<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:47:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:47:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر پرغیر متحرک اکاؤنٹس کی خرید و فروخت شروع کیے جانے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215541/</link>
      <description>&lt;p&gt;اطلاعات ہیں کہ مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر (ایکس) پر جلد ہی ممکنہ طور پر غیر متحرک ٹوئٹر ہینڈلز یعنی اکاؤنٹس کی خرید و فروخت شروع کی جائے گی، جہاں کسی بھی اکاؤنٹ کو زیادہ سے زیادہ 50 ہزار امریکی ڈالر میں خریدا یا فروخت کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں، حیران کن خبر سامنے آئی ہے،جس کے مطابق ٹوئٹر پر موجود غیر متحرک اکاؤنٹس کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/alexkonrad/2023/11/03/elon-musk-x-has-started-selling-off-old-twitter-handles/?sh=22a5698b5bcf"&gt;&lt;strong&gt;’فوربز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹوئٹر کے ایک ملازم نے نام نہ بتانے کی شرط پر انہیں معلومات فراہم کی، جس کے مطابق جلد ہی ایکس پر ایک ایسا مارکیٹ پلیس فیچر متعارف کرایا جائے گا، جہاں غیر متحرک اکاؤنٹس کی خرید و فروخت کی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت صارفین اپنی مرضی کے وہ اکاؤنٹس خرید سکیں گے جو ٹوئٹر پر پہلے سے ہی موجود ہیں لیکن وہ کسی اور کی ملکیت ہیں یا پھر انہیں بنا کر غیر متحرک چھوڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214426"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی خریدنے والے افراد کوئی ایسا اکاؤنٹ بھی خرید سکیں گے جو ان کے نام سے بنا ہوا ہو یا پھر کوئی بھی کمپنی پہلے ہی اپنے نام کے بنے ہوئے اکاؤنٹ کو خرید سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندازوں کے مطابق ٹوئٹر پر تقریبا ڈیڑھ ارب ایسے اکاؤنٹس ہیں جو غیر متحرک ہیں یا پھر انہیں کبھی کبھار ہی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ان میں سے کروڑوں اکاؤنٹس ایسے ہیں جو ملتے جلتے ناموں سے بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فوری طور پر ٹوئٹر نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی لیکن فوربز کو ٹوئٹر کے حالیہ ملازم کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں بتایا گیا کہ جلد ہی ایکس پر ایسا فیچر پیش کیا جائے گا، جس کے تحت کوئی بھی اکاؤنٹ کو خرید یا فروخت کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں ٹوئٹر ثالث کا کردار ادا کرے گا اور خریدنے اور بیچنے والے کے درمیان اپنی فیس کا کچھ حصہ بھی رکھے گا اور زیادہ سے زیادہ کسی اکاؤنٹ کی قیمت 50 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے لگائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کروڑوں اکاؤنٹس کی قیمت انتہائی کم ہوگی لیکن کسی بھی اکاؤنٹ کی کم سے کم قیمت کیا ہوگی، اس متعلق فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایکس پر مذکورہ فیچر اگلے چند ماہ میں پیش کیا جائے گا، زیادہ تر امکان یہی ہے کہ اسے 2024 کے وسط سے قبل ہی متعارف کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اطلاعات ہیں کہ مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر (ایکس) پر جلد ہی ممکنہ طور پر غیر متحرک ٹوئٹر ہینڈلز یعنی اکاؤنٹس کی خرید و فروخت شروع کی جائے گی، جہاں کسی بھی اکاؤنٹ کو زیادہ سے زیادہ 50 ہزار امریکی ڈالر میں خریدا یا فروخت کیا جا سکے گا۔</p>
<p>جی ہاں، حیران کن خبر سامنے آئی ہے،جس کے مطابق ٹوئٹر پر موجود غیر متحرک اکاؤنٹس کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔</p>
<p>امریکی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/alexkonrad/2023/11/03/elon-musk-x-has-started-selling-off-old-twitter-handles/?sh=22a5698b5bcf"><strong>’فوربز‘</strong></a> کے مطابق ٹوئٹر کے ایک ملازم نے نام نہ بتانے کی شرط پر انہیں معلومات فراہم کی، جس کے مطابق جلد ہی ایکس پر ایک ایسا مارکیٹ پلیس فیچر متعارف کرایا جائے گا، جہاں غیر متحرک اکاؤنٹس کی خرید و فروخت کی جا سکے گی۔</p>
<p>منصوبے کے تحت صارفین اپنی مرضی کے وہ اکاؤنٹس خرید سکیں گے جو ٹوئٹر پر پہلے سے ہی موجود ہیں لیکن وہ کسی اور کی ملکیت ہیں یا پھر انہیں بنا کر غیر متحرک چھوڑ دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1214426"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یعنی خریدنے والے افراد کوئی ایسا اکاؤنٹ بھی خرید سکیں گے جو ان کے نام سے بنا ہوا ہو یا پھر کوئی بھی کمپنی پہلے ہی اپنے نام کے بنے ہوئے اکاؤنٹ کو خرید سکے گی۔</p>
<p>اندازوں کے مطابق ٹوئٹر پر تقریبا ڈیڑھ ارب ایسے اکاؤنٹس ہیں جو غیر متحرک ہیں یا پھر انہیں کبھی کبھار ہی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ان میں سے کروڑوں اکاؤنٹس ایسے ہیں جو ملتے جلتے ناموں سے بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ فوری طور پر ٹوئٹر نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی لیکن فوربز کو ٹوئٹر کے حالیہ ملازم کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں بتایا گیا کہ جلد ہی ایکس پر ایسا فیچر پیش کیا جائے گا، جس کے تحت کوئی بھی اکاؤنٹ کو خرید یا فروخت کر سکے گا۔</p>
<p>اس ضمن میں ٹوئٹر ثالث کا کردار ادا کرے گا اور خریدنے اور بیچنے والے کے درمیان اپنی فیس کا کچھ حصہ بھی رکھے گا اور زیادہ سے زیادہ کسی اکاؤنٹ کی قیمت 50 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے لگائی جائے گی۔</p>
<p>تاہم کروڑوں اکاؤنٹس کی قیمت انتہائی کم ہوگی لیکن کسی بھی اکاؤنٹ کی کم سے کم قیمت کیا ہوگی، اس متعلق فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایکس پر مذکورہ فیچر اگلے چند ماہ میں پیش کیا جائے گا، زیادہ تر امکان یہی ہے کہ اسے 2024 کے وسط سے قبل ہی متعارف کرایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215541</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Nov 2023 20:40:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/0619285556c8763.jpg?r=193000" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/0619285556c8763.jpg?r=193000"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
