<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:46:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:46:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں مسلسل تیسرے مہینے کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213875/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات میں مسلسل تیسرے مہینے کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ اور نقدیت کے مسائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1781974/textile-exports-contract-for-third-month-in-a-row"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ پاکستان ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات 9.95 فیصد گھٹ کر 4 ارب 12 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 4  ارب 58 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات 10.88 فیصد تنزلی کے بعد ایک ارب 36 کروڑ ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ برس اسی مہینے ایک ارب 52 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ حکومت جلد ہی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو توانائی کی علاقائی مسابقتی قیمتیں فراہم کرے گی اور زیر التوا ٹیکس ریفنڈز ادا کرکے نقدیت کے مسائل کو حل کرے گی، تاہم اس فیصلے پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات مالی سال 2023 میں 14.63 فیصد گھٹ کر 16 ارب 50 کروڑ ڈالر رہ گئی تھیں، جبکہ اشیا کی کُل برآمدات 12.71 فیصد تنزلی سے 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہ گئی تھی، جو اس سے گزشتہ قبل 31 ارب 78 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی تا ستمبر کے دوران تیار ملبوسات کی برآمدات بالحاظ قدر 11.21 فیصد سکڑیں تاہم مقدار کے حساب سے 8.24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نٹ ویئر کی برآمدات مالیت کے حساب سے 15.83 فیصد کم ہوئیں تاہم مقدار میں 34.14 فیصد کا اضافہ ہوا، اسی طرح بیڈویئر کی برآمدات بالحاظ قدر 10.02 فیصد منفی اور بالحاظ مقدار 1.39 فیصد بڑھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تولیے کی برآمدات میں بالحاظ قدر 2.89 فیصد کا معمولی اور بالحاظ مقدار 116.24 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ سوتی کپڑے کی مالیت کے حساب سے برآمدات میں 18.15 فیصد اور بالحاظ مقدار 12.14 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ مدت کے دوران خام روئی اور یارن کی برآمدات میں بالترتیب 12 فیصد اور 33.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات (بغیر تولیہ) میں 5.40  فیصد کی تنزلی دیکھی گئی، اسی طرح جولائی تا اگست 2023 کے دوران خیمے، کینوس اور ترپال کی برآمدات جولائی تا ستمبر کے دوران سالانہ بنیادوں پر 8.24 فیصد بڑھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا ستمبر کے دوران ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات 75.38 فیصد گھٹ گئیں، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ منصوبوں کو جدید بنانا یا توسیع کرنا ترجیح نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید براں، خام کپاس کی درآمدات بھی رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیادوں پر 68.73 فیصد کم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات 3.63 فیصد تنزلی کے بعد 6 ارب 91 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئی ہے، جو گزشتہ برس 7 ارب 17 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تیل-اشیائے-خورونوش-کی-درآمدات-میں-کمی" href="#تیل-اشیائے-خورونوش-کی-درآمدات-میں-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تیل، اشیائے خورونوش کی درآمدات میں کمی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق تیل اور کھانے پینے کی اشیا کی درآمدات جولائی تا ستمبر کے دوران 29.41 فیصد کم ہو کر  5 ارب 35 کروڑ ڈالر رہ گئی، جو ایک سال قبل 7 ارب 58 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ مدت کے دوران درآمدات دونوں بالحاظ مقدار اور قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ اقتصادی سست روی اور صارفین کی قوت خرید میں زبردست گراوٹ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کا درآمدی بل مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 28.03 فیصد کمی کے بعد 3 ارب 50 کروڑ ڈالر پر آگیا، یہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 4 ارب 86 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس کا موازنہ پاکستانی کرنسی میں کیا جائے تو یہ گزشتہ برس کے 10.8 کھرب کے مقابلے میں محض 5.86 فیصد کمی کے بعد 10.2 کھرب رہی، جس کی وجہ روپے کی بڑی بے قدری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً گزشتہ برس کے مقابلے میں مالی سال 2024 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں 82.82 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں بالحاظ مالیت 36.55 فیصد اور مقدار کے حساب سے 26.03 فیصد کمی ہوئی، خام تیل کی درآمد میں مقدار کے حساب سے 18.36 فیصد اور بالحاظ مالیت 30.10 فیصد کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات میں مسلسل تیسرے مہینے کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ اور نقدیت کے مسائل ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1781974/textile-exports-contract-for-third-month-in-a-row"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا کہ پاکستان ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات 9.95 فیصد گھٹ کر 4 ارب 12 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 4  ارب 58 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔</p>
