<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:13:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:13:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈینگی کو ختم کرنے والی پہلی دوا کے ابتدائی نتائج حوصلہ کن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214174/</link>
      <description>&lt;p&gt;مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے بخار یا بیماری ڈینگی کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی دنیا کی پہلی دوا کی آزمائش کے ابتدائی نتائج سے بخار ختم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈینگی بخار مچھروں کی ایک قسم Aedes کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو خود ڈینگی وائرس سے متثر ہوتا ہے اور کاٹنے کے بعد خون میں وائرس کو منتقل کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر یہ بیماری ایک سے دوسرے فرد میں براہ راست نہیں پھیلتی لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ڈینگی کا سبب بننے والے مچھر وائرس کو پھیلانے کے لیے طاقتور بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈینگی کے زیادہ تر کیسز ایشیائی اور افریقی ممالک میں رپورٹ ہوتے ہیں اور پاکستان کا شمار بھی اس سے متاثر ہونے والے جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ڈینگی کے علاج کے لیے کوئی خصوصی گولی، کیپسول، سیرپ یا ویکسین دستیاب نہیں ہے، البتہ ڈاکٹرز مختلف ادویات سے اس کا علاج کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب ملٹی نیشنل کمپنی ’جانسن اینڈ جانسن‘ کی جانب سے تیار کردہ اینٹی وائرل دوا کی آزمائش کے ابتدائی نتائج حوصلہ کن آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1161803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/first-pill-dengue-shows-promise-human-challenge-trial-2023-10-20/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق شکاگو میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جانسن اینڈ جانسن کے ماہرین نے تیار کردہ گولیوں کی آزمائش کے ابتدائی نتائج پیش کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ گولیوں کے استعمال سے بخار ختم ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے کانفرنس میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے ڈینگی کو ختم کرنے کے لیے اینٹی وائرل گولیاں تیار کی ہیں، جن کی 10 افراد پر آزمائش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آزمائشی پروگرام کے لیے 10 صحت مند رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہیں پہلے ڈینگی بخار میں مبتلا کیا گیا، جس کے بعد انہیں دو گروپوں میں تقسیم کرکے 21 دن تک ان کا علاج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق 10 میں سے 6 رضاکاروں کو تیار کردہ نئی اینٹی وائرل گولیاں دی گئیں اور انہیں یومیہ 21 دن تک گولیاں کھانے کا کہا گیا جب کہ دوسرے افراد کو مصنوعی دوا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ 21 دن بعد گولیاں کھانے والے افراد میں ڈینگی ختم ہوچکا تھا جب کہ ان کے بلڈ پلازما اور مدافعتی نظام سے بھی ڈینگی وائرس نکل چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق علاج کے بعد 85 دن بعد دوبارہ ان افراد کے ٹیسٹ کیے گئے تو بھی ان میں ڈینگی کی تشخیص نہیں ہوئی جب کہ دوسرے رضاکار جنہیں مصنوعی دوا دی گئی تھی، ان میں ڈینگی پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بتایا کہ ابتدائی نتائج حوصلہ بخش آنے کے بعد اب مذکورہ گولیاں کی دوسری آزمائش شروع کی جائے گی، جس کے لیے زیادہ رضاکار اور زیادہ وقت درکار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ اینٹی وائرل گولیوں کی دوسری آزمائش افریقہ، امریکا اور ایشیا کے متعدد ممالک میں 6 ماہ تک کی جائے گی اور ممکنہ طور پر آزمائش کو ایک سال کے اندر شروع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مذکورہ گولیوں کی آزمائش کے دوسرے مرحلے کے نتائج بھی حوصلہ کن آئے تو ان گولیوں کو تیسری اور آخری بڑی آزمائش میں آمایا جائے گا، تاہم اس سارے عمل میں مزید دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے بخار یا بیماری ڈینگی کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی دنیا کی پہلی دوا کی آزمائش کے ابتدائی نتائج سے بخار ختم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔</p>
