<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 09:04:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 09:04:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمندر میں غرق ہونے والی ’ٹائٹن‘ آبدوز کا مزید ملبہ اور انسانی باقیات ملنے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213495/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی کوسٹ گارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ 19 جون کو ٹائٹینک جہاز کے ملبے کو دیکھنے کے لیے جانے والی آبدوز کا مزید ملبہ اور مبینہ طور پر انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق 19 جون 2023 کو ٹائٹن نامی تفریحی آبدوز بحرِ اوقیانوس میں 3800 میٹر گہرائی میں موجود تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر پر روانہ ہوئی تھی لیکن سفر کے آغاز کے پونے دو گھنٹے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;21 فٹ کی چھوٹی آبدوز کی تلاش کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ نے ریسکیو آپریشن شروع کیا جو 5 روز تک جاری رہا، پانچ روز بعد امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ لاپتا آبدوز ٹائٹن کی تلاش کے دوران سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے قریب سے کچھ ملبہ ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد آبدوز کی مالک کمپنی اوشن گیٹ نے اس میں سوار 2 پاکستانیوں سمیت پانچوں افراد کی موت کی تصدیق کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد امریکی کوسٹ گارڈ نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا جسے میرین بورڈ آف انویسٹی گیشن کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کوسٹ گارڈ نے 4 اکتوبر کو اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ ’میرین بورڈ آف انویسٹی گیشن کے میرین سیفٹی انجینئرز نے شمالی بحر اوقیانوس کے سمندری تہہ سے ٹائٹن آبدوز کا مزید ملبہ برآمد کیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ٹائٹن کے ملبے سے مزید انسانی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں تجزیے کے لیے امریکی طبی ماہرین کو بھجوا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جس ماہ یہ حادثہ پیش آیا اس مہینے کے آخر میں بھی ٹائٹن آبدوز کا ملبہ اور کچھ انسانی باقیات برآمد ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ وہ یو ایس نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ دیگر بین الاقوامی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ  ٹائٹن کے ملبے سے ملنے والے شواہد کا جائزہ لیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/121410308974cbd.jpg'  alt='فائل فوٹو: انسٹاگرام' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آبدوز-میں-کون-کون-سوار-تھا" href="#آبدوز-میں-کون-کون-سوار-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آبدوز میں کون کون سوار تھا؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز میں اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ اوشیئن گیٹ کمپنی کے مالک اسٹاکٹن رش کو ٹائٹن آبدوز سے متعلق متعدد بار خدشات سے آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے ان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز میں موجود ہُل (hull) ایسا حصہ ہے جہاں مسافر بیٹھتے ہیں، جو کاربن فائبر سے بنایا گیا تھا جس کے ایک سرے پر ٹائٹینیم کی پلیٹیں موجود ہیں اور دوسری جانب ایک چھوٹی کھڑکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورٹسماؤتھ یونیورسٹی میں میرین بائیولوجی کے لیکچرار ڈاکٹر نکولائی روٹرڈیم کہتے ہیں کہ عام طور پر ٹائٹینیم کا دائرہ 2 میٹر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری کی گہرائی کو برداشت کرنے کے لیے آپ کو انتہائی مضبوط مواد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پانی کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائٹینیم یا اسٹیل کے مقابلے کاربن فائبر کے استعمال میں لاگت کم آتی ہے لیکن یہ ٹائٹن جیسے گہرے سمندری آبدوزوں کے لیے ناتجربہ کار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-67073535"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی وقت اس واقعے سے متعلق عوامی سماعت کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی کوسٹ گارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ 19 جون کو ٹائٹینک جہاز کے ملبے کو دیکھنے کے لیے جانے والی آبدوز کا مزید ملبہ اور مبینہ طور پر انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق 19 جون 2023 کو ٹائٹن نامی تفریحی آبدوز بحرِ اوقیانوس میں 3800 میٹر گہرائی میں موجود تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر پر روانہ ہوئی تھی لیکن سفر کے آغاز کے پونے دو گھنٹے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود تھی۔</p>
<p>21 فٹ کی چھوٹی آبدوز کی تلاش کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ نے ریسکیو آپریشن شروع کیا جو 5 روز تک جاری رہا، پانچ روز بعد امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ لاپتا آبدوز ٹائٹن کی تلاش کے دوران سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے قریب سے کچھ ملبہ ملا ہے۔</p>
<p>جس کے بعد آبدوز کی مالک کمپنی اوشن گیٹ نے اس میں سوار 2 پاکستانیوں سمیت پانچوں افراد کی موت کی تصدیق کردی تھی۔</p>
<p>واقعے کے بعد امریکی کوسٹ گارڈ نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا جسے میرین بورڈ آف انویسٹی گیشن کہا جاتا ہے۔</p>
<p>امریکی کوسٹ گارڈ نے 4 اکتوبر کو اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ ’میرین بورڈ آف انویسٹی گیشن کے میرین سیفٹی انجینئرز نے شمالی بحر اوقیانوس کے سمندری تہہ سے ٹائٹن آبدوز کا مزید ملبہ برآمد کیا ہے۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ٹائٹن کے ملبے سے مزید انسانی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں تجزیے کے لیے امریکی طبی ماہرین کو بھجوا دیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جس ماہ یہ حادثہ پیش آیا اس مہینے کے آخر میں بھی ٹائٹن آبدوز کا ملبہ اور کچھ انسانی باقیات برآمد ہوئی تھیں۔</p>
<p>امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ وہ یو ایس نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ دیگر بین الاقوامی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ  ٹائٹن کے ملبے سے ملنے والے شواہد کا جائزہ لیا جاسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/121410308974cbd.jpg'  alt='فائل فوٹو: انسٹاگرام' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: انسٹاگرام</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="آبدوز-میں-کون-کون-سوار-تھا" href="#آبدوز-میں-کون-کون-سوار-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آبدوز میں کون کون سوار تھا؟</h3>
<p>یہ ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔</p>
<p>آبدوز میں اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش سوار تھے۔</p>
<p>یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ اوشیئن گیٹ کمپنی کے مالک اسٹاکٹن رش کو ٹائٹن آبدوز سے متعلق متعدد بار خدشات سے آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے ان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کر دیا تھا۔</p>
<p>آبدوز میں موجود ہُل (hull) ایسا حصہ ہے جہاں مسافر بیٹھتے ہیں، جو کاربن فائبر سے بنایا گیا تھا جس کے ایک سرے پر ٹائٹینیم کی پلیٹیں موجود ہیں اور دوسری جانب ایک چھوٹی کھڑکی ہے۔</p>
<p>پورٹسماؤتھ یونیورسٹی میں میرین بائیولوجی کے لیکچرار ڈاکٹر نکولائی روٹرڈیم کہتے ہیں کہ عام طور پر ٹائٹینیم کا دائرہ 2 میٹر ہوتا ہے۔</p>
<p>سمندری کی گہرائی کو برداشت کرنے کے لیے آپ کو انتہائی مضبوط مواد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پانی کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔</p>
<p>ٹائٹینیم یا اسٹیل کے مقابلے کاربن فائبر کے استعمال میں لاگت کم آتی ہے لیکن یہ ٹائٹن جیسے گہرے سمندری آبدوزوں کے لیے ناتجربہ کار ہے۔</p>
<p>بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-67073535">رپورٹ</a></strong> کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی وقت اس واقعے سے متعلق عوامی سماعت کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213495</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Oct 2023 16:22:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/12140721adeacfd.jpg?r=162216" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/12140721adeacfd.jpg?r=162216"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