<p>ستمبر میں ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات 10.88 فیصد تنزلی کے بعد ایک ارب 36 کروڑ ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ برس اسی مہینے ایک ارب 52 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ حکومت جلد ہی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو توانائی کی علاقائی مسابقتی قیمتیں فراہم کرے گی اور زیر التوا ٹیکس ریفنڈز ادا کرکے نقدیت کے مسائل کو حل کرے گی، تاہم اس فیصلے پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔</p>
<p>ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات مالی سال 2023 میں 14.63 فیصد گھٹ کر 16 ارب 50 کروڑ ڈالر رہ گئی تھیں، جبکہ اشیا کی کُل برآمدات 12.71 فیصد تنزلی سے 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہ گئی تھی، جو اس سے گزشتہ قبل 31 ارب 78 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی تا ستمبر کے دوران تیار ملبوسات کی برآمدات بالحاظ قدر 11.21 فیصد سکڑیں تاہم مقدار کے حساب سے 8.24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نٹ ویئر کی برآمدات مالیت کے حساب سے 15.83 فیصد کم ہوئیں تاہم مقدار میں 34.14 فیصد کا اضافہ ہوا، اسی طرح بیڈویئر کی برآمدات بالحاظ قدر 10.02 فیصد منفی اور بالحاظ مقدار 1.39 فیصد بڑھی۔</p>
<p>تاہم تولیے کی برآمدات میں بالحاظ قدر 2.89 فیصد کا معمولی اور بالحاظ مقدار 116.24 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ سوتی کپڑے کی مالیت کے حساب سے برآمدات میں 18.15 فیصد اور بالحاظ مقدار 12.14 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>زیر جائزہ مدت کے دوران خام روئی اور یارن کی برآمدات میں بالترتیب 12 فیصد اور 33.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات (بغیر تولیہ) میں 5.40  فیصد کی تنزلی دیکھی گئی، اسی طرح جولائی تا اگست 2023 کے دوران خیمے، کینوس اور ترپال کی برآمدات جولائی تا ستمبر کے دوران سالانہ بنیادوں پر 8.24 فیصد بڑھی۔</p>
<p>جولائی تا ستمبر کے دوران ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات 75.38 فیصد گھٹ گئیں، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ منصوبوں کو جدید بنانا یا توسیع کرنا ترجیح نہیں ہے۔</p>
<p>مزید براں، خام کپاس کی درآمدات بھی رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیادوں پر 68.73 فیصد کم ہو گئی۔</p>
<p>مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات 3.63 فیصد تنزلی کے بعد 6 ارب 91 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئی ہے، جو گزشتہ برس 7 ارب 17 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔</p>
<h3><a id="تیل-اشیائے-خورونوش-کی-درآمدات-میں-کمی" href="#تیل-اشیائے-خورونوش-کی-درآمدات-میں-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تیل، اشیائے خورونوش کی درآمدات میں کمی</h3>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق تیل اور کھانے پینے کی اشیا کی درآمدات جولائی تا ستمبر کے دوران 29.41 فیصد کم ہو کر  5 ارب 35 کروڑ ڈالر رہ گئی، جو ایک سال قبل 7 ارب 58 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>زیر جائزہ مدت کے دوران درآمدات دونوں بالحاظ مقدار اور قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ اقتصادی سست روی اور صارفین کی قوت خرید میں زبردست گراوٹ رہی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تیل کا درآمدی بل مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 28.03 فیصد کمی کے بعد 3 ارب 50 کروڑ ڈالر پر آگیا، یہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 4 ارب 86 کروڑ ڈالر تھا۔</p>
<p>اگر اس کا موازنہ پاکستانی کرنسی میں کیا جائے تو یہ گزشتہ برس کے 10.8 کھرب کے مقابلے میں محض 5.86 فیصد کمی کے بعد 10.2 کھرب رہی، جس کی وجہ روپے کی بڑی بے قدری رہی۔</p>
<p>نتیجتاً گزشتہ برس کے مقابلے میں مالی سال 2024 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں 82.82 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں بالحاظ مالیت 36.55 فیصد اور مقدار کے حساب سے 26.03 فیصد کمی ہوئی، خام تیل کی درآمد میں مقدار کے حساب سے 18.36 فیصد اور بالحاظ مالیت 30.10 فیصد کمی واقع ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213875</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Oct 2023 14:52:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/19091339b1f336f.jpg?r=145308" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/19091339b1f336f.jpg?r=145308"/>
        <media:title>ستمبر میں ٹیکسٹائل اور کپڑے کی برآمدات 10.88 فیصد تنزلی کے بعد ایک ارب 36 کروڑ ڈالر رہ گئی — فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
