<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 23:37:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 23:37:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’چیک باؤنس‘ ہونے پر چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض کےخلاف ایف آئی آر درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214229/</link>
      <description>&lt;p&gt;’چیک باؤنس‘ ہونے پر چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1783225/sindh-building-control-authority-lodges-fir-against-malik-riaz-over-dishonoured-cheques"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ملک کے خلاف  اپنے  بحریہ ٹاؤن کراچی پروجیکٹ کی تشہیر کی اجازت کے لیے مبینہ طور پر 18 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد رقم کے تین ’ڈس آنر‘ چیک جمع کرانے کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کر ا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ طور پر حقائق چھپانے، غلط بیانی کرنے اور  ایسے چیک جنہیں بعد میں بحریہ ٹاؤن کراچی پروجیکٹ کی فروخت اور اشتہارات کے لیے ایس بی سی اے سے این او سی حاصل کرنے کے عمل کے دوران بینک نے کلیئر کرنے سے انکار کردیا تھا، جمع  کرانے کے حوالے سے ایف آئی آر نمبر 681/2023 گلشن اقبال پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489-ایف، 420، 109 اور 34  شامل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1099082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ظہیر حسین قریشی نے اپنی تحریری شکایت میں کہا کہ بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ریاض ملک نے متعلقہ اراضی کے لے آؤٹ پلان کی منظوری کی بنیاد پر مجاز مالکان بحریہ ٹاؤن کراچی کے ذریعے پروجیکٹ کی فروخت اور اشتہارات کے لیے 22 جون 2022 کو ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو درخواست دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے مالکان نے اپنے نمائندوں کے ذریعے ایس بی سی اے کے حق میں آئندہ تاریخوں کے 5 چیک جمع کرائے لیکن ان میں سے 3 چیک باؤنس ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت گزار نے کہا کہ اس لیے قانون کے مطابق قانونی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’چیک باؤنس‘ ہونے پر چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1783225/sindh-building-control-authority-lodges-fir-against-malik-riaz-over-dishonoured-cheques">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ملک کے خلاف  اپنے  بحریہ ٹاؤن کراچی پروجیکٹ کی تشہیر کی اجازت کے لیے مبینہ طور پر 18 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد رقم کے تین ’ڈس آنر‘ چیک جمع کرانے کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کر ا دیا۔</p>
<p>مبینہ طور پر حقائق چھپانے، غلط بیانی کرنے اور  ایسے چیک جنہیں بعد میں بحریہ ٹاؤن کراچی پروجیکٹ کی فروخت اور اشتہارات کے لیے ایس بی سی اے سے این او سی حاصل کرنے کے عمل کے دوران بینک نے کلیئر کرنے سے انکار کردیا تھا، جمع  کرانے کے حوالے سے ایف آئی آر نمبر 681/2023 گلشن اقبال پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے۔</p>
<p>پولیس نے ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489-ایف، 420، 109 اور 34  شامل کی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1099082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ظہیر حسین قریشی نے اپنی تحریری شکایت میں کہا کہ بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ریاض ملک نے متعلقہ اراضی کے لے آؤٹ پلان کی منظوری کی بنیاد پر مجاز مالکان بحریہ ٹاؤن کراچی کے ذریعے پروجیکٹ کی فروخت اور اشتہارات کے لیے 22 جون 2022 کو ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو درخواست دی۔</p>
<p>ایف آئی آر میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے مالکان نے اپنے نمائندوں کے ذریعے ایس بی سی اے کے حق میں آئندہ تاریخوں کے 5 چیک جمع کرائے لیکن ان میں سے 3 چیک باؤنس ہو گئے۔</p>
<p>شکایت گزار نے کہا کہ اس لیے قانون کے مطابق قانونی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214229</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Oct 2023 14:01:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/241236413bf15e4.jpg?r=140131" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/241236413bf15e4.jpg?r=140131"/>
        <media:title>ایس بی سی اے نے کہا کہ ملک ریاض کے خلاف قانون کے مطابق قانونی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی جاتی ہے —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
