<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:47:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:47:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا کشیدگی کے بعد کینیڈا کے شہریوں کو ویزے جاری کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214402/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے کینیڈا میں قائم سفارت خانے کی جانب سے اعلان کیا گی اہے کہ ویزا سروس دوبارہ شروع کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں سکھ رہنما کے قتل سے جنم لینے والے تنازع سے پیدا کشیدگی کم ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی کی صورت حال کا بغور جائزہ لینے کے بعد کینیڈا کی جانب سے اس حوالے سے جو اقدامات کیے گئے ہیں اس کی بنا پر ویز سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے کینیڈا کے شہریوں کو اپنا ویزا سروس بند کرنے کا اعلان دونوں ممالک کے درمیان کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد ہونے والی کشیدگی کی سے وجہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ رہنما کے قتل میں بھارتی انٹیلیجنس ملوث تھے جبکہ بھارت نے اس الزام کی تردید کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت سے الگ سکھ ریاست کے لیے کام کرنے والے ہردیپ سنگھ نجر کو بھارتی حکام نے انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا نے سکھ رہنما کے قتل کی تحقیقات میں تعاون کے لیے بھارت پر زور دیا تھا اور اس معاملے پر ایک بھارتی سفارت کار کو بھی ملک بدر کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی کی جانب سے بھی سخت ردعمل دیا گیا تھا اور جوابی اقدامات کرتے ہوئے کینیڈا کے شہریوں کو بھارتی ویزا کی سروس بند کرنے سمیت دیگر سروسز بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کینیڈا نے اس کشیدگی کے باعث بھارت سے اپنے 41 سفارت کاروں کو واپس بلالیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت مذکورہ تمام سفارت کاروں کو حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کرنے والی تھی لیکن کینیڈا کی جانب سے اپنے 21 سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ دیگر تمام کو وہاں نکلنے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ رواں سال 18 جون کو سکھ علیحدگی پسند رہنما کو کینیڈا کے وینکوور کے مضافات سرے میں سکھ گوردوارے کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا میں پلمبر کے طور پر کام کرتے تھے جو کہ ایک چوتھائی صدی قبل شمالی بھارت کی ریاست پنجاب چھوڑ کر کینیڈا کے شہری بن گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہردیپ سنگھ نجر نے پنجاب سے کینیڈا جانے کے بعد آزاد سکھ ریاست خالصتان کے قیام کی حمایت کی تھی، جس کے بعد بھارت نے جولائی 2020 میں ان کو ’دہشت گرد‘ نامزد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا میں تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار سکھ رہتے ہیں جہاں مختلف مقامات پر سکھ کمیونٹی کی طرف سے بھارت مخالف مظاہروں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں سکھ مجموعی طور پر 1.4 ارب آبادی کا صرف 2 فیصد ہیں لیکن ریاست پنجاب میں ان کی اکثریت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے کینیڈا میں قائم سفارت خانے کی جانب سے اعلان کیا گی اہے کہ ویزا سروس دوبارہ شروع کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں سکھ رہنما کے قتل سے جنم لینے والے تنازع سے پیدا کشیدگی کم ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی کی صورت حال کا بغور جائزہ لینے کے بعد کینیڈا کی جانب سے اس حوالے سے جو اقدامات کیے گئے ہیں اس کی بنا پر ویز سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>بھارت نے کینیڈا کے شہریوں کو اپنا ویزا سروس بند کرنے کا اعلان دونوں ممالک کے درمیان کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد ہونے والی کشیدگی کی سے وجہ کیا تھا۔</p>
<p>کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ رہنما کے قتل میں بھارتی انٹیلیجنس ملوث تھے جبکہ بھارت نے اس الزام کی تردید کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارت سے الگ سکھ ریاست کے لیے کام کرنے والے ہردیپ سنگھ نجر کو بھارتی حکام نے انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیا تھا۔</p>
<p>کینیڈا نے سکھ رہنما کے قتل کی تحقیقات میں تعاون کے لیے بھارت پر زور دیا تھا اور اس معاملے پر ایک بھارتی سفارت کار کو بھی ملک بدر کردیا تھا۔</p>
<p>نئی دہلی کی جانب سے بھی سخت ردعمل دیا گیا تھا اور جوابی اقدامات کرتے ہوئے کینیڈا کے شہریوں کو بھارتی ویزا کی سروس بند کرنے سمیت دیگر سروسز بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کینیڈا نے اس کشیدگی کے باعث بھارت سے اپنے 41 سفارت کاروں کو واپس بلالیا تھا۔</p>
<p>بھارتی حکومت مذکورہ تمام سفارت کاروں کو حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کرنے والی تھی لیکن کینیڈا کی جانب سے اپنے 21 سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ دیگر تمام کو وہاں نکلنے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>خیال رہے کہ رواں سال 18 جون کو سکھ علیحدگی پسند رہنما کو کینیڈا کے وینکوور کے مضافات سرے میں سکھ گوردوارے کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا میں پلمبر کے طور پر کام کرتے تھے جو کہ ایک چوتھائی صدی قبل شمالی بھارت کی ریاست پنجاب چھوڑ کر کینیڈا کے شہری بن گئے تھے۔</p>
<p>ہردیپ سنگھ نجر نے پنجاب سے کینیڈا جانے کے بعد آزاد سکھ ریاست خالصتان کے قیام کی حمایت کی تھی، جس کے بعد بھارت نے جولائی 2020 میں ان کو ’دہشت گرد‘ نامزد کیا تھا۔</p>
<p>کینیڈا میں تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار سکھ رہتے ہیں جہاں مختلف مقامات پر سکھ کمیونٹی کی طرف سے بھارت مخالف مظاہروں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔</p>
<p>بھارت میں سکھ مجموعی طور پر 1.4 ارب آبادی کا صرف 2 فیصد ہیں لیکن ریاست پنجاب میں ان کی اکثریت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214402</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Oct 2023 23:07:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/2523053240c91fe.png?r=230721" type="image/png" medium="image" height="478" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/2523053240c91fe.png?r=230721"/>
        <media:title>کینیڈا میں بھارتی ہائی کمیشن نے ویزا سروس بحال کرنے کا اعلان کیا—فائل/فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
