<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 13:42:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 13:42:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوبارہ کھلنے والے سیکڑوں کیسز سے نمٹنے کیلئے آرمی افسران نیب میں تعینات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213615/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) میں حاضر سروس فوجی افسران کی تعیناتی کا عمل 4 افسران کو شامل کرنے کے ساتھ بحال ہو گیا ہے، کیونکہ ادارے میں کام کا اضافی بوجھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1780998/army-officers-inducted-into-nab-to-deal-with-added-caseload"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق نیب کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کے اہم عہدوں پر تعیناتیاں چند روز قبل کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 10 اکتوبر کو جاری نوٹی فکیشن کے مطابق بریگیڈئیر محمد خالد (انفینٹری) کا بطور ڈائریکٹر (20 گریڈ) تقرر کیا گیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ کرنل ندیم مظفر (انٹیلی جنس اسٹاف کالج) کو بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر (19 گریڈ)، میجر وحید خالد (ملٹری انٹیلی جنس) کو بطور ڈپٹی ڈائریکٹر (18 گریڈ) اور میجر قیس کامران سید (ایم آئی) کو بھی ڈپٹی ڈائریکٹر (18 گریڈ) کے عہدے پر ڈیپورٹیشن پر تعینات کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ افسران مزید احکامات تک نیب میں کام کرتے رہیں گے، نیب میں ایک ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ طور پر مزید آرمی افسران کو ادارے میں شامل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابقہ پی ڈی ایم کی حکومت میں نیب قانون میں ترامیم کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے بعد 1800 سے زائد کیسز &lt;a href="https://"&gt;بحال&lt;/a&gt; ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو میں اتنے افسران نہیں ہیں، جو کیسز کا بوجھ سنبھال سکیں، جبکہ گزشتہ 10 مہینوں کے دوران نیب کے 30 سے زائد افسران پہلے ہی ڈیپوٹیشن پر دیگر محکموں میں بھیجے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیپوٹیشن پر نیب میں تعینات افسران کی روانگی کے بعد فرانزک آڈٹ، تحقیقات اور ٹیکس کے معاملات کے لیے افسران کی ضرورت ہے، نیب کے انٹیلی جنس اینڈ ویجی لینس سیل (آئی وی سی)  کی سربراہی پہلے ایک حاضر سروس انٹیلی جنس افسر کے پاس تھی، لیکن حکومت کی جانب سے نیب  کے اختیارات محدود کرنے کے بعد متعدد افسران جو ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے تھے انہیں واپس ان کے محکموں میں بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی احتساب بیورو (نیب) میں حاضر سروس فوجی افسران کی تعیناتی کا عمل 4 افسران کو شامل کرنے کے ساتھ بحال ہو گیا ہے، کیونکہ ادارے میں کام کا اضافی بوجھ ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1780998/army-officers-inducted-into-nab-to-deal-with-added-caseload"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق نیب کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کے اہم عہدوں پر تعیناتیاں چند روز قبل کی گئیں۔</p>
<p>اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 10 اکتوبر کو جاری نوٹی فکیشن کے مطابق بریگیڈئیر محمد خالد (انفینٹری) کا بطور ڈائریکٹر (20 گریڈ) تقرر کیا گیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ کرنل ندیم مظفر (انٹیلی جنس اسٹاف کالج) کو بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر (19 گریڈ)، میجر وحید خالد (ملٹری انٹیلی جنس) کو بطور ڈپٹی ڈائریکٹر (18 گریڈ) اور میجر قیس کامران سید (ایم آئی) کو بھی ڈپٹی ڈائریکٹر (18 گریڈ) کے عہدے پر ڈیپورٹیشن پر تعینات کیا گیا ہے۔</p>
<p>نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ افسران مزید احکامات تک نیب میں کام کرتے رہیں گے، نیب میں ایک ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ طور پر مزید آرمی افسران کو ادارے میں شامل کیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سابقہ پی ڈی ایم کی حکومت میں نیب قانون میں ترامیم کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے بعد 1800 سے زائد کیسز <a href="https://">بحال</a> ہو چکے ہیں۔</p>
<p>ایک ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو میں اتنے افسران نہیں ہیں، جو کیسز کا بوجھ سنبھال سکیں، جبکہ گزشتہ 10 مہینوں کے دوران نیب کے 30 سے زائد افسران پہلے ہی ڈیپوٹیشن پر دیگر محکموں میں بھیجے جا چکے ہیں۔</p>
<p>ڈیپوٹیشن پر نیب میں تعینات افسران کی روانگی کے بعد فرانزک آڈٹ، تحقیقات اور ٹیکس کے معاملات کے لیے افسران کی ضرورت ہے، نیب کے انٹیلی جنس اینڈ ویجی لینس سیل (آئی وی سی)  کی سربراہی پہلے ایک حاضر سروس انٹیلی جنس افسر کے پاس تھی، لیکن حکومت کی جانب سے نیب  کے اختیارات محدود کرنے کے بعد متعدد افسران جو ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے تھے انہیں واپس ان کے محکموں میں بھیج دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213615</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Oct 2023 12:02:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید عرفان رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/141158296604bf2.jpg?r=120115" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/141158296604bf2.jpg?r=120115"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: بشکریہ قومی احتساب بیورو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
