<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:58:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:58:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: فلسطینیوں کی حمایت میں بڑے مظاہروں کے بعد پولیس کا اسکولوں کے گرد گھیرا تنگ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214782/</link>
      <description>&lt;p&gt;غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑے مظاہروں کے بعد لندن میں پولیس افسران کو اسکولوں سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع برطانوی نشریاتی ادارے گارجین کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1784902/uk-police-snoop-around-schools-after-pro-palestine-demonstrations"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یہ خدشات جنم لینے لگے ہیں کہ یہ اقدام اقلیتی برادریوں کے خلاف مزید امتیازی سلوک کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈ ٹیچرز کو ارسال خط کے مطابق لندن پولیس افسران کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں پر اپنے گشت میں اضافہ کریں اور کمیونٹی ٹینشن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اسکول کے عملے کے ساتھ رابطہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گارڈین کے مطابق میٹرو پولیٹن پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کی جانب سے لندن کے چار اضلاع کے اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اس عمل سے انٹیلی جنس اور معلومات جمع کرنے کے فورس کے کام میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسکول عملے کے ساتھ مل کر اسکولوں میں مزید پولیس افسران تعینات کیے جائیں گے تاکہ ان مقامات کو مزید محفوظ  بنانے میں مدد ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے کارکنوں اور کمیونٹی رہنماؤں نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اقلیتی برادریوں کا پولیس پر اعتماد مزید ختم ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ  رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ  لندن پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ان کے افسران نفرت انگیز جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو  بے رحمی کے ساتھ  گرفتار کریں گے لیکن ملزم کے خلاف مقدمہ صرف اس وقت ہی چلایا جا سکتا ہے جب کسی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میٹروپولیٹن پولیس فورس کے سربراہ نے کہا کہ وہ لندن میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کو سنبھالنے کے طریقے پر پولیس پر تنقید کے جواب میں انتہا پسندی کی قانونی تعریف پر نظرثانی کی حمایت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ برطانوی سیاست دانوں نے لندن پولیس پر تنقید کی ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت میں نکالے جانے والی ریلی ریلی میں جہاد کے نعرے لگانے والے لوگوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی، پولیس نے کہا کہ اس جملے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں جب کہ کوئی جرم نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی سنڈے ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا کہ برطانوی حکومت دہشت گردی کے قانون میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف بڑے مظاہروں کے بعد لندن میں پولیس افسران کو اسکولوں سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع برطانوی نشریاتی ادارے گارجین کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1784902/uk-police-snoop-around-schools-after-pro-palestine-demonstrations">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یہ خدشات جنم لینے لگے ہیں کہ یہ اقدام اقلیتی برادریوں کے خلاف مزید امتیازی سلوک کا باعث بنے گا۔</p>
<p>ہیڈ ٹیچرز کو ارسال خط کے مطابق لندن پولیس افسران کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں پر اپنے گشت میں اضافہ کریں اور کمیونٹی ٹینشن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اسکول کے عملے کے ساتھ رابطہ رکھیں۔</p>
<p>گارڈین کے مطابق میٹرو پولیٹن پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کی جانب سے لندن کے چار اضلاع کے اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اس عمل سے انٹیلی جنس اور معلومات جمع کرنے کے فورس کے کام میں مدد ملے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسکول عملے کے ساتھ مل کر اسکولوں میں مزید پولیس افسران تعینات کیے جائیں گے تاکہ ان مقامات کو مزید محفوظ  بنانے میں مدد ملے۔</p>
<p>انسانی حقوق کے کارکنوں اور کمیونٹی رہنماؤں نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اقلیتی برادریوں کا پولیس پر اعتماد مزید ختم ہو گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ  رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ  لندن پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ان کے افسران نفرت انگیز جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو  بے رحمی کے ساتھ  گرفتار کریں گے لیکن ملزم کے خلاف مقدمہ صرف اس وقت ہی چلایا جا سکتا ہے جب کسی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لندن میٹروپولیٹن پولیس فورس کے سربراہ نے کہا کہ وہ لندن میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کو سنبھالنے کے طریقے پر پولیس پر تنقید کے جواب میں انتہا پسندی کی قانونی تعریف پر نظرثانی کی حمایت کریں گے۔</p>
<p>کچھ برطانوی سیاست دانوں نے لندن پولیس پر تنقید کی ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت میں نکالے جانے والی ریلی ریلی میں جہاد کے نعرے لگانے والے لوگوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی، پولیس نے کہا کہ اس جملے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں جب کہ کوئی جرم نہیں ہوا تھا۔</p>
<p>دی سنڈے ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا کہ برطانوی حکومت دہشت گردی کے قانون میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214782</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Oct 2023 12:08:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/30120123576ec06.png?r=120135" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/30120123576ec06.png?r=120135"/>
        <media:title>یہودیوں کی جانب سے اس جملے کو اینٹی سیمیٹک کہا جارہا ہے —فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/301155358290e3c.jpg?r=120236" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/301155358290e3c.jpg?r=120236"/>
        <media:title>لندن پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ان کے افسران نفرت انگیز جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو  بے رحمی کے ساتھ  گرفتار کریں گے —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
