<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 22:36:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 22:36:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی شہر لیوسٹن میں 22 افراد کے قتل میں ’ملوث‘ حملہ آور کی لاش برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214642/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی ریاست مین کے شہر لیوسٹن میں فائرنگ کر کے 22 افراد کو قتل کرنے والا مشتبہ شخص 48 گھنٹوں کی تلاش کے بعد مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق مین کے پبلک سیفٹی کمشنر مائیک سوسچک نے کہا کہ 40 سالہ آرمی ریزروسٹ رابرٹ کارڈ کی موت خود کو گولی لگنے سے ہوئی، اور اس کی لاش گزشتہ روز شام کے وقت ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر جینیٹ ملز نے عجلت میں بلائی گئی ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ میں آج رات یہ جان کر سکون کی سانس لے رہی ہوں کہ رابرٹ کارڈ اب کسی کے لیے خطرہ نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوبائیڈن نے کہا کہ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد المناک 2 دن گزرے، نہ صرف لیوسٹن اور مین کے لیے، بلکہ ہمارے پورے ملک کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214428"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ میں بندوق کے زور پر ہونے والے اِن پُرتشدد واقعات کی وبا کو ختم کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا، لیوسٹن کمیونٹی اور تمام امریکی اس سب کے مستحق نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ رابرٹ کارڈ کی لاش لیوسٹن کے جنوب مشرق میں دریائے اینڈروسکوگن کے قریب لزبن فالز میں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کی لاش ایک ری سائیکلنگ سینٹر کے قریب سے ملی جہاں وہ برطرف کیے جانے سے قبل ملازمت کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28130916d7b952a.png'  alt='رابرٹ کارڈ ایک آرمی ریزروسٹ تھا&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رابرٹ کارڈ ایک آرمی ریزروسٹ تھا—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کہا کہ وہ فوری طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ رابرٹ کارڈ نے خود کو کب گولی ماری، 2 روز قبل پیش آنے والے اس واقعے اور اس کے بعد رابرٹ کارڈ کے مفررو ہونے کے سبب علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابرٹ کارڈ ایک آرمی ریزروسٹ تھا لیکن اسے کسی جنگی زون میں تعینات نہیں کیا گیا تھا، امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس نے حال ہی میں کچھ آوازیں سنائی دینے لگی تھیں جس کے بعد اسے نفسیاتی علاج کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملہ 2017 کے بعد امریکا میں پیش آنے والا اب تک کا سب سے مہلک ترین واقعہ ہے، 2017 میں لاس ویگاس میں ایک پرہجوم میوزک فیسٹیول پر ایک بندوق بردار حملہ آور نے فائرنگ کر دی تھی جس میں 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی ریاست مین کے شہر لیوسٹن میں فائرنگ کر کے 22 افراد کو قتل کرنے والا مشتبہ شخص 48 گھنٹوں کی تلاش کے بعد مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔</p>
<p>خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق مین کے پبلک سیفٹی کمشنر مائیک سوسچک نے کہا کہ 40 سالہ آرمی ریزروسٹ رابرٹ کارڈ کی موت خود کو گولی لگنے سے ہوئی، اور اس کی لاش گزشتہ روز شام کے وقت ملی۔</p>
<p>گورنر جینیٹ ملز نے عجلت میں بلائی گئی ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ میں آج رات یہ جان کر سکون کی سانس لے رہی ہوں کہ رابرٹ کارڈ اب کسی کے لیے خطرہ نہیں رہا۔</p>
<p>جوبائیڈن نے کہا کہ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد المناک 2 دن گزرے، نہ صرف لیوسٹن اور مین کے لیے، بلکہ ہمارے پورے ملک کے لیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214428"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ میں بندوق کے زور پر ہونے والے اِن پُرتشدد واقعات کی وبا کو ختم کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا، لیوسٹن کمیونٹی اور تمام امریکی اس سب کے مستحق نہیں ہیں۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ رابرٹ کارڈ کی لاش لیوسٹن کے جنوب مشرق میں دریائے اینڈروسکوگن کے قریب لزبن فالز میں ملی۔</p>
<p>امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کی لاش ایک ری سائیکلنگ سینٹر کے قریب سے ملی جہاں وہ برطرف کیے جانے سے قبل ملازمت کرتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/28130916d7b952a.png'  alt='رابرٹ کارڈ ایک آرمی ریزروسٹ تھا&mdash;فوٹو: اے ایف پی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رابرٹ کارڈ ایک آرمی ریزروسٹ تھا—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>حکام نے کہا کہ وہ فوری طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ رابرٹ کارڈ نے خود کو کب گولی ماری، 2 روز قبل پیش آنے والے اس واقعے اور اس کے بعد رابرٹ کارڈ کے مفررو ہونے کے سبب علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔</p>
<p>رابرٹ کارڈ ایک آرمی ریزروسٹ تھا لیکن اسے کسی جنگی زون میں تعینات نہیں کیا گیا تھا، امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس نے حال ہی میں کچھ آوازیں سنائی دینے لگی تھیں جس کے بعد اسے نفسیاتی علاج کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔</p>
<p>یہ حملہ 2017 کے بعد امریکا میں پیش آنے والا اب تک کا سب سے مہلک ترین واقعہ ہے، 2017 میں لاس ویگاس میں ایک پرہجوم میوزک فیسٹیول پر ایک بندوق بردار حملہ آور نے فائرنگ کر دی تھی جس میں 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214642</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Oct 2023 15:59:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/2814530983f934a.png?r=145551" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/2814530983f934a.png?r=145551"/>
        <media:title>حکام نے کہا کہ وہ فوری طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ رابرٹ کارڈ نے خود کو کب گولی ماری—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/281453232c76144.png?r=145551" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/281453232c76144.png?r=145551"/>
        <media:title>حکام نے کہا کہ وہ فوری طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ رابرٹ کارڈ نے خود کو کب گولی ماری—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
