<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:58:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:58:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل ایڈ سینس پر کمائی کا طریقہ تبدیل کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215270/</link>
      <description>&lt;p&gt;سب سے بڑی انٹرنیٹ سرچ انجن ’گوگل‘ نے ویب سائٹس پر اشتہارات کی کمائی کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے طریقے سے اشتہارات چلانے والے صارفین کی کمائی بہتر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی جانب سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blog.google/products/adsense/evolving-how-publishers-monetize-with-adsense/"&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر سال نو کے موقع پر یعنی 2024 کے آغاز میں گوگل ایڈ سینس پر کمائی کا طریقہ تبدیل کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس وقت ویب سائٹس پر اشتہارات دکھانے والے افراد اور کمپنیوں کو ’کلک‘ پر پیسے ملتے ہیں جب کہ نئے طریقے کے تحت صارفین کو اشتہارات کو ویب سائٹس پر آویزاں کرنے یا دکھانے پر پیسے ملیں گے، جسے ’امپریشن پیمنٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پر امپریشن پیمنٹ‘ کا مطلب یہ ہے کہ ویب سائٹس مالکان کو ہر امپریشن یعنی پیج ویو پر پیسے ملیں گے، عام طور پر گوگل ایک ہزار پیج ویوز کے حساب سے پیمنٹ فراہم کرتا ہے، تاہم بعض ویب سائٹس میں پیج ویوز کی تعداد کم یا زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت تک گوگل ایڈ سینس پر ’پر کلک پیمنٹ‘ کا طریقہ رائج ہے، یعنی ویب سائٹس مالکان کو گوگل اس وقت پیمنٹ ادا کرتا ہے، جتنی بار ان کے پیج کو کلک کیا جاتا ہے لیکن نئے طریقے کے تحت ویب سائٹ کے کسی بھی حصے یا پیج پر اشتہار نظر آنے پر پیسے ادا کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے طریقے کے تحت ویب سائٹس مالکان کو کوئی تبدیلی نہیں کرنی پڑے گی، گوگل اپنے خود کار نظام کے تحت اشتہارات کو ویب سائٹس پر آویزاں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی گوگل نے واضح کیا کہ نئے طریقہ کار کے تحت اگرچہ آمدنی آسان اور بہتر ہوجائے گی لیکن ویب سائٹس مالکان کی کمائی کے حصے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، انہیں اتنا ہی اشتہارات کمائی کا 68 فیصد حصہ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت گوگل ایڈ سینس پر مونیٹائز ویب سائٹس کو اشتہارات کی کمائی کی مد میں 68 فیصد حصہ ملتا ہے، باقی 32 فیصد حصہ گوگل لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کسی بھی کمپنی سے اشتہارات دکھانے کے پیسے کلک یا پیج ویوز کے حساب سے لیتا ہے، یعنی کمپنیز کو بھی اتنے ہی پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں، جتنی بار ان کا اشتہار دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h6&gt;گوگل ایڈ سینس کیا ہے؟&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://adsense.google.com/intl/ur_pk/start/"&gt;&lt;strong&gt;گوگل ایڈ سینس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ویب سائٹس کو مونیٹائز کرنے کا طریقہ ہے، یعنی یہ پیسے کمانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل ایڈ سینس پر ویب سائٹ کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے ویب سائٹ مالک کو جی میل پر اکاؤنٹ کھول کر ’ایڈ سینس‘ میں جاکر اپنی معلومات فراہم کرنے پڑتی ہے، اس کے بعد گوگل مذکورہ ویب سائٹس کا جائزہ لے کر اسے اشتہارات کے لیے قابل قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ سناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی جانب سے ویب سائٹ کو قابل قبول قرار دیے جانے کے بعد اس پر اشتہارات دکھانے کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور ہر ویب سائٹ پر اس کے علاقے اور پڑھنے والے افراد کی پسند کے مطابق اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل ایڈ سینس کو 2003 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس وقت دنیا بھر کی ویب سائٹس اس طریقہ کار سے سالانہ اربوں ڈالر کی کمائی کر رہی ہیں اور ہزاروں پاکستانی ویب سائٹس بھی اس سے کمائی کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سب سے بڑی انٹرنیٹ سرچ انجن ’گوگل‘ نے ویب سائٹس پر اشتہارات کی کمائی کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے طریقے سے اشتہارات چلانے والے صارفین کی کمائی بہتر ہوگی۔</p>
