<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 08:12:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 08:12:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصر محصور غزہ سے فلسطینیوں کا ملک میں داخلہ روکنے کیلئے متحرک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213436/</link>
      <description>&lt;p&gt;مصر غزہ کی پٹی سے اپنے جزیرہ نما خطے سینائی میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی آمد روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خبر کے مطابق یہ بات غزہ کے حکام اور مصری سیکیورٹی ذرائع نے بتائی جب کہ  اسرائیلی بمباری کی وجہ سے فلسطین کے زیر محاصرہ علاقے سے نکلنے والے اہم کراسنگ پوائنٹس بند ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر کے دو سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ غزہ پر اسرائیل کے حملے نے مصر میں خطرے کی گھنٹی بجادی ہے جب کہ اس اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ سے شہریوں کو جنوب مغرب میں واقع سینائی جزیرے کی جانب  بھاگنے پر مجبور کرنے کے بجائے محفوظ راستہ فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصری صدر عبدالفتح السیسی نے کہا کہ غزہ میں بڑھتی کشیدگی ’انتہائی خطرناک‘ ہے، انہوں نے کہا کہ مصر علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تشدد کے خاتمے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213433"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالفتاح السیسی  نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مینا‘ کی جانب سے رپورٹ کیے گئے بیان میں فلسطینیوں کو سینائی کی جانب دھکیلنے کے خطرے کا واضح حوالہ  دیتے ہوئے  کہا  مصر اس تنازع کو دوسروں کی قیمت پر طے کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ مصری فوجی طیاروں نے رات بھر پروازیں جاری رکھیں جس کے بعد بدھ کی صبح رفح بارڈر کراسنگ بند رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینا فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس کے احمد سالم نے کہا کہ فوج نے سرحد کے قریب نئی چوکیاں بھی سنبھال لی ہیں جہاں سے علاقے کی نگرانی کے لیے گشت کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Sinaifhr/status/1711723120648745276"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے 23 لاکھ باشندوں کے لیے رفح واحد ممکنہ کراسنگ پوائنٹ ہے جب کہ باقی گنجان آباد غزہ سمندر سے گھرا ہوا ہے اور غزہ کا مکمل محاصرہ کرنے والے اسرائیل نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ زمینی حملہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر اور اسرائیل کی جانب سے نافذ کردہ ناکہ بندی کے تحت غزہ کے اندر آنے اور وہاں سے باہر جانے والے لوگوں اور سامان کی آمدورفت کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیے جانے کے بعد سے اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ اپنے تنازعے کی 75 سالہ تاریخ میں غزہ پر شدید ترین حملے کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے والا پہلا عرب ملک ہے،اس نے غزہ میں گزشتہ تنازعات کے دوران اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور موجودہ جھڑپوں میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے زیر انتظام وزارت داخلہ نے کہا کہ پیر اور منگل کے روز ہونے والی بمباری میں رفح کراسنگ پر فلسطینی جانب داخلی دروازے کو نشانہ بنایا،  مصری ذرائع نے بتایا کہ کراسنگ کو مصر کی جانب سے بھی بند کر دیا گیا ہے  اور غزہ جانے کی منصوبہ بندی کرنے والے فلسطینی شمالی سینائی کے مرکزی شہر العریش کی طرف چلے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مصر غزہ کی پٹی سے اپنے جزیرہ نما خطے سینائی میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی آمد روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خبر کے مطابق یہ بات غزہ کے حکام اور مصری سیکیورٹی ذرائع نے بتائی جب کہ  اسرائیلی بمباری کی وجہ سے فلسطین کے زیر محاصرہ علاقے سے نکلنے والے اہم کراسنگ پوائنٹس بند ہوگئے۔</p>
<p>مصر کے دو سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ غزہ پر اسرائیل کے حملے نے مصر میں خطرے کی گھنٹی بجادی ہے جب کہ اس اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ سے شہریوں کو جنوب مغرب میں واقع سینائی جزیرے کی جانب  بھاگنے پر مجبور کرنے کے بجائے محفوظ راستہ فراہم کرے۔</p>
<p>مصری صدر عبدالفتح السیسی نے کہا کہ غزہ میں بڑھتی کشیدگی ’انتہائی خطرناک‘ ہے، انہوں نے کہا کہ مصر علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تشدد کے خاتمے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213433"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عبدالفتاح السیسی  نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مینا‘ کی جانب سے رپورٹ کیے گئے بیان میں فلسطینیوں کو سینائی کی جانب دھکیلنے کے خطرے کا واضح حوالہ  دیتے ہوئے  کہا  مصر اس تنازع کو دوسروں کی قیمت پر طے کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔</p>
<p>سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ مصری فوجی طیاروں نے رات بھر پروازیں جاری رکھیں جس کے بعد بدھ کی صبح رفح بارڈر کراسنگ بند رہی۔</p>
<p>سینا فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس کے احمد سالم نے کہا کہ فوج نے سرحد کے قریب نئی چوکیاں بھی سنبھال لی ہیں جہاں سے علاقے کی نگرانی کے لیے گشت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Sinaifhr/status/1711723120648745276"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>غزہ کے 23 لاکھ باشندوں کے لیے رفح واحد ممکنہ کراسنگ پوائنٹ ہے جب کہ باقی گنجان آباد غزہ سمندر سے گھرا ہوا ہے اور غزہ کا مکمل محاصرہ کرنے والے اسرائیل نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ زمینی حملہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>مصر اور اسرائیل کی جانب سے نافذ کردہ ناکہ بندی کے تحت غزہ کے اندر آنے اور وہاں سے باہر جانے والے لوگوں اور سامان کی آمدورفت کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ہفتے کے روز حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیے جانے کے بعد سے اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ اپنے تنازعے کی 75 سالہ تاریخ میں غزہ پر شدید ترین حملے کر رہا ہے۔</p>
<p>مصر اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے والا پہلا عرب ملک ہے،اس نے غزہ میں گزشتہ تنازعات کے دوران اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور موجودہ جھڑپوں میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا ہے۔</p>
<p>حماس کے زیر انتظام وزارت داخلہ نے کہا کہ پیر اور منگل کے روز ہونے والی بمباری میں رفح کراسنگ پر فلسطینی جانب داخلی دروازے کو نشانہ بنایا،  مصری ذرائع نے بتایا کہ کراسنگ کو مصر کی جانب سے بھی بند کر دیا گیا ہے  اور غزہ جانے کی منصوبہ بندی کرنے والے فلسطینی شمالی سینائی کے مرکزی شہر العریش کی طرف چلے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213436</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Oct 2023 16:26:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/11160006c468997.jpg?r=160037" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/11160006c468997.jpg?r=160037"/>
        <media:title>غزہ کے 23 لاکھ باشندوں کے لیے رفح واحد ممکنہ کراسنگ پوائنٹ ہے—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
