<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:48:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:48:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ کی 50 ہزار حاملہ خواتین محفوظ جگہ سے محروم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213921/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ (یو این) کے تولیدی صحت سے متعلق ذیلی ادارے (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ غزہ میں اس وقت 50 ہزار حاملہ خواتین محفوظ جگہ اور بنیادی صحت سے محروم ہیں اور ان میں سے 6 ہزار خواتین کے رواں ماہ ہی بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ پر اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سے حملے اور بمباری جاری ہے، جس میں بچوں اور خواتین سمیت اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکومت نے غزہ میں پانی، بجلی اور خوراک سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی ترسیل بھی بند کر رکھی ہے جب کہ کسی بھی امدادی تنظیم کو غزہ جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت حال میں غزہ میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے اور اب تک وہاں سے 10 لاکھ کے قریب انسان نقل مکانی کر چکےہیں، تاہم اس باوجود لاکھوں افراد اپنے گھر چھوڑنے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے تولیدی صحت سے متعلق &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://arabstates.unfpa.org/en/news/statement-unfpa-executive-director-dr-natalia-kanem-2#:~:text=Gaza%20is%20home%20to%2050%2C000,essential%20medicines%20and%20deploying%20midwives."&gt;&lt;strong&gt;ادارے کے مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; غزہ میں اس وقت 50 ہزار حاملہ خواتین محفوظ جگہ اور بنیادی صحت کی ضروریات سے محروم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق غزہ کی حاملہ خواتین میں سے تقریبا 6 ہزار کے قریب ایسی خواتین ہیں جن کے ہاں رواں ماہ ہی بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریبا یومیہ دو سے زائد خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارے کے مطابق اسرائیلی بمباری اور ہسپتال پر حملے کے بعد ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے نرسز بھی دستیاب نہیں جب کہ حاملہ خواتین حالات کی وجہ سے بنیادی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہیں اور انہیں یہ تک اندازہ نہیں کہ اگلے چند گھنٹوں میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق متعدد خواتین غیر محفوظ طریقوں سے بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں، جس وجہ سے ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت اور زندگی داؤ پر لگ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل گزشتہ ہفتے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://arabstates.unfpa.org/sites/default/files/pub-pdf/unfpa-situation-report.pdf"&gt;&lt;strong&gt;یو این ایف پی اے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں مجموعی طور پر 73 ہزار سے زائد حاملہ خواتین موجود ہیں، جس میں سے 50 ہزار کا تعلق غزہ شہر سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مغربی کنارے میں 13 لاکھ کے قریب خواتین ایسی ہیں جو تولیدی صحت کی عمر میں ہیں، یعنی ان کی عمر 15 سے 49 سال تک ہے اور وہ شدید جنگ اور خوف کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تولیدی صحت کے ادارے نے عالمی اداروں اور ممالک سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غذا اور صحت کی سہولیات کی ترسیل کی اجازت دے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ (یو این) کے تولیدی صحت سے متعلق ذیلی ادارے (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ غزہ میں اس وقت 50 ہزار حاملہ خواتین محفوظ جگہ اور بنیادی صحت سے محروم ہیں اور ان میں سے 6 ہزار خواتین کے رواں ماہ ہی بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔</p>
<p>غزہ پر اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سے حملے اور بمباری جاری ہے، جس میں بچوں اور خواتین سمیت اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی حکومت نے غزہ میں پانی، بجلی اور خوراک سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی ترسیل بھی بند کر رکھی ہے جب کہ کسی بھی امدادی تنظیم کو غزہ جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔</p>
<p>ایسی صورت حال میں غزہ میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے اور اب تک وہاں سے 10 لاکھ کے قریب انسان نقل مکانی کر چکےہیں، تاہم اس باوجود لاکھوں افراد اپنے گھر چھوڑنے سے قاصر ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اقوام متحدہ کے تولیدی صحت سے متعلق <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://arabstates.unfpa.org/en/news/statement-unfpa-executive-director-dr-natalia-kanem-2#:~:text=Gaza%20is%20home%20to%2050%2C000,essential%20medicines%20and%20deploying%20midwives."><strong>ادارے کے مطابق</strong></a> غزہ میں اس وقت 50 ہزار حاملہ خواتین محفوظ جگہ اور بنیادی صحت کی ضروریات سے محروم ہیں۔</p>
<p>ادارے کے مطابق غزہ کی حاملہ خواتین میں سے تقریبا 6 ہزار کے قریب ایسی خواتین ہیں جن کے ہاں رواں ماہ ہی بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریبا یومیہ دو سے زائد خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔</p>
<p>عالمی ادارے کے مطابق اسرائیلی بمباری اور ہسپتال پر حملے کے بعد ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے نرسز بھی دستیاب نہیں جب کہ حاملہ خواتین حالات کی وجہ سے بنیادی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہیں اور انہیں یہ تک اندازہ نہیں کہ اگلے چند گھنٹوں میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔</p>
<p>ادارے کے مطابق متعدد خواتین غیر محفوظ طریقوں سے بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں، جس وجہ سے ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت اور زندگی داؤ پر لگ گئی۔</p>
<p>اس سے قبل گزشتہ ہفتے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://arabstates.unfpa.org/sites/default/files/pub-pdf/unfpa-situation-report.pdf"><strong>یو این ایف پی اے</strong></a> کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں مجموعی طور پر 73 ہزار سے زائد حاملہ خواتین موجود ہیں، جس میں سے 50 ہزار کا تعلق غزہ شہر سے ہے۔</p>
<p>ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مغربی کنارے میں 13 لاکھ کے قریب خواتین ایسی ہیں جو تولیدی صحت کی عمر میں ہیں، یعنی ان کی عمر 15 سے 49 سال تک ہے اور وہ شدید جنگ اور خوف کا شکار ہیں۔</p>
<p>تولیدی صحت کے ادارے نے عالمی اداروں اور ممالک سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غذا اور صحت کی سہولیات کی ترسیل کی اجازت دے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213921</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Oct 2023 20:13:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/1919011476a2a1f.jpg?r=190207" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/1919011476a2a1f.jpg?r=190207"/>
        <media:title>—فوٹو: انادولو ایجنسی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
