<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:48:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:48:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: باپ تسلیم نہ کرنے پر شہری نے اپنے کمسن بیٹے کو قتل کردیا، پولیس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215158/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی پولیس نے کہا ہے کہ ایک شہری نے چند سال قبل کسی اور کو گود دیے گئے اپنے بیٹے کی جانب سے اسے بطور باپ نہ پہچاننے پر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعود آباد پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمد علی نیازی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ عامر احمد نے مبینہ طور پر 17 اکتوبر کو اپنے حقیقی بیٹے کو قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش پورٹ قاسم کالونی میں سڑک کنارے پھینک دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بعد میں لاش برآمد کر لی گئی تھی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں پوسٹ مارٹم کیا گیا تاہم فوری طور پر متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1151175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او نیازی نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو عامر نے اپنے لاپتا بیٹے کے بارے میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں ملزم نے بتایا تھا کہ وہ ملیر کے علاقے ملت ٹاؤن کا رہائشی ہے، ان کی اہلیہ اور ان کا تین سالہ بیٹا 22 اکتوبر کو سعود آباد کی لیاقت مارکیٹ میں خریداری کے لیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ان کی بیوی بازار گئی تھی اور اس کے بعد وہ بھی اپنے بیٹے کو اکیلا بائیک پر بٹھا کر ان کے پیچھے چلے گئے تھے البتہ جب وہ واپس آئے تو دیکھا کہ بچہ غائب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفعہ 364۔اے کے تحت اغوا کی اس ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ ہم نے بچے تلاش شروع کی لیکن وہ نہ مل سکا لہٰذا میری استدعا ہے کہ کسی نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر میرے بیٹے کو اغوا کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او محمد علی نیازی نے بتایا کہ جب یہ معلوم ہوا کہ برآمد ہونے والی لاش لاپتا بچے کی ہے تو پولیس نے بدھ کو عامر کو حراست میں لے کر تفتیش کی اور دوران تفتیش ملزم نے اپنے بیٹے کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس کے سسر کے ایک دوست نے ان کے بیٹے کو گود لیا تھا اور ان کے بیٹے کے رضاعی باپ کا تعلق نسبتاً امیر گھرانے سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق بچے کے حقیقی والد نے کہا کہ میں نے اپنے کمسن بیٹے کو قتل کیا کیونکہ بچہ مجھے باپ کے طور پر نہیں پہچان رہا تھا جبکہ ملزم اپنی بیوی سے بھی الگ رہ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی پولیس نے کہا ہے کہ ایک شہری نے چند سال قبل کسی اور کو گود دیے گئے اپنے بیٹے کی جانب سے اسے بطور باپ نہ پہچاننے پر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔</p>
<p>سعود آباد پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمد علی نیازی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ عامر احمد نے مبینہ طور پر 17 اکتوبر کو اپنے حقیقی بیٹے کو قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش پورٹ قاسم کالونی میں سڑک کنارے پھینک دی تھی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بعد میں لاش برآمد کر لی گئی تھی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں پوسٹ مارٹم کیا گیا تاہم فوری طور پر متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1151175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایس ایچ او نیازی نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو عامر نے اپنے لاپتا بیٹے کے بارے میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی تھی۔</p>
<p>ایف آئی آر میں ملزم نے بتایا تھا کہ وہ ملیر کے علاقے ملت ٹاؤن کا رہائشی ہے، ان کی اہلیہ اور ان کا تین سالہ بیٹا 22 اکتوبر کو سعود آباد کی لیاقت مارکیٹ میں خریداری کے لیے گئے تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ان کی بیوی بازار گئی تھی اور اس کے بعد وہ بھی اپنے بیٹے کو اکیلا بائیک پر بٹھا کر ان کے پیچھے چلے گئے تھے البتہ جب وہ واپس آئے تو دیکھا کہ بچہ غائب ہے۔</p>
<p>دفعہ 364۔اے کے تحت اغوا کی اس ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ ہم نے بچے تلاش شروع کی لیکن وہ نہ مل سکا لہٰذا میری استدعا ہے کہ کسی نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر میرے بیٹے کو اغوا کر لیا ہے۔</p>
<p>ایس ایچ او محمد علی نیازی نے بتایا کہ جب یہ معلوم ہوا کہ برآمد ہونے والی لاش لاپتا بچے کی ہے تو پولیس نے بدھ کو عامر کو حراست میں لے کر تفتیش کی اور دوران تفتیش ملزم نے اپنے بیٹے کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔</p>
<p>ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس کے سسر کے ایک دوست نے ان کے بیٹے کو گود لیا تھا اور ان کے بیٹے کے رضاعی باپ کا تعلق نسبتاً امیر گھرانے سے ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق بچے کے حقیقی والد نے کہا کہ میں نے اپنے کمسن بیٹے کو قتل کیا کیونکہ بچہ مجھے باپ کے طور پر نہیں پہچان رہا تھا جبکہ ملزم اپنی بیوی سے بھی الگ رہ رہا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215158</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Nov 2023 21:29:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/0221111088b9f93.jpg?r=211248" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/0221111088b9f93.jpg?r=211248"/>
        <media:title>ملزم نے چند سال قبل اپنے بیٹے کو کسی اور کو گود دیا تھا— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