<p>ڈینگی بخار مچھروں کی ایک قسم Aedes کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو خود ڈینگی وائرس سے متثر ہوتا ہے اور کاٹنے کے بعد خون میں وائرس کو منتقل کردیتا ہے۔</p>
<p>مگر یہ بیماری ایک سے دوسرے فرد میں براہ راست نہیں پھیلتی لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ڈینگی کا سبب بننے والے مچھر وائرس کو پھیلانے کے لیے طاقتور بن چکے ہیں۔</p>
<p>ڈینگی کے زیادہ تر کیسز ایشیائی اور افریقی ممالک میں رپورٹ ہوتے ہیں اور پاکستان کا شمار بھی اس سے متاثر ہونے والے جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔</p>
<p>اس وقت ڈینگی کے علاج کے لیے کوئی خصوصی گولی، کیپسول، سیرپ یا ویکسین دستیاب نہیں ہے، البتہ ڈاکٹرز مختلف ادویات سے اس کا علاج کرتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اب ملٹی نیشنل کمپنی ’جانسن اینڈ جانسن‘ کی جانب سے تیار کردہ اینٹی وائرل دوا کی آزمائش کے ابتدائی نتائج حوصلہ کن آئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1161803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/first-pill-dengue-shows-promise-human-challenge-trial-2023-10-20/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق شکاگو میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جانسن اینڈ جانسن کے ماہرین نے تیار کردہ گولیوں کی آزمائش کے ابتدائی نتائج پیش کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ گولیوں کے استعمال سے بخار ختم ہوگیا۔</p>
<p>ماہرین نے کانفرنس میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے ڈینگی کو ختم کرنے کے لیے اینٹی وائرل گولیاں تیار کی ہیں، جن کی 10 افراد پر آزمائش کی گئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آزمائشی پروگرام کے لیے 10 صحت مند رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہیں پہلے ڈینگی بخار میں مبتلا کیا گیا، جس کے بعد انہیں دو گروپوں میں تقسیم کرکے 21 دن تک ان کا علاج کیا گیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق 10 میں سے 6 رضاکاروں کو تیار کردہ نئی اینٹی وائرل گولیاں دی گئیں اور انہیں یومیہ 21 دن تک گولیاں کھانے کا کہا گیا جب کہ دوسرے افراد کو مصنوعی دوا دی گئی۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ 21 دن بعد گولیاں کھانے والے افراد میں ڈینگی ختم ہوچکا تھا جب کہ ان کے بلڈ پلازما اور مدافعتی نظام سے بھی ڈینگی وائرس نکل چکا تھا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق علاج کے بعد 85 دن بعد دوبارہ ان افراد کے ٹیسٹ کیے گئے تو بھی ان میں ڈینگی کی تشخیص نہیں ہوئی جب کہ دوسرے رضاکار جنہیں مصنوعی دوا دی گئی تھی، ان میں ڈینگی پایا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے بتایا کہ ابتدائی نتائج حوصلہ بخش آنے کے بعد اب مذکورہ گولیاں کی دوسری آزمائش شروع کی جائے گی، جس کے لیے زیادہ رضاکار اور زیادہ وقت درکار ہوگا۔</p>
<p>خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ اینٹی وائرل گولیوں کی دوسری آزمائش افریقہ، امریکا اور ایشیا کے متعدد ممالک میں 6 ماہ تک کی جائے گی اور ممکنہ طور پر آزمائش کو ایک سال کے اندر شروع کیا جائے گا۔</p>
<p>اگر مذکورہ گولیوں کی آزمائش کے دوسرے مرحلے کے نتائج بھی حوصلہ کن آئے تو ان گولیوں کو تیسری اور آخری بڑی آزمائش میں آمایا جائے گا، تاہم اس سارے عمل میں مزید دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214174</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Oct 2023 22:04:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/231921506bf1956.jpg?r=192211" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/231921506bf1956.jpg?r=192211"/>
        <media:title>—فوٹو: آئی اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
