<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:47:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:47:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیپلز پارٹی کا الیکشن رولز میں مجوزہ تبدیلیوں میں ’بے ضابطگیاں‘ ختم کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213273/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن رولز 2017 میں مجوزہ تبدیلیوں پر اعتراضات دائر کرنے کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی اخراجات سے متعلق نئی شرط پر  الیکشن کمیشن آف پاکستان کو  اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1779941/ppp-asks-ecp-to-remove-anomalies-in-proposed-changes-to-election-rules"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  الیکشن کمیشن نے 22 ستمبر کو مجوزہ ترامیم شائع کی تھیں اور 7 اکتوبر تک سیاسی جماعتوں سے اس پر تجاویز طلب کیں اور  اپنے اعتراضات سے آگاہ کرنے کا کہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حامد خان کو  ارسال کردہ اپنے ایک خط میں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے مجوزہ فارم 68 میں متعارف کرائے جانے والی اس شرط پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو مجموعی انتخابی اخراجات فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ترامیم میں ’تضاد‘ کی نشاندہی کرتے ہوئے نیئر بخاری نے نوٹ کیا کہ ایک طرف مجوزہ رولز سیاسی جماعتوں کے لیے نتائج کے اعلان کے بعد انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع کرانے کے لیے 60 روز کی حد مقرر کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف مجوزہ فارم 68 کے مطابق جیتنے والے امیدواروں کو پولنگ کے دن سے 10 روز کے اندر وہی تفصیلات فراہم کرنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیئر بخاری نے لکھا کہ یہ متضاد اور ناممکن بات ہے جب کہ مقابلہ کرنے والے امیدوار وہ معلومات فراہم نہیں کر سکتے جب تک کہ ان کی اپنی جماعتوں کی جانب سے وہ معلومات فراہم نہیں کردی جاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ وہ فارم 68 میں اس کالم کو حذف کرے جس میں  پارٹی کی جانب سے مہم پر کیے جانے والے انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 211 کے تحت سیاسی جماعت ان لوگوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کرے گی جنہوں نے سیاسی جماعت کو اس کی انتخابی مہم کے لیے ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کا عطیہ دیا اور اس کی جانب سے جنرل الیکشن کے دوران کیے گئے انتخابی اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، الیکشن کمشین کے ایک سینئر عہدیدار نے رابطہ کرنے پر وضاحت کی کہ امیدواروں کو رولز میں مجوزہ ترمیم کے تحت ان کی متعلقہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم کے لیے فراہم کردہ فنڈز کی تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی، امیدوار کو مجموعی طور پر پارٹی کی مالیاتی تفصیلات فراہم نہیں کرنی ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن رولز 2017 میں مجوزہ تبدیلیوں پر اعتراضات دائر کرنے کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی اخراجات سے متعلق نئی شرط پر  الیکشن کمیشن آف پاکستان کو  اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1779941/ppp-asks-ecp-to-remove-anomalies-in-proposed-changes-to-election-rules">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  الیکشن کمیشن نے 22 ستمبر کو مجوزہ ترامیم شائع کی تھیں اور 7 اکتوبر تک سیاسی جماعتوں سے اس پر تجاویز طلب کیں اور  اپنے اعتراضات سے آگاہ کرنے کا کہا تھا۔</p>
<p>ہفتے کے روز سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حامد خان کو  ارسال کردہ اپنے ایک خط میں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے مجوزہ فارم 68 میں متعارف کرائے جانے والی اس شرط پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو مجموعی انتخابی اخراجات فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔</p>
<p>مجوزہ ترامیم میں ’تضاد‘ کی نشاندہی کرتے ہوئے نیئر بخاری نے نوٹ کیا کہ ایک طرف مجوزہ رولز سیاسی جماعتوں کے لیے نتائج کے اعلان کے بعد انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع کرانے کے لیے 60 روز کی حد مقرر کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف مجوزہ فارم 68 کے مطابق جیتنے والے امیدواروں کو پولنگ کے دن سے 10 روز کے اندر وہی تفصیلات فراہم کرنی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیئر بخاری نے لکھا کہ یہ متضاد اور ناممکن بات ہے جب کہ مقابلہ کرنے والے امیدوار وہ معلومات فراہم نہیں کر سکتے جب تک کہ ان کی اپنی جماعتوں کی جانب سے وہ معلومات فراہم نہیں کردی جاتیں۔</p>
<p>انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ وہ فارم 68 میں اس کالم کو حذف کرے جس میں  پارٹی کی جانب سے مہم پر کیے جانے والے انتخابی اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔</p>
<p>الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 211 کے تحت سیاسی جماعت ان لوگوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کرے گی جنہوں نے سیاسی جماعت کو اس کی انتخابی مہم کے لیے ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کا عطیہ دیا اور اس کی جانب سے جنرل الیکشن کے دوران کیے گئے انتخابی اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کرے گی۔</p>
<p>تاہم، الیکشن کمشین کے ایک سینئر عہدیدار نے رابطہ کرنے پر وضاحت کی کہ امیدواروں کو رولز میں مجوزہ ترمیم کے تحت ان کی متعلقہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم کے لیے فراہم کردہ فنڈز کی تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی، امیدوار کو مجموعی طور پر پارٹی کی مالیاتی تفصیلات فراہم نہیں کرنی ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213273</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Oct 2023 18:00:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/08154846ab4a0b2.png?r=154930" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/08154846ab4a0b2.png?r=154930"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/081549533cf2ddb.jpg?r=180031" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/081549533cf2ddb.jpg?r=180031"/>
        <media:title>سیکرٹری الیکشن کمیشن کو ارسال خط میں نیئربخاری نے متعارف نئی شرط پر سخت تشویش کا اظہار کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