<p>گوگل کی جانب سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://blog.google/products/adsense/evolving-how-publishers-monetize-with-adsense/">بلاگ پوسٹ</a> میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر سال نو کے موقع پر یعنی 2024 کے آغاز میں گوگل ایڈ سینس پر کمائی کا طریقہ تبدیل کردیا جائے گا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق اس وقت ویب سائٹس پر اشتہارات دکھانے والے افراد اور کمپنیوں کو ’کلک‘ پر پیسے ملتے ہیں جب کہ نئے طریقے کے تحت صارفین کو اشتہارات کو ویب سائٹس پر آویزاں کرنے یا دکھانے پر پیسے ملیں گے، جسے ’امپریشن پیمنٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔</p>
<p>’پر امپریشن پیمنٹ‘ کا مطلب یہ ہے کہ ویب سائٹس مالکان کو ہر امپریشن یعنی پیج ویو پر پیسے ملیں گے، عام طور پر گوگل ایک ہزار پیج ویوز کے حساب سے پیمنٹ فراہم کرتا ہے، تاہم بعض ویب سائٹس میں پیج ویوز کی تعداد کم یا زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس وقت تک گوگل ایڈ سینس پر ’پر کلک پیمنٹ‘ کا طریقہ رائج ہے، یعنی ویب سائٹس مالکان کو گوگل اس وقت پیمنٹ ادا کرتا ہے، جتنی بار ان کے پیج کو کلک کیا جاتا ہے لیکن نئے طریقے کے تحت ویب سائٹ کے کسی بھی حصے یا پیج پر اشتہار نظر آنے پر پیسے ادا کیے جائیں گے۔</p>
<p>نئے طریقے کے تحت ویب سائٹس مالکان کو کوئی تبدیلی نہیں کرنی پڑے گی، گوگل اپنے خود کار نظام کے تحت اشتہارات کو ویب سائٹس پر آویزاں کرے گا۔</p>
<p>ساتھ ہی گوگل نے واضح کیا کہ نئے طریقہ کار کے تحت اگرچہ آمدنی آسان اور بہتر ہوجائے گی لیکن ویب سائٹس مالکان کی کمائی کے حصے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، انہیں اتنا ہی اشتہارات کمائی کا 68 فیصد حصہ ملے گا۔</p>
<p>اس وقت گوگل ایڈ سینس پر مونیٹائز ویب سائٹس کو اشتہارات کی کمائی کی مد میں 68 فیصد حصہ ملتا ہے، باقی 32 فیصد حصہ گوگل لیتا ہے۔</p>
<p>گوگل کسی بھی کمپنی سے اشتہارات دکھانے کے پیسے کلک یا پیج ویوز کے حساب سے لیتا ہے، یعنی کمپنیز کو بھی اتنے ہی پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں، جتنی بار ان کا اشتہار دیکھا جاتا ہے۔</p>
<h6>گوگل ایڈ سینس کیا ہے؟</h6>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://adsense.google.com/intl/ur_pk/start/"><strong>گوگل ایڈ سینس</strong></a> ویب سائٹس کو مونیٹائز کرنے کا طریقہ ہے، یعنی یہ پیسے کمانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔</p>
<p>گوگل ایڈ سینس پر ویب سائٹ کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے ویب سائٹ مالک کو جی میل پر اکاؤنٹ کھول کر ’ایڈ سینس‘ میں جاکر اپنی معلومات فراہم کرنے پڑتی ہے، اس کے بعد گوگل مذکورہ ویب سائٹس کا جائزہ لے کر اسے اشتہارات کے لیے قابل قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ سناتا ہے۔</p>
<p>گوگل کی جانب سے ویب سائٹ کو قابل قبول قرار دیے جانے کے بعد اس پر اشتہارات دکھانے کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور ہر ویب سائٹ پر اس کے علاقے اور پڑھنے والے افراد کی پسند کے مطابق اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔</p>
<p>گوگل ایڈ سینس کو 2003 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس وقت دنیا بھر کی ویب سائٹس اس طریقہ کار سے سالانہ اربوں ڈالر کی کمائی کر رہی ہیں اور ہزاروں پاکستانی ویب سائٹس بھی اس سے کمائی کر رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215270</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Nov 2023 21:41:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/03204600de2f7c4.jpg?r=204632" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/03204600de2f7c4.jpg?r=204632"/>
        <media:title>—فوٹو: گوگل ایڈ سینس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
