<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:33:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 12:33:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماضی میں صرف’جٹ لائن’ فلمیں بنانے سے انڈسٹری کو نقصان ہوا، ممتاز بیگم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214636/</link>
      <description>&lt;p&gt;ماضی کی مقبول اداکارہ ممتاز بیگم نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں تعلیم یافتہ افراد کی قلت تھی جب کہ ماضی میں صرف ’جٹ لائن‘ فلمیں بننے کی وجہ سے انڈسٹری کو نقصان ہوا اگر ایسا نہ ہوتا یہ انڈسٹری کبھی زوال کا شکار نہ بنتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممتاز بیگم کا شمار پاکستان کی اولین ہیروئنز میں ہوتا ہے، انہوں نے 1970 کے بعد کیریئر کا آغاز کیا اور تقریبا 200 فلموں میں کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بطور ڈانسر فلموں میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے مقبول گانے ان کی پرفارمنس پر فلمائے گئے، بعد ازاں وہ تقریبا اس دور کے تمام مشہور ہیروز کے ساتھ اسکرین پر نظر آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممتاز بیگم پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال پذیر ہونے کے بعد بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے اور حال ہی میں وہ کئی دہائیوں بعد وطن واپس آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وطن واپسی پر پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=-nEHn1ZsWV4&amp;amp;t=833s"&gt;&lt;strong&gt;شو میں شرکت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت وطن واپسی کے معاملے پر کھل کر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وہ اب بھی پاکستان واپس نہیں آنا چاہ رہی تھیں لیکن انہیں اپنے بیٹے واپس لے آئے، کیوں کہ انہیں اداکاری کا شوق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کے مطابق ان کے صاحبزادے انہیں زبردستی لے کر آئے ہیں اور اب وہ انہیں شوبز انڈسٹری میں دیکھنا چاہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28125943a4f5bee.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ ماضی میں غلطیوں کی وجہ سے ہماری فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہوئی لیکن اس وقت انڈسٹری بہت اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اب نہ صرف فلم انڈسٹری میں پڑھے لکھے لوگ آ چکے ہیں بلکہ اب مختلف موضوعات پر تجربات بھی کیے جاتے ہیں اور ان کے پاس جدید ٹیکنالوجی بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے کیریئر پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی فلم ’آنسو‘ تھی، جس میں انہوں نے ایک گانے میں پرفارمنس کی تھی لیکن ان کی پرفارمنس کو کاٹ دیا گیا، جس پر وہ کافی مایوس بھی ہوئیں اور کافی دیر تک روتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق بعد ازاں فلم ساز شمیم آرا نے انہیں اپنی فلم ’فرض‘ میں بطور ہیروئن کاسٹ کیا لیکن مذکورہ فلم ریلیز ہونے سے قبل ہدایت کار الیاس کاشمیری نے انہیں اپنی فلم ’ضد‘ میں گانوں پر پرفارمنس کروائی، جسے بہت سراہا گیا اور ان کے لیے انڈسٹری کے دروازے کھل گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممتاز بیگم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی واحد ہیروئن ہیں، جنہوں نے اپنے دور کے تمام مقبول ہیروز کے ساتھ کام کیا اور ان کی جوڑی کو سب کے ساتھ سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم انڈسٹری کے زوال کے اسباب پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ماضی کی فلم انڈسٹری میں تعلیم کی کمی تھی اور اس وقت ایک ہی لائن ’جٹ لائن‘ پکڑی گئی، جس پر فلمیں بنائی جاتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک ہی سیٹ ہوتا تھا، ایک ہی ہیروئن ہوتی تھی، ایک ہی موضوع ہوتا تھا، جس وجہ سے دیکھنے والے بھی بور ہوجاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممتاز بیگم کے مطابق موضوع اور سیٹ تبدیل کرنے کے علاوہ اگر ہیروئنز بھی تبدیل کی جاتیں اور جٹ لائن کے پیچھے نہ پڑا جاتا تو پاکستانی فلم انڈسٹری کبھی زوال کا شکار نہ بنتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28130101ffe2da4.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ماضی کی مقبول اداکارہ ممتاز بیگم نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں تعلیم یافتہ افراد کی قلت تھی جب کہ ماضی میں صرف ’جٹ لائن‘ فلمیں بننے کی وجہ سے انڈسٹری کو نقصان ہوا اگر ایسا نہ ہوتا یہ انڈسٹری کبھی زوال کا شکار نہ بنتی۔</p>
