<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 01:51:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 01:51:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہفتہ وار مہنگائی بدستور 35 فیصد سے زائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214000/</link>
      <description>&lt;p&gt;قلیل مدتی مہنگائی 19 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر اضافے کے بعد 35.45 فیصد پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1782521/short-term-inflation-clocks-in-at-354pc"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ قلیل مدتی مہنگائی میں اضافے کی وجہ اشیائے ضروریہ اور بجلی کی قیمتوں کا بڑھنا ہے، قلیل مدتی مہنگائی گزشتہ 6 ہفتے سے 30 فیصد سے اوپر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے، نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا تھا، چیزوں کی قیمتوں میں اس کا اثر آنے والے ہفتوں میں نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ موجودہ مہینے کے آخر میں نظرثانی جائزے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے، اس کے باوجود ریگولیٹری نظام کی عدم موجودگی کے سبب ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلیل مدتی مہنگائی گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 1.7 فیصد کم ہو گئی، حساس قیمت انڈیکس میں 51 مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران 14 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 24 کی قیمتیں کم ہو گئیں، اسی طرح گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 13 مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں بجلی (136.89 فیصد)، گیس (108.38 فیصد)، سگریٹ (94.46 فیصد)، پسی مرچ (84.11 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (81.74 فیصد)، گندم کا آٹا (80.73 فیصد)، چاول ایری 6/9 (71.43 فیصد)، چینی (66.29 فیصد)، گڑ (61.50 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، نمک (57.40 فیصد) اور لپٹن چائے (56.27 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار بنیادوں پر جن مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، ان میں انڈے (3.44 فیصد)، نمک (2.63 فیصد)، شرٹ کا کپڑ ا (2.18 فیصد)، بکرے کا گوشت (1.01 فیصد)، گائے کا گوشت (0.84 فیصد)، پکا ہوا گوشت (0.72 فیصد)، صابن (0.48 فیصد)، تیار چائے (0.34 فیصد)، پکی ہوئی دال (0.34 فیصد)، آلو (0.25 فیصد) اور آگ جلانے والی لکڑی (0.22 فیصد) شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں برس مئی میں ایس پی آئی 4 مئی کو 48.35 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 3 ہفتوں تک 45 فیصد سے اوپر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے رجحان کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی، پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، سیلز ٹیکس اور بجلی کے بل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی تازہ ترین پیش گوئی کے مطابق اوسط کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پچھلے سال کے 29.6 فیصد کے برعکس رواں مالی سال 25.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ہفتہ وار بنیادوں پر ان اشیا کی قیمتیں کم ہو گئیں، پیاز (8.45 فیصد)، مرغی کا گوشت (5.46 فیصد)، دال مسور (3.38 فیصد)، چینی (3.07 فیصد)، لہسن (2.24 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (2.17 فیصد)۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قلیل مدتی مہنگائی 19 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر اضافے کے بعد 35.45 فیصد پر پہنچ گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1782521/short-term-inflation-clocks-in-at-354pc"><strong>رپورٹ</strong></a> میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ قلیل مدتی مہنگائی میں اضافے کی وجہ اشیائے ضروریہ اور بجلی کی قیمتوں کا بڑھنا ہے، قلیل مدتی مہنگائی گزشتہ 6 ہفتے سے 30 فیصد سے اوپر ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے، نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا تھا، چیزوں کی قیمتوں میں اس کا اثر آنے والے ہفتوں میں نظر آئے گا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ موجودہ مہینے کے آخر میں نظرثانی جائزے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے، اس کے باوجود ریگولیٹری نظام کی عدم موجودگی کے سبب ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلیل مدتی مہنگائی گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 1.7 فیصد کم ہو گئی، حساس قیمت انڈیکس میں 51 مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران 14 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 24 کی قیمتیں کم ہو گئیں، اسی طرح گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 13 مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>زیر جائزہ ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں بجلی (136.89 فیصد)، گیس (108.38 فیصد)، سگریٹ (94.46 فیصد)، پسی مرچ (84.11 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (81.74 فیصد)، گندم کا آٹا (80.73 فیصد)، چاول ایری 6/9 (71.43 فیصد)، چینی (66.29 فیصد)، گڑ (61.50 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، نمک (57.40 فیصد) اور لپٹن چائے (56.27 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>ہفتہ وار بنیادوں پر جن مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، ان میں انڈے (3.44 فیصد)، نمک (2.63 فیصد)، شرٹ کا کپڑ ا (2.18 فیصد)، بکرے کا گوشت (1.01 فیصد)، گائے کا گوشت (0.84 فیصد)، پکا ہوا گوشت (0.72 فیصد)، صابن (0.48 فیصد)، تیار چائے (0.34 فیصد)، پکی ہوئی دال (0.34 فیصد)، آلو (0.25 فیصد) اور آگ جلانے والی لکڑی (0.22 فیصد) شامل ہے۔</p>
<p>رواں برس مئی میں ایس پی آئی 4 مئی کو 48.35 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 3 ہفتوں تک 45 فیصد سے اوپر رہا۔</p>
<p>مہنگائی کے رجحان کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی، پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، سیلز ٹیکس اور بجلی کے بل ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی تازہ ترین پیش گوئی کے مطابق اوسط کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پچھلے سال کے 29.6 فیصد کے برعکس رواں مالی سال 25.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، ہفتہ وار بنیادوں پر ان اشیا کی قیمتیں کم ہو گئیں، پیاز (8.45 فیصد)، مرغی کا گوشت (5.46 فیصد)، دال مسور (3.38 فیصد)، چینی (3.07 فیصد)، لہسن (2.24 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (2.17 فیصد)۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214000</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Oct 2023 09:20:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/21091703468f28a.jpg?r=091906" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/21091703468f28a.jpg?r=091906"/>
        <media:title>— فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
