<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:27:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:27:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: ریل حادثے میں 17 افراد جاں بحق، 100 سے زائد زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214196/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں دو ریلوں کے آپس میں ٹکرانے سے 17 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ ریل حادثہ مشرقی شہر بھیراب میں پیش آیا جہاں ایک مال گاڑی مخالف سمت سے آنے والی مسافر ریل سے ٹکرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت ڈھاکا سے 60 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شہر بھیراب میں تعینات حکومتی عہدیدار صادق الرحمٰن نے بتایا کہ ہم نے 17 سے زائد لاشیں نکالی ہیں، 100 سے زائد زخمی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، امدادی کارکنوں نے بتایا کہ انہیں حادثے کی شکار بوگیوں کے نیچے دبی ہوئی لاشیں نظر آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ امدادی ریل کرینز کے ساتھ جائے وقوع کی طرف جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شام کو 4 بجے کے قریب حادثے کی اطلاع ملتے ہیں شہری اور رضاکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صادق الرحمٰن نے کہا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک ریل اسی پٹڑی پر چڑھی جس پر پہلے ہی ایک ریل چل رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی چینل 24 کی جانب سے نشر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حادثے کے مقام پر سیکڑوں لوگ موجود ہیں اور کئی افراد اپنے رشتہ داروں کو ڈھونڈتے ہوئے اشکبار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/imAdityaRathore/status/1716473025720406230"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلال احمر کے ایک رضاکار ناظم الحق نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے حادثے کی شکار بوگیوں سے کم ازکم دو لوگوں کو زندہ نکالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری عہدیداروں، فائر سروس کے اہلکار ، پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین سیکیورٹی فورسز بھی جائے حادثے پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے حادثے کے بعد تفتیش کا حکم دیا ہے اور خون کے عطیات دینے کی درخواست بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی سرکاری ریلوے کے جنرل منیجر ناظم الاسلام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ مال گاڑی اشارے پر نہیں رکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں ریل کے حادثات معمول ہیں جو اکثر  اشاروں کے ناقص نظام، غفلت، پرانی پٹڑی یا ناقص انفرااسٹرکچر کی وجہ سے  پیش آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش میں دو ریلوں کے آپس میں ٹکرانے سے 17 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ ریل حادثہ مشرقی شہر بھیراب میں پیش آیا جہاں ایک مال گاڑی مخالف سمت سے آنے والی مسافر ریل سے ٹکرائی۔</p>
<p>دارالحکومت ڈھاکا سے 60 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شہر بھیراب میں تعینات حکومتی عہدیدار صادق الرحمٰن نے بتایا کہ ہم نے 17 سے زائد لاشیں نکالی ہیں، 100 سے زائد زخمی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، امدادی کارکنوں نے بتایا کہ انہیں حادثے کی شکار بوگیوں کے نیچے دبی ہوئی لاشیں نظر آرہی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ امدادی ریل کرینز کے ساتھ جائے وقوع کی طرف جارہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق شام کو 4 بجے کے قریب حادثے کی اطلاع ملتے ہیں شہری اور رضاکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔</p>
<p>صادق الرحمٰن نے کہا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک ریل اسی پٹڑی پر چڑھی جس پر پہلے ہی ایک ریل چل رہی تھی۔</p>
<p>نجی چینل 24 کی جانب سے نشر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حادثے کے مقام پر سیکڑوں لوگ موجود ہیں اور کئی افراد اپنے رشتہ داروں کو ڈھونڈتے ہوئے اشکبار ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/imAdityaRathore/status/1716473025720406230"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ہلال احمر کے ایک رضاکار ناظم الحق نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے حادثے کی شکار بوگیوں سے کم ازکم دو لوگوں کو زندہ نکالا ہے۔</p>
<p>سرکاری عہدیداروں، فائر سروس کے اہلکار ، پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین سیکیورٹی فورسز بھی جائے حادثے پر موجود ہیں۔</p>
<p>حکام نے حادثے کے بعد تفتیش کا حکم دیا ہے اور خون کے عطیات دینے کی درخواست بھی کی ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی سرکاری ریلوے کے جنرل منیجر ناظم الاسلام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ مال گاڑی اشارے پر نہیں رکی۔</p>
<p>خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں ریل کے حادثات معمول ہیں جو اکثر  اشاروں کے ناقص نظام، غفلت، پرانی پٹڑی یا ناقص انفرااسٹرکچر کی وجہ سے  پیش آتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214196</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Oct 2023 00:00:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/232356352bde37d.jpg?r=000017" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/232356352bde37d.jpg?r=000017"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/23235927867a0ea.jpg?r=000017" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/23235927867a0ea.jpg?r=000017"/>
        <media:title>مسافر ریل مخالف سمت سے آنے والی مال گاڑی سے ٹکرائی—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
