس پر لاگو نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کے بعد میڈیا کمپنیوں اور پبلشرز کے لیے مواد ایکس پر شیئر کرنے میں مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے یا ان کے طریقوں میں تبدیلی آسکتی ہے کیونکہ تصویر کے نیچے ہیڈلائن کے ظاہر نہ ہونے پر پوسٹ میں سیاق و سباق کی کمی ہوگی، جب تک پوسٹ میں ہیڈلائن شامل نہیں ہوگی تب تک صارفین کو معلوم نہیں ہوسکے گا کہ یہ لنک ہے یا صرف تصویر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایکس پر اب بھی کئی صارفین کو لنک کے ساتھ ہیڈلائن نظر آرہی ہے، یہ اس لیے ہوسکتا ہے کیونکہ یہ صارفین ایکس کا پرانا ورژن استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ایک سال قبل ایلون مسک کی جانب سے کمپنی خریدنے کے بعد پلیٹ فارم پر کئی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں خبر رساں اداروں کے خلاف کی جانب والی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/xDaily/status/1693813181133553795"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک کی جانب سے نئی تبدیلی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگا کہ کونسی تصویر خبر کا لنک ہے  اور کونسی عام سی تصویر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے ایلون مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ روایتی خبروں کو شاذ و نادر ہی پڑھتے ہیں، ایکس کے الگورتھم کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ایسے مواد کو دکھاتا ہے جس کے تحت لوگ زیادہ دیر تک پلیٹ فارم استعمال کرتے رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ اس پلیٹ فارم پر طویل مواد پوسٹ کرنا سب سے بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1709249243196580323"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایلون مسک نے ایکس (ٹوئٹر) میں تبدیلی کی ہے جس سے کچھ لوگوں بالخصوص میڈیا اداروں کو پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے، کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اب خبر کے لنک کو پوسٹ کرنے پر اس کی ہیڈلائن نظر نہیں آئے گی۔</p>
<p>ورائٹی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://variety.com/2023/digital/news/x-twitter-removes-headlines-from-articles-musk-esthetics-1235745719/">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پوسٹ میں لنک سے ہیڈ لائن ہٹانے کے فیچر پر اگست سے کام کیا جا رہا تھا اور اب اس پر عمل کیا جاچکا ہے۔</p>
<p>22 اگست کو ایکس کے مالک ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ’لنک سے ہیڈلائن ہٹانے پر کام میری ہدایت پر کیا جا رہا ہے جس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم زیادہ بہتر نظر آنے لگے گا۔‘</p>
<p>ایلون مسک کی جانب سے تبدیلی کے بعد اب ایکس پر شیئر کیے گئے لنکس آرٹیکل میں شامل تصویر کے طور پر نظر آئیں گے، یعنی مذکورہ لنک پر کوئی ٹیکسٹ یا ہیڈلائن نظر نہیں آئے گی بلکہ صرف تصویر نظر آئے گی اور یہ تصویر پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی جانے والی دیگر عام تصاویر کی طرح دکھائی دے گی۔</p>
<p>تصویر کے بائیں کونے کے ساتھ ویب سائٹ ڈومین لکھا ہوگا۔</p>
<p>یہ تبدیلی  آئی او ایس اور ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے کی گئی، تاہم یہ تبدیلی اشتہار والے لنکس پر لاگو نہیں ہوگی۔</p>
<p>اس تبدیلی کے بعد میڈیا کمپنیوں اور پبلشرز کے لیے مواد ایکس پر شیئر کرنے میں مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے یا ان کے طریقوں میں تبدیلی آسکتی ہے کیونکہ تصویر کے نیچے ہیڈلائن کے ظاہر نہ ہونے پر پوسٹ میں سیاق و سباق کی کمی ہوگی، جب تک پوسٹ میں ہیڈلائن شامل نہیں ہوگی تب تک صارفین کو معلوم نہیں ہوسکے گا کہ یہ لنک ہے یا صرف تصویر۔</p>
<p>تاہم ایکس پر اب بھی کئی صارفین کو لنک کے ساتھ ہیڈلائن نظر آرہی ہے، یہ اس لیے ہوسکتا ہے کیونکہ یہ صارفین ایکس کا پرانا ورژن استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>تقریباً ایک سال قبل ایلون مسک کی جانب سے کمپنی خریدنے کے بعد پلیٹ فارم پر کئی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں خبر رساں اداروں کے خلاف کی جانب والی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/xDaily/status/1693813181133553795"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایلون مسک کی جانب سے نئی تبدیلی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگا کہ کونسی تصویر خبر کا لنک ہے  اور کونسی عام سی تصویر ہے۔</p>
<p>اس ہفتے ایلون مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ روایتی خبروں کو شاذ و نادر ہی پڑھتے ہیں، ایکس کے الگورتھم کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ایسے مواد کو دکھاتا ہے جس کے تحت لوگ زیادہ دیر تک پلیٹ فارم استعمال کرتے رہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ اس پلیٹ فارم پر طویل مواد پوسٹ کرنا سب سے بہتر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/elonmusk/status/1709249243196580323"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213268</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Oct 2023 17:07:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/08144347460daf3.jpg?r=170734" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/08144347460daf3.jpg?r=170734"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
