<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:02:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:02:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کی بڑھتی طلب، آمد میں کمی کے سبب روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215412/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی اور اکتوبر کے وسط میں کم ترین سطح کو چھونے کے بعد ڈالر نے دوبارہ اڑان بھرنا شروع کردی اور انٹربینک مارکیٹ میں 285 روپے کے قریب پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1786533/strong-demand-dwindling-inflows-fuel-dollars-bull-run"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق درآمد کنندگان کی جانب سے بھاری طلب کے ساتھ ساتھ ملک میں ڈالر کی آمد میں کمی کے پیش نظر گزشتہ 10 روز کے دوران ڈالر کی قدر میں روپے کے مقابلے میں 7.7 روپے یا 2.8 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی کے ماہرین نے کئی وجوہات کی نشاندہی کی ہے جو روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم جانے کا سبب بنیں، انٹربینک مارکیٹ سے وابستہ بینکرز کے مطابق ڈالر کی آمد میں کمی اس رجحان میں تبدیلی بڑی وجہ بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں بہت سے لوگوں کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے بیرونی سرمایہ کاری آنے کی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214552"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینیئر بینکر نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی جانب سے تازہ ترین حملے سیاسی اور اقتصادی ماحول کو مزید غیرمستحکم کر سکتے ہیں، اقتصادی رجحانات کے مستقبل پر ایک قسم کی بےیقینی چھا گئی ہے، حکومت کو معاشی استحکام کا یقین ہے لیکن معیشت کی ترقی تاحال پیچیدہ مراحل پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمد کنندہ عامر عزیز نے کہا کہ حالات معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار نہیں ہیں، ٹیکسٹائل کا شعبہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ کاروبار کرنے کی لاگت خطے میں سب سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال، بالخصوص درآمدی پابندیوں اور پیداواری لاگت کے سبب معاشی چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان ڈالر کی قدر میں اضافے کو اپنے منافع کے لیے حوصلہ افزا علامت سمجھتے ہیں لیکن ڈالر مہنگا ہونے کے سبب مہنگائی خاص طور پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف 2 ماہ قبل 5 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 307 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کرنسی کے غیرقانونی کاروبار اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کریک ڈاؤن کے کچھ مثبت نتائج سامنے آئے اور 16 اکتوبر کو ڈالر 307 روپے ایک پیسے سے کم ہو کر 276 روپے 63 پیسے پر آگیا جو کہ 40 روز میں 30 روپے 47 پیسے یا 9.9 فیصد کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ روپے نے گزشتہ 5 روز کے دوران روپے کی قدر میں 4 روپے کی کمی آئی ہے کیونکہ ایکسپورٹ سے آنے والی آمدنی میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک، 2 اور 3 ماہ کے فارورڈ پریمیم کی آخری بار 200، 300 اور 600 پیسے میں تجارت کی گئی تھی (گزشتہ ہفتے میں یہ 0، 0 اور 90 پیسے پر تھی)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل مامسا نے کہا کہ آنے والے ہفتے میں ڈالر 285 روپے پر مستحکم رہتا دکھائی دے رہا ہے، جس میں کبھی کبھار 288 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے، مارکیٹ پُرامید ہے کہ ایک بار جب آئی ایم ایف پاکستان کو کلین چٹ دے دے گا تو روپے کی قدر بحال ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی اور اکتوبر کے وسط میں کم ترین سطح کو چھونے کے بعد ڈالر نے دوبارہ اڑان بھرنا شروع کردی اور انٹربینک مارکیٹ میں 285 روپے کے قریب پہنچ گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1786533/strong-demand-dwindling-inflows-fuel-dollars-bull-run"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق درآمد کنندگان کی جانب سے بھاری طلب کے ساتھ ساتھ ملک میں ڈالر کی آمد میں کمی کے پیش نظر گزشتہ 10 روز کے دوران ڈالر کی قدر میں روپے کے مقابلے میں 7.7 روپے یا 2.8 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>کرنسی کے ماہرین نے کئی وجوہات کی نشاندہی کی ہے جو روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم جانے کا سبب بنیں، انٹربینک مارکیٹ سے وابستہ بینکرز کے مطابق ڈالر کی آمد میں کمی اس رجحان میں تبدیلی بڑی وجہ بنی۔</p>
<p>مارکیٹ میں بہت سے لوگوں کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے بیرونی سرمایہ کاری آنے کی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214552"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک سینیئر بینکر نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی جانب سے تازہ ترین حملے سیاسی اور اقتصادی ماحول کو مزید غیرمستحکم کر سکتے ہیں، اقتصادی رجحانات کے مستقبل پر ایک قسم کی بےیقینی چھا گئی ہے، حکومت کو معاشی استحکام کا یقین ہے لیکن معیشت کی ترقی تاحال پیچیدہ مراحل پر ہے۔</p>
<p>ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمد کنندہ عامر عزیز نے کہا کہ حالات معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار نہیں ہیں، ٹیکسٹائل کا شعبہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ کاروبار کرنے کی لاگت خطے میں سب سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال، بالخصوص درآمدی پابندیوں اور پیداواری لاگت کے سبب معاشی چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>برآمد کنندگان ڈالر کی قدر میں اضافے کو اپنے منافع کے لیے حوصلہ افزا علامت سمجھتے ہیں لیکن ڈالر مہنگا ہونے کے سبب مہنگائی خاص طور پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صرف 2 ماہ قبل 5 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 307 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کرنسی کے غیرقانونی کاروبار اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>اس کریک ڈاؤن کے کچھ مثبت نتائج سامنے آئے اور 16 اکتوبر کو ڈالر 307 روپے ایک پیسے سے کم ہو کر 276 روپے 63 پیسے پر آگیا جو کہ 40 روز میں 30 روپے 47 پیسے یا 9.9 فیصد کی کمی ہے۔</p>
<p>ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ روپے نے گزشتہ 5 روز کے دوران روپے کی قدر میں 4 روپے کی کمی آئی ہے کیونکہ ایکسپورٹ سے آنے والی آمدنی میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک، 2 اور 3 ماہ کے فارورڈ پریمیم کی آخری بار 200، 300 اور 600 پیسے میں تجارت کی گئی تھی (گزشتہ ہفتے میں یہ 0، 0 اور 90 پیسے پر تھی)۔</p>
<p>فیصل مامسا نے کہا کہ آنے والے ہفتے میں ڈالر 285 روپے پر مستحکم رہتا دکھائی دے رہا ہے، جس میں کبھی کبھار 288 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے، مارکیٹ پُرامید ہے کہ ایک بار جب آئی ایم ایف پاکستان کو کلین چٹ دے دے گا تو روپے کی قدر بحال ہوجائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215412</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Nov 2023 15:00:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/0511284259f0999.png?r=150007" type="image/png" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/0511284259f0999.png?r=150007"/>
        <media:title>2 ماہ قبل 5 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 307 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