<p>ممتاز بیگم کا شمار پاکستان کی اولین ہیروئنز میں ہوتا ہے، انہوں نے 1970 کے بعد کیریئر کا آغاز کیا اور تقریبا 200 فلموں میں کام کیا۔</p>
<p>انہوں نے بطور ڈانسر فلموں میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے مقبول گانے ان کی پرفارمنس پر فلمائے گئے، بعد ازاں وہ تقریبا اس دور کے تمام مشہور ہیروز کے ساتھ اسکرین پر نظر آئیں۔</p>
<p>ممتاز بیگم پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال پذیر ہونے کے بعد بیرون ملک منتقل ہوگئے تھے اور حال ہی میں وہ کئی دہائیوں بعد وطن واپس آئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وطن واپسی پر پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=-nEHn1ZsWV4&amp;t=833s"><strong>شو میں شرکت</strong></a> کی، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت وطن واپسی کے معاملے پر کھل کر بات کی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وہ اب بھی پاکستان واپس نہیں آنا چاہ رہی تھیں لیکن انہیں اپنے بیٹے واپس لے آئے، کیوں کہ انہیں اداکاری کا شوق ہے۔</p>
<p>اداکارہ کے مطابق ان کے صاحبزادے انہیں زبردستی لے کر آئے ہیں اور اب وہ انہیں شوبز انڈسٹری میں دیکھنا چاہیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28125943a4f5bee.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ ماضی میں غلطیوں کی وجہ سے ہماری فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہوئی لیکن اس وقت انڈسٹری بہت اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق اب نہ صرف فلم انڈسٹری میں پڑھے لکھے لوگ آ چکے ہیں بلکہ اب مختلف موضوعات پر تجربات بھی کیے جاتے ہیں اور ان کے پاس جدید ٹیکنالوجی بھی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنے کیریئر پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی فلم ’آنسو‘ تھی، جس میں انہوں نے ایک گانے میں پرفارمنس کی تھی لیکن ان کی پرفارمنس کو کاٹ دیا گیا، جس پر وہ کافی مایوس بھی ہوئیں اور کافی دیر تک روتی رہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق بعد ازاں فلم ساز شمیم آرا نے انہیں اپنی فلم ’فرض‘ میں بطور ہیروئن کاسٹ کیا لیکن مذکورہ فلم ریلیز ہونے سے قبل ہدایت کار الیاس کاشمیری نے انہیں اپنی فلم ’ضد‘ میں گانوں پر پرفارمنس کروائی، جسے بہت سراہا گیا اور ان کے لیے انڈسٹری کے دروازے کھل گئے۔</p>
<p>ممتاز بیگم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی واحد ہیروئن ہیں، جنہوں نے اپنے دور کے تمام مقبول ہیروز کے ساتھ کام کیا اور ان کی جوڑی کو سب کے ساتھ سراہا گیا۔</p>
<p>فلم انڈسٹری کے زوال کے اسباب پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ماضی کی فلم انڈسٹری میں تعلیم کی کمی تھی اور اس وقت ایک ہی لائن ’جٹ لائن‘ پکڑی گئی، جس پر فلمیں بنائی جاتی رہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک ہی سیٹ ہوتا تھا، ایک ہی ہیروئن ہوتی تھی، ایک ہی موضوع ہوتا تھا، جس وجہ سے دیکھنے والے بھی بور ہوجاتے تھے۔</p>
<p>ممتاز بیگم کے مطابق موضوع اور سیٹ تبدیل کرنے کے علاوہ اگر ہیروئنز بھی تبدیل کی جاتیں اور جٹ لائن کے پیچھے نہ پڑا جاتا تو پاکستانی فلم انڈسٹری کبھی زوال کا شکار نہ بنتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28130101ffe2da4.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214636</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Oct 2023 13:11:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/2812561449e53b6.jpg?r=125703" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/2812561449e53b6.jpg?r=125703"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
