<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:44:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 12:44:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: بیوہ خاتون نے دو بچیوں کو زہر دے کر خودکشی کرلی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215011/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے مضافاتی علاقے گھگر پھاٹک کے قریب مبینہ طور پر بیوہ خاتون نے دو بچیوں کو زہر دینے کے بعد خودکشی کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1785414/widow-poisons-two-daughters-commits-suicide-in-ghaghar-phatak"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک عورت اور دو کمسن بچیوں کی لاشوں کو اسٹیل ٹاؤن تھانے کی حدود میں واقع علاقے قادر نگر سے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ تینوں نے کوئی زہریلی چیز کھائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقے کے ایس ایچ او سلیم رند نے بتایا کہ ڈاکٹر نے دو سالہ ثنا اسلم کو ہسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیا، بعد میں اس کی 30 سالہ ماں، جس کی شناخت نور جہاں کے نام سے ہوئی، دوران علاج انتقال کر گئی، ان کا کہنا تھا کہ چھ سالہ حنا ہسپتال میں زیر علاج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نور جہاں قادر نگر میں کرائے کے ایک چھوٹے سےگھر میں اپنے دو  جسمانی طور پر معذور بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی جو شہر میں رکشہ چلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1139421"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ پولیس نے جائے وقوع سے ملنے والے چائے کے کپ بھی تحقیقات کے لیے تحویل میں لے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ بچیوں کی چیخوں کی آواز سن کر وہ گھر کی طرف دوڑے جہاں انہوں نے نور جہاں کو بیٹیوں سمیت بے ہوش پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار کا کہنا تھا کہ جب ان کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تب متاثرین بولنے کی حالت میں نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا خیال تھا کہ بیوہ عورت نے بچیوں کو زہر دے کر خودکشی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ گھر میں کیا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="کورنگی-میں-جنسی-زیادتی-کے-بعد-نوجوان-لڑکی-قتل" href="#کورنگی-میں-جنسی-زیادتی-کے-بعد-نوجوان-لڑکی-قتل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کورنگی میں جنسی زیادتی کے بعد نوجوان لڑکی قتل&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا تھا کہ’کراچی کے علاقے کورنگی میں گھر سے بچی کی تشدد زدہ لاش بر آمد ہوئی اور پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی کہ قتل سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1785414/widow-poisons-two-daughters-commits-suicide-in-ghaghar-phatak"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 13 سالہ بچی کی لاش کورنگی ڈھائی نمبر سیکٹر 34/2 میں واقع گھر سے برآمد ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ بچی کے چہرے پر تشدد کے واضح نشان موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198525"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس سرجن سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ عصمت دری اور جسمانی تشدد کی نشاندہی ہوئی، تاہم ڈاکٹرز نے کیمیکل معائنے کی رپورٹ آنے تک موت کی اصل وجہ بتانے سے اجتناب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورنگی کے ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بچی کے گھر والوں نے بتایا کہ بچی کئی دنوں سے بیمار تھی، اس کا سینہ اور جگر  متاثر تھا، اہل خانہ کا یہ بھی ماننا تھا کہ بچی کسی غیر مرئی مخلوق کے زیر اثر تھی، وہ اس کا روحانی علاج بھی کروا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اس کیس کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے مضافاتی علاقے گھگر پھاٹک کے قریب مبینہ طور پر بیوہ خاتون نے دو بچیوں کو زہر دینے کے بعد خودکشی کرلی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1785414/widow-poisons-two-daughters-commits-suicide-in-ghaghar-phatak">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک عورت اور دو کمسن بچیوں کی لاشوں کو اسٹیل ٹاؤن تھانے کی حدود میں واقع علاقے قادر نگر سے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ تینوں نے کوئی زہریلی چیز کھائی ہے۔</p>
<p>علاقے کے ایس ایچ او سلیم رند نے بتایا کہ ڈاکٹر نے دو سالہ ثنا اسلم کو ہسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیا، بعد میں اس کی 30 سالہ ماں، جس کی شناخت نور جہاں کے نام سے ہوئی، دوران علاج انتقال کر گئی، ان کا کہنا تھا کہ چھ سالہ حنا ہسپتال میں زیر علاج ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نور جہاں قادر نگر میں کرائے کے ایک چھوٹے سےگھر میں اپنے دو  جسمانی طور پر معذور بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی جو شہر میں رکشہ چلاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1139421"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ پولیس نے جائے وقوع سے ملنے والے چائے کے کپ بھی تحقیقات کے لیے تحویل میں لے لیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ بچیوں کی چیخوں کی آواز سن کر وہ گھر کی طرف دوڑے جہاں انہوں نے نور جہاں کو بیٹیوں سمیت بے ہوش پایا۔</p>
<p>اہلکار کا کہنا تھا کہ جب ان کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تب متاثرین بولنے کی حالت میں نہیں تھے۔</p>
<p>ان کا خیال تھا کہ بیوہ عورت نے بچیوں کو زہر دے کر خودکشی کی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ گھر میں کیا ہوا تھا۔</p>
<h4><a id="کورنگی-میں-جنسی-زیادتی-کے-بعد-نوجوان-لڑکی-قتل" href="#کورنگی-میں-جنسی-زیادتی-کے-بعد-نوجوان-لڑکی-قتل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کورنگی میں جنسی زیادتی کے بعد نوجوان لڑکی قتل</h4>
<p>پولیس کا کہنا تھا کہ’کراچی کے علاقے کورنگی میں گھر سے بچی کی تشدد زدہ لاش بر آمد ہوئی اور پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی کہ قتل سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی’۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1785414/widow-poisons-two-daughters-commits-suicide-in-ghaghar-phatak">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 13 سالہ بچی کی لاش کورنگی ڈھائی نمبر سیکٹر 34/2 میں واقع گھر سے برآمد ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ بچی کے چہرے پر تشدد کے واضح نشان موجود تھے۔</p>
<p>لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198525"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس سرجن سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ عصمت دری اور جسمانی تشدد کی نشاندہی ہوئی، تاہم ڈاکٹرز نے کیمیکل معائنے کی رپورٹ آنے تک موت کی اصل وجہ بتانے سے اجتناب کیا۔</p>
<p>کورنگی کے ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بچی کے گھر والوں نے بتایا کہ بچی کئی دنوں سے بیمار تھی، اس کا سینہ اور جگر  متاثر تھا، اہل خانہ کا یہ بھی ماننا تھا کہ بچی کسی غیر مرئی مخلوق کے زیر اثر تھی، وہ اس کا روحانی علاج بھی کروا رہے تھے۔</p>
<p>پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اس کیس کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215011</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Nov 2023 16:28:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علیڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/01121235a478f8a.jpg?r=162914" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/01121235a478f8a.jpg?r=162914"/>
        <media:title>اہلکار کے مطابق جب ان کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تب متاثرین بولنے کی حالت میں نہیں تھے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
